Monday, 18 May 2020

شیر شاہ آبادی برادری ..... مختصر تعارف

تحریر:  مشتاق احمد ندوی
...

اس مختصر مضمون میں میری یہ کوشش ہوگی کہ حتی الامکان اس برادری سے متعلق زندگی کے ہر پہلو کو زیر بحث لایا جائے اور کچھ نہ کچھ معلومات فراہم کی جائے۔ لیکن یہ بھی گوش گزار کر دوں کہ ان معلومات کا سرچشمہ میں نے پچھلے پینتیس سالوں (اس وقت میری عمر اڑتیس سال ہے) میں جو کچھ دیکھا اور سنا ہے اس کے سوا کچھ اور نہیں۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ اس برادری کی تاریخ میں مکتوب مواد صفر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بنگال کی تاریخ کو کھنگالنے سے کچھ اہم نکات ہاتھ لگ جائیں، لیکن نہ ہماری بنگلہ اتنی اچھی ہے اور نہ فی الحال اس کے لئے فرصت ہے۔ اس کام کو بنگال کے شیرشاہ آبادی اخوان بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔ اللہ مدد کرے۔

امتیازی خصوصیات :

محنت و جفاکشی، سادہ اور بے تکلف طرز معاشرت، ہمت و بہادری، دیہاتی بود و باش، عام طور پر کھیتی باڑی اور مزدوری پر گزارہ، تعلیمی و اقتصادی و سماجی پچھڑاپن، تھوڑی سی ضد اور قدرے بھولاپن، ساتھ ہی ایک حد تک دین پسندی۔ یہ وہ باتیں ہیں، جنھیں ہم شیر شاہ آبادی کمیونٹی کی نمایاں خصوصیات کہہ سکتے ہیں۔

وجہ تسمیہ :

پہلے شیرشاہ آبادیوں کو الگ الگ علاقوں میں الگ الگ ناموں سے جانا جاتا تھا، جن میں ایک نام شیر شاہ آبادی بھی تھا۔ بعد میں سابق ایم ایل اے مرحوم مبارک حسین صاحب کی کوششوں سے شیر شاہ آبادی نام کو اس کمیونٹی کے مستقل نام کی حیثیت سے رواج ملا اور آگے چل کر اسی نام سے ریزرویشن بھی ملا۔ شیرشاہ آبادی لفظ دراصل بھارت کے عظیم حکمراں شیر شاہ سوری کے ذریعے بنگال کی سر زمین میں بسائے گئے 'شیرشاہ باد پرگنہ' کی جانب نسبت سے وجود میں آیا، جہاں اس کمیونٹی کے پوروج شیر شاہ سوری کے حکم پر بسائے گئے تھے، جو دراصل ان کے بہادر اور جاں نثار فوجیوں میں شمار ہوتے تھے۔

مقام ہائے سکونت :

 بھارت میں اس برادری کے لوگ بنیادی طور پر بنگال، بہار، جھاڑ کھنڈ اور آسام کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ بہار میں سیمانچل کا علاقہ ان کی بڑی آبادی کے لئے جانا جاتا ہے۔ بنگال میں مرشدآباد، مالدہ، اتری اور دکھنی دیناجپور وغیرہ اضلاع میں یہ خاطر خواہ تعداد میں بود وباش اختیار کرتے ہیں۔ جھارکھنڈ میں صاحب گنج اور پاکوڑ کا علاقہ ان کی رہائش کے باب میں قابل ذکر ہے۔ آسام میں درنگ، برپیٹا، گوال پاڑہ اور دھوبڑی وغیرہ میں ان کی خستہ حال آبادی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ بھارت سے باہر ان کی کچھ آبادی بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی ہے۔ لیکن میرے پاس ان کے بارے میں معلومات کی کمی ہے۔ آج کے عالم گیریت کے زمانے میں شیرشاہ آبادی جیالے روزی روٹی کی تلاش میں بھارت کے مختلف علاقوں میں جاکر آباد ہو گئے ہیں۔ اس لیے یکادکا بہت سی جگہوں میں مل جاتے ہیں۔

زبان :

شیرشاہ آبادیوں کی زبان بنیادی طور پر بنگلہ ہے۔ لیکن سیمانچل کے شیرشاہ آبادی چوں کہ سالہا سال سے بنگلہ زبان کی تعلیم و تعلم سے کٹے ہوئے ہیں، اس لیے ان کی زبان نے بنگلہ اور ہندی شبداولی پر مشتمل ایک مکمل بولی کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اسے ہم شیرشاہ آبادی بولی کہہ سکتے ہیں، جسے ہمارے کچھ اخوان ترک کرکے اردو اپنا لینے کی وکالت کرتے ہوئے گاہے بگاہے نظر آتے ہیں۔ ان کا یہ نظریہ کہاں تک صحیح اور واقعیت کا حامل ہے، اس پر بات پھر کبھی ہوگی، لیکن شیرشاہ آبادی بولی کو فروغ دینے اور بولی کی حیثیت سے منوانے کے لیے ایک کوشش یہ ہو سکتی ہے کہ اسے دیوناگری رسم الخط میں لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔۔۔۔

رہن سہن اور سماجی زندگی : 

شیر شاہ آبادی برادری تعلیمی، تہذیبی اور اقتصادی اعتبار سے ایک پس ماندہ کمیونٹی ہے، جس کے اثرات اس کے رہن سہن پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہمارے یہاں جوائنٹ فیملی سسٹم رائج ہے اور اکثر پریوار میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ مکان کچھ دن پہلے تک عام طور پر پھوس کے ہوتے تھے۔ اوپر کھر کی چھاؤنی، نیچے سنٹھی کی ٹٹی اور بانس کی کھونٹیاں۔ اناج رکھنے کے لیے مٹی کی بڑی بڑی کوٹھیاں بنتی ہیں، جن میں سے ایک ایک کوٹھی میں بیس بیس پچیس پچیس من اناج آ سکتا ہے۔ پہلے عورتیں فرصت کے لمحوں میں کیتھا سیتی تھیں، جو شیرشاہ آبادی عورتوں کا ایک قابل قدر فن ہے۔ اسی طرح ہماری ماؤں بہنوں کے ہاتھوں سے بنے گئے دھاگوں کے ہاتھ پنکھے بھی خوب صورتی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہوا کرتے تھے۔
شیر شاہ آبادی ایک سادگی پسند قوم رہی ہے اور اس کی یہ سادگی پسندی اس کے بود و باش اور طرز معاشرت سے جھلکتی ہے۔ مثال کے طور پر ان کے شادی بیاہ کے رسوم کو دھیان سے دیکھیں۔ پہلے ہمارے یہاں نکاح سے پہلے لڑکی والوں کے یہاں کچھ کھانا پینا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ بارات کو بھی کھلانے کا رواج نہیں تھا۔ لڑکے والے اپنے ساتھ بتاشہ اور پان لے جاتے تھے۔ عقد خوانی کے بعد بتاشہ بٹوا دیا جاتا اور پان کی کھلی بناکر کھا لیا جاتا اور بس۔ ہاں! شادی کے بعد کھیر کاچی کے نام سے دونوں طرف کے لوگوں کا ایک دوسرے کے یہاں جاکر دعوت سے لذت یاب ہونے کا رواج تھا، لیکن آج کل شادی میں اتنے تکلفات رائج ہو چکے ہیں کہ اس کے بعد کھیر کاچی کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔

شیر شاہ آبادی سماج میں متعدد سماجی تقریبات رائج ہیں، جن میں تھوبڑا، بیبھار، آدا سینی، ختنہ اور کھیر کاچی وغیرہ اہم ہیں۔

پہناوے کی بات کریں تو مرد عام طور پر لنگی، گنجی، کرتا اور گمچھا استعمال کرتے ہیں، جب کہ عورتیں ساڑی، بلاؤز اور سایہ پہنتی ہیں۔ عورتیں عام طور پر گھر سے نکلنے پر برقعہ پہنتی ہیں۔

اس کمیونٹی کی سماجی زندگی میں 'موڑول' کا کردار بڑا اہم رہا ہے، جو شادی بیاہ، مختلف تقریبات، نزاعی معاملوں میں صلح و صفائی سے لے کر صدقة الفطر اور چرم قربانی سے حاصل شدہ رقوم کی تقسیم تک میں نمایاں کردار ادا کرتے آئے ہیں۔

کھان پان :

شیر شاہ آبادیوں کے کھان پان میں بڑی سادگی پائی جاتی ہے، جس میں ان کی قناعت پسندی اور جفاکشی جیسے اوصاف کے ساتھ ساتھ مالی عدم فراوانی کا بھی بڑا دخل رہا ہے۔ پھر بھی ان کے یہاں کئی ایسے پکوان موجود ہیں، جو خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں کچھ پکوانوں کا ذکر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ تو لیجیے چند شیرشاہ آبادی پکوانوں کے بارے میں کچھ غیر مربوط باتیں حاضر خدمت ہیں:

ہاتھ کی روٹی : ہمارے یہاں شروع سے مٹی کے توے میں ہاتھ کی بڑی بڑی روٹیاں بنتی رہی ہیں اور آج بھی بہت سے بلکہ اکثر گھروں میں بنتی ہیں۔ آج بھی ہمارے بوڑھوں اور ادھیڑوں کے سامنے اگر کلائی، چاول اور گیہوں کے مکس آٹے کی روٹی کا ذکر چھیڑا جائے، تو منہ میں پانی آنے کے ساتھ ساتھ فورا وہ منظر آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے، جب ماں یا بھابھی روٹی بنا رہی ہوتی اور گھر کے سارے لوگ چولھے کے کنارے اکڑوں بیٹھ کر دھنیا کی چٹنی اور گرم روٹی کے ساتھ ساتھ مزے مزے کی گفتگو کا آنند لیا کرتے تھے!!

اندھرسا : ہمارے یہاں جو پکوان شروع سے بہت مقبول رہے ہیں، ان میں سے ایک اندھرسا ہے۔ تھوبڑا کھلانا ہے تو اندھرسا، عید ہے تو اندھرسا، بقرعید ہے تو اندھرسا، مہمان آگیا تو ا ندھرسا اور بیٹی کے یہاں کوئی کھانے کی چیز بھیجنی ہے تو اندھرسا۔

پیٹھا : شیر شاہ آبادیوں کے یہاں ایک خاص قسم کا پیٹھا بنتا ہے۔ چاول کے آٹے کی لوئی اور اس کے اندر چنے کے آٹے اور گڑ کا حلوہ۔ بھاپ پر تیار ہونے والا یہ پکوان جاڑے کے موسم میں بنتا ہے۔ پہلے اس کے لیے شادی شدہ بیٹیوں اور بہنوں کو جمع کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا۔ کبھی کبھی آس پڑوس کی عورتوں کو بھی شامل کر لیا جاتا۔ کچھ بزرگ عورتیں پیٹھا بنانے سے پہلے گھر آنگن کی لپائی پوتائی اور خاص صاف صفائی کا اہتمام کرتی تھیں۔ جس دن پیٹھا بنتا گھر میں کسی تقریب کا سا سماں ہوتا۔

جھال : یہ ایک طرح کی کھیر ہے، جو زچگی کے بعد عورت کو کھلائی جاتی ہے، لیکن صرف عورت ہی نہیں بلکہ بہت سے مرد حضرات بھی اس کے دل دادہ ہوتے ہیں۔ اس میں چاول کے آٹے کی 'پیٹھیلی' کے ساتھ ساتھ کئی طرح کے مسالے بھی ڈالے جاتے ہیں، تاکہ زچگی کا زخم جلد سے جلد بھر جائے اور بچے کو دودھ کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کھیرسے : یہ شاید 'کھیر سا' یعنی کھیر جیسی چیز کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اس کا مقام شیرشاہ آبادیوں کے میٹھے پکوانوں میں سب سے اہم ہے۔ با ئینے اور کھیر کاچی میں اس کا ہونا ضروری مانا جاتا ہے۔ کسی معزز مہمان خاص طور سے 'بیہاے' کی آمد کے وقت بھی اس کے بغیر خاطر تواضع کو ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے اپنے بچپن میں کئی ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو گملا کا گملا کھیرسے انڈیلنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ اس طرح کے لوگ شاذ و نادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔

کھیر : ویسے تو کھیر ایک ایسا پکوان ہے جو شاید ہی بھارت کے کسی گھر میں نہ بنتی ہو، لیکن ہمارے یہاں جو کھیر بنتی آئی ہے، وہ دوسروں کے یہاں بننے والی کھیر سے بڑی حد تک الگ ہے۔ گڑ اور چاول کے آٹے سے بننے والی اس کھیر میں عام طور سے 'آئینکھے' ملایا جاتا ہے، جس سے اس کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ پہلے تھوبڑا میں کھیر اور اندھرسا کھلایا جاتا تھا۔ اس کھیر میں کچھ لوگوں کو چاول ملاتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

 ⭐ چتائی : آم کا موسم ہو اور چتائی نہ بنے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ویسے بھی جس طرح کھیر اندھرسا کے بنا پھیکی ہے، اسی طرح کھیرسے چتائی کے بنا بے لطف ہے!

آٹے کا لڈو : یہ عام طور سے زچگی کے بعد عورت کو دیا جاتا ہے۔

شیر شاہ آبادیوں کی عام غذا روٹی چاول ہے۔ صبح لہاری کے روپ میں روٹی اور  دوپہر و شام کو چاول۔ کہیں کہیں رات کو روٹی بھی۔ ایک دور تھا کہ گھر میں دو وقت چاول نہ بننا عیب سمجھا جاتا تھا۔ بلکہ باسی بھات بھی بہت شوق سے کھایا جاتا تھا۔ لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ لیکن مچھلی بھات  آج بھی مقبول ترین ڈش ہے۔

معاشی حالت :

اس کمیونٹی کی معاشی حالت نہایت ہی خستہ اور دگر گوں ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا گزارہ دینک مزدوری سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد کھیتی باڑی کا نمبر آتا ہے۔ اس کمیونٹی کے لوگوں کو کھیتی کے کاموں میں بڑی مہارت حاصل ہے۔ جی توڑ محنت اور لگن کی بنیاد پر دوسری کمیونٹی کے مقابلے میں ڈیڑھ سے دو گنا تک فصل اگا لیتے ہیں۔ لیکن ایک تو ان کے پاس زمین بہت کم ہوتی ہے، اس لیے زیادہ تر بٹائی اور لیز پر زمین لے کر کھیتی کرنی پڑتی ہے اور پھر کسانوں کے مسائل سے سرکار کی بے رخی الگ ہے۔ ایسے ان کی حالت کیا ہوگی اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی پچھلے کچھ سالوں میں معاشی صورت حال کے تعلق سے امید ایک کرن دکھائی دینے لگی ہے۔

تعلیمی حالت :

اس کمیونٹی کی تعلیمی حالت معاشی حالت سے بھی زیادی خستہ ہے۔ میں سیمانچل کی بات کروں تو میری نظر میں دسیوں ایسے گاؤں ہیں، جو پانچ سو گھروں سے زیادہ آبادی پر مشتمل ہیں، لیکن گریجویٹ افراد کی تعداد دو چار سے زیادہ نہیں ہے۔ بلکہ میٹریکولیشن پاس لوگوں کو بھی انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ تکنیکی تعلیم کا تو تصور بھی مت کیجیے۔ زیادہ تر لوگ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے امتحانات میں شریک ہونے کو تعلیم سمجھے ہوئے ہیں۔ جب کہ یہ دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسکول کے مقابلے میں مدارس میں پڑھانے کا رجحان زیادہ ہے۔ لیکن یہاں بھی کوالٹی کا اس قدر فقدان ہے کہ الامان والحفیظ۔۔۔!!

لیکن اگر میں یہ عرض نہ کر دوں تو ناسپاسی ہوگی کہ پچھلے کچھ سالوں میں دھیمی ہی سہی، لیکن بدلاؤ کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے۔ اللہ کرے ہم اپنی آنکھوں سے بلاؤ کا بیار دیکھ سکیں۔

سیاسی حالت :

کسی جمہوری ملک میں جو کمیونٹی سماجی، معاشی اور تعلیمی اعتبار سے حاشیے پر کھڑی ہو، اس کی سیاسی پوزیشن کیا ہوگی، یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ بس میں یہاں ایک مثال پیش کر کے آگے بڑھ جاؤں گا۔ آج بہار کے سیمانچل علاقے کے اضلاع کٹیہار، پورنیہ، ارریہ، کشن گنج اور سپول کی کل آبادی کا ایک بہت حصہ شیر شاہ آبادیوں پر مشتمل ہے۔ لیکن اس کے باوجود سیاسی نمائندگی میں ان کا حصہ صفر ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس وسیع علاقے میں آج ان کی نمائندگی کے لیے کوئی شیر شاہ آبادی ایم پی یا ایم ایل اے موجود نہیں ہے، بلکہ مضبوط سیاسی پارٹیاں اور سیاسی اتحاد انھیں ٹکٹ دینے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ پھر، یکا دکا کسی کو مل بھی جائے، تو کئی بار لوگ انھیں ووٹ دینے تک سے کتراتے ہیں۔

عقیدہ اور منہج : 

شیر شاہ آبادیوں کی اکثریت اور خاص کر سیمانچل کے علاقے میں بسنے والے اٹھانوے فی صد شیر شاہ آبادی خالص کتاب وسنت کے ماننے والے اور اہل حدیث ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ شروع سے سپاہیانہ صلاحیتوں کے حامل اور جفاکش طبعیت کے مالک رہے ہیں۔ چنانچہ جب بیس ویں صدی کے نصف اول میں شروع میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے تحریک اصلاح و جہاد چلائی، تو شیر شاہ آبادیوں نے اسے دل و جان سے قبول کیا۔ متحدہ صوبہ بنگال کی اہمیت کے پیش نظر تحریک کی جانب سے مولانا عنایت علی صادقپوری وہاں لگ بھگ بارہ سال تک مبلغ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ وہ ہر گاؤں میں جاتے اور بنیادی طور ہر دو مورچوں پر کام کرتے: عقیدہ و اعمال کی اصلاح اور سرحد پار انگریزوں سے بر سر پیکار مجاہدین کو مضبوط کرنے کے لئے ماحول بنانا۔ اس ضمن میں مولانا انگریزوں سے لڑنے کی اہمیت بتلاتے۔ جہاد پر ابھارتے۔ مجاہد بھرتی کرکے سرحدپار بھیجتے اور چندہ اکٹھا کرکے مجاہدین کے لئے ارسال کرتے۔ مولانا پائیدار انداز میں کام کرنے کے لیے کسی با صلاحیت آدمی کو مسجد کا امام متعین کردیتے۔ وہ امام ہوتے۔ قاضی ہوتے۔ مصلح ہوتے۔ چندہ اکٹھا کرنے کے ذمے دار بھی ہوتے۔ پھر علاقائی ذمے دار بھی ہوتے جو وسیع پیمانے پر کام کرتے۔ اسی تحریک کی برکت سے  اس علاقے کی بہت بڑی آبادی شرک و بدعت سے تائب ہوکر توحید و اطاعت کے دامن میں آ گئی۔ مولانا عنایت علی کے علاوہ اس علاقے کو شرک وبدعت سے پاک اور توحید و سنت کا گہوارہ بنانے کے لیے کئی عظیم ہستیوں نے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ جن میں سب سے اہم نام مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی کا ہے۔ شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین محدث د ہلوی کے شاگردوں کی خدمات کو بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔


تاریخی پس منظر:

شیرشاہ آبادیوں کی تاریخ کے بارے میں زیادہ تر باتیں پردہ خفا میں ہیں۔ اللہ غریق رحمت کرے مرحوم مبارک صاحب کو۔ انھوں نے بڑی جد وجہد کے بعد یہ انکشاف کیا کہ اس برادری کے لوگ ایک زمانے میں متحدہ بھارت کے عظیم حکم راں شیرشاہ سوری کی فوج کا اہم حصہ ہوا کرتے تھے۔ اور انھوں نے ہی ان لوگوں کو بسایا تھا۔ بعد میں سوری حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو ان لوگوں کو بڑی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی مناسبت سے سابق ایم ایل اے مرحوم مبارک حسین صاحب نے انھیں شیر شاہ آبادی کا نام بھی دیا۔

لیکن یہاں دو باتیں قابل ذکر ہیں:

اول : کچھ لوگ دو قدم آگے بڑھتے ہوئے شیرشاہ آبادیوں کو شیر شاہ سوری کا ونشج قرار دینے لگتے ہیں۔ جب کہ متعدد وجوہات کی بنیاد پر ایسا درست نہیں لگتا۔

دوم : کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شیرشاہ سوری نے انھیں پورنیہ اور اس کے آس پاس ہے علاقوں میں بسایا تھا۔ لیکن یہ دعوی بھی حقیقت سے دور معلوم ہوتا ہے۔ کیوں کہ میری نظر میں پورنیہ اور اس کے آس پاس کے اضلاع میں شیرشاہ آبادیوں کی کوئی ایسی بستی نہیں ہے جو صدیوں پرانی ہو۔ میری ناقص معلومات کے مطابق سیانچل کے شیرشاہ آبادیوں کا سابقہ مسکن متحدہ بنگال کے مرشدآباد ضلع کا لال گولہ اور اس کے آس پاس کا علاقہ ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیس یوں صدی کے اوائل میں یہ لوگ گنگا ندی کے مسلسل کٹاؤ سے تنگ آکر نہایت بے سروسامانی کے عالم میں نقل مکانی کرکے ادھر بس گئے تھے۔

ایک ضروری وضاحت:

ہمارے ایک فاضل دوست نے جو بحث و تحقیق کے میدان کے سشہسوار ہیں اور اللہ نے انھیں بڑی متنوع صلاحیتوں سے نوازا ہے، شیر شاہ آبادیوں کی اصل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے: "یہ قوم ہندوستان وارد کیسے اور کہاں سے ہوئی؟ اس سوال کے جواب کے طور پر میں نے دو روایتیں سن رکھی ہیں۔ لیکن تلاش بسیار کے باوجود مجھے آج تک ان کی سندیں نہیں مل سکی ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ ہماری قوم افغاستان سے ہجرت کرکے یہاں آئی ہے۔ اور اس حیثیت سے ہم افغانی النسل ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری روایت یہ ہے کہ ہم عربی النسل قوم ہیں۔۔۔۔۔۔" وہ آگے لکھتے ہیں: "کیی وجوہات کی بنیاد پر مجھے یہی روایت مضبوط لگتی ہے۔" پھر انھوں نے متعدد ایسے اسباب بیان کیے جن کی وجہ سے انھیں شیرشاہ وادیوں کا عربی النسل ہونا راجح لگتا ہے۔

لیکن ان دو روایتوں سے قطع اس مسئلے میں بحث و تحقیق کا ایک اور زاویہ ہے۔

1500 قبل مسیح کی بات ہے کہ بھارت میں آریاؤں کا ورود ہوا۔ انھوں نے شمالی بھارت سے دراوڑوں کو جنوب کی طرف کھدیڑنے کے بعد یہاں بادی النظر میں ایک عظیم تہذیب و تمدن کی بنیاد ڈالی۔ لیکن اس کی تہہ میں کئی ایسے لاوے پک رہے تھے، جو اس کے لیے حد درجہ گھاتک تھے۔ انھیں میں سے ایک لاوا ذات پات کے نظام کا تھا۔ بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ ایک شودر کسی براہمن بستی سے چپل پہن کر نہیں گزر سکتا تھا۔ چھتری کھول کر نہیں نکل سکتا تھا۔ ان کے کنویں سے پانی نہیں لے سکتاتھا۔ اسے مندر میں گھسنے کی اجازت نہیں تھی۔ مقدس کتابیں چھونے، پڑھنے بلکہ سننے تک کی اجازت نہیں تھی۔ کسی نے غلطی سے سن لیا، تو سخت سزاؤں کا مستحق قرار پاتا تھا۔

شودروں کے لیے حالات دن بہ دن بد سے بد تر ہوتے جا رہے تھے کہ نویں صدی ہجری کے اواخر میں عرب داعی حضرات اسلام کا عالم گیر پیغام لے کر یہاں وارد ہوئے۔ یہاں جملہ معترضہ کے طور ایک بات عرض کر دوں کہ مسلمان بھارت کی سرزمین میں فاتح کی حیثیت سے قدم رکھنے سے پہلے داعی کی حیثیت سے پہنچ چکے تھے۔ یہاں معتد بہ تعداد میں صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ان کے بعد علما اور صلحا تشریف لاتے رہے اور لوگوں کو اسلام کی صاف شفاف تعلیمات سے رو شناس کراتے رہے۔ ویسے بھی یہاں کے لوگوں کے لیے اسلام کی توحید اور مساوات پر مبنی تعلیمات کے اندر کشش کا سارا سامان موجود تھا۔ خاص طور سے صدیوں سے دبے کچلے شودر طبقے نے جب یہ دیکھا کہ اسلام چھوت چھات اور سماجی بھید بھاؤ کی آلایشوں سے پاک مذہب ہے۔ کامل مساوات کی گارنٹی دیتا ہے۔ یہاں سب لوگ مسجد میں داخل ہو سکتےہیں۔ اذان دے سکتے ہیں۔ نماز میں ایک ہی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔ کوئی بھی امام بن سکتا ہے۔ کوئی بھی قرآن پڑھ اور چھو سکتا ہے۔ کھان پان، رہن سہن، شادی بیاہ میں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے۔ تو اسلام کو انھوں نے ایک رحمت سمجھا۔ غلامی اور ذلت آمیز زندگی سے دامن چھڑانے کے لیے بے تاب ہو گئے اور بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوکر عزت و افتخار سے ہم کنار ہونے لگے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ جزیرہ نماے ہند پوری مسلم دنیا میں مسلم آبادی کا ایک بڑا مسکن بن گیا۔

یہاں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہاں کی مسلم آبادی کا ایک حصہ وہ بھی ہے، جو عرب، ترکستان، افغانستان اور ایران وغیرہ سے آکر یہاں آباد ہوا ہے، لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ باہر سے آنے والوں کی تعداد ان لوگوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، جو یہاں پہلے سے بسے ہوئے اور اسلام کی خوبیوں سے متاثر ہوکر اسلام میں داخل ہوئے تھے۔

اس لیے یہ ایک مستقل تحقیق طلب مسئلہ ہے کہ ہمارے آبا و اجداد کا تعلق کس گروہ سے تھا؛ باہر سے آنے والے گروہ سے یا یہاں پہلے سے موجود گروہ سے؟؟ اور اگر باہر سے آنے والے گروہ سے تھا تو ان میں سے کس فریق سے ہمارا تعلق ہے؛ عربوں سے، افغانیوں سے، ترکوں سے یا ایرانیوں سے؟؟

میرے خیال سے یہ مشکل کام ہے۔ وسیع پیمانے پر بحث و تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔ شاید اللہ اس کی کوئی صورت پیدا کردے۔
تحریک آزادی میں حصے داری :

تحریک آزادی میں شیرشاہ آبادیوں کی حصے داری بہت دل چسپ موضوع ہے۔ تشنہ تحریر ہونے کی وجہ سے اس سلسلے کا کافی کچھ مواد ضائع ہو چکا ہے۔ لیکن آج بھی بہت کچھ موجود ہے۔ میرے پاس اتنا مواد موجود ہے کہ ایک کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ دعا کریں کہ اللہ جلدی اسے ترتیب دینے کی توفیق ارزاں کرے۔ سر دست یہ بتا دوں کہ وہابی تحریک جس کا ذکر پیچھے آچکا ہے اور جس کے بارے میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے کہا تھا کہ اگر بھارت کی آزادی کی خاطر پیش کی جانے والی تمام برادران وطن کی قربانیوں کو ترازو کے ایک پکڑے میں رکھا جائے اور علمائے صادقپور کی قربانیوں کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو علمائے صادقپور کا پلڑا جھک جائے گا، اس تحریک کو آگے بڑھانے اور کام یابی سے ہم کنار کرنے کیے شیرشاہ آبادیوں نے بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ ایک طرف شہیدین کے بعد علمائے صادقپور نے اسے قیادت فراہم کی، تو دوسری شیر شاہ آبادی حضرات ان کے دست و بازو بن کر کھڑے رہے۔ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ علمائے صادق پور کے بعد اس تحریک میں سب سے اہم حصے داری کن لوگوں کی رہی ہے، اگر اس نکتے پر بات ہو تو یقینا بنگال کے شیر شاہ آبادی جیالوں ہی کا نام آئے گا۔ وہابی تحریک پر لکھی گئی کتابیں بنگالی مجاہدین کی خدمات سے بھری پڑی ہیں۔ بتاتا چلوں کہ آج بھی ہمارے یہاں اجتماعی کاموں کے لیے مٹھی وصول کرنے کا رواج ہے۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ اسے مولانا عنایت علی نے سرحد پار انگریزوں سے برسر پیکار مجاہدین کی اعانت کے لیے رائج کیا تھا؟ ایک اور  پتے کی بات بتاتا ہوں۔ ہمارے یہاں بہت سے ایسے لوگ تھے، جو غازی کے لقب سے مشہور تھے۔ یہ سارے لوگ وہابی تحریک سے جڑے ہوئے لوگ تھے۔ خود ہمارے یہاں دو افراد تھے: کالو غازی اور دھولو غازی۔ ان کے اہل خاندان آج بھی ہمارے یہاں آباد ہیں۔ یہ دونوں سرحد پار جہاد کے لیے جا چکے تھے۔ کالو غازی اٹھارہ سال سرحد پار رہ چکے تھے۔ ان کو میرے ابا نے دیکھا ہے۔ بڑے اصول پسند اور دین دار انسان تھے۔ اس طرح کے اور بھی لوگ کسی کی جانکاری میں ہوں تو معلومات فراہم کریں گے۔

شیر شاہ آبادیوں کی تحریک آزادی میں حصے داری کا یہ ایک گوشہ ہے۔ تفصیلی میں جانے کا یہ موقع نہیں ہے۔ اسے کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔

یہ چند سرسری باتیں تھیں، جو یہاں عرض کی گئیں۔ دعا کیجیے کہ اللہ تفصیلی انداز میں کچھ لکھنے کا موقع عنایت کرے۔ آمین
مکمل تحریر >>

Sunday, 17 May 2020

صاع کیا ہے؟

تحریر:  ابو تقی الدین ضیاء الحق سیف الدین
......
اسلام دین فطرت ہے اور اس کے مقرر کردہ پیمانے بھی سادہ اور فطری ہیں. 
1 -"صاع" غلہ ناپنے کا ایک پیمانہ ہے (وہ لوہے کا بھی ہوسکتا اور لکڑی کا بھی).
"صاع" ماپ (ناپ) کا پیمانہ ہے، وزن کا نہیں، جب اسے اوزان میں لایا جاتا ہے تو اجناس کی مختلف اقسام کی بنا پر اس میں کمی بیشی ہوجاتی ہے، مثلاً سوکھی کھجور کا وزن کم ہوگا، گیہوں کا دانہ اچھا ہو تو اس کا وزن زیادہ ہوگا، وہیں آٹے کا وزن کم ہوگا، ہلم جرا.
اسی طرح کا پیمانہ ہمارے یہاں بھی پایا جاتا تھا، بچپن میں ہمارے گھروں میں چاول کے لئے "کاٹھا" (ایک کیلو وزن تقریباً) اور دھان اور گیہوں کے لئے "آڑھی"( ایک بڑی ٹوکڑی پانچ کیلو تقریباً) کا استعمال کیا جاتا تھا ،اب یہ چیزیں ناپید ہوگئیں ہیں. 
2 - ایک "صاع" میں چار "مد" ہوتے ہیں(مد کی تفصیل نمبر 3 میں آرہی ہے).
یعنی ایک "صاع" تقریباً چار لپیں(وہ مقدار جو دونوں ملی ہوئی ہتھیلیوں میں آجائے).
"لپ" کو ہماری زبان میں "کھابول" کہتے ہیں.
یعنی چار "کھابول" میں ایک "صاع". 
3 - "مد" : ایک قدیم پیمانہ ہے.
"مَدَّ يَمُدُّ مدًّا" کا معنی "پھیلانا" ہے، لغت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ : "أن أصل المد بأن يمد الرجل يديه فيملأ كفيه طعاما" - "یعنی مد کی اصل یہ ہے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور ہتھیلیوں میں غلہ بھرے".
بعض کتب لغت میں لکھا ہے:"المد بالضم مكيال وهو.... أو ملء كف الإنسان المعتدل إذا ملأهما ومد يده بهما، وبه سمي مدا". 
"یعنی" مُد" (پیش کے ساتھ) پیمائش کا پیمانہ... درمیانے (جو کوتاہ قد ہو اور نہ ہی بہت لمبا، جن کی ہتھیلیاں نہ چھوٹی ہوں اور نہ بڑی) انسان کی ہتھیلیاں ہیں جب وہ ان دونوں کو بھر لے اور ہتھیلیاں پھیلا دے، اسی وجہ سے اسے "مد" کہا جاتا ہے". 
امام نووی نے لکھا ہے : "وقال جماعة من العلماء: الصاع أربع حفنات بكفى رجل معتدل الكفين" - "یعنی علما کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ ایک صاع میں درمیانی ہتھیلیوں والے آدمی کی چار لپیں ہوتی ہیں".
داودی نے کہا ہے :
"معياره الذي لايختلف: أربع حفنات بكفى الرجل الذي ليس بعظيم الكفين ولاصغيرهما، إذ ليس كل مكان يوجد فيه صاع النبي - صلى الله عليه وسلم -" 
" یعنی اس کا معیار جو مختلف نہیں ہوتا ایسے آدمی کے دونوں ہاتھوں کی چار لپیں ہیں جس کی ہتھیلیاں نہ بڑی ہوں اور نہ چھوٹی، اس لئے ہر جگہ میں رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - کا صاع نہیں پایا جاتا". 
4- معلوم ہوا ایک "صاع" میں درمیانی ہتھیلیوں والے آدمی کی چار لپیں ہوتی ہیں.
سعودی عرب کے مشہور عالم دین اور مفتی اعظم شیخ ابن باز - رحمہ اللہ - اور ہیۃ کبار العلما کے اراکین نے بھی یہی فرمایا ہے کہ صدقہ الفطر ادا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ معتدل (جو آدمی نہ بہت چھوٹا ہو اور نہ ہی بہت لمبا) ہاتھوں والا آدمی دونوں ہاتھوں کی لپیں چار دفعہ بھر کر دے.
آپ بھی ایک بار ترازو سے نہ تول کر اپنی دونوں ہتھیلیوں سے بھر کر ضرور دیں، اور تجربہ کرکے دیکھیں.
5- کتب فقہ اور بعض کتب لغت میں لکھا ہے کہ : صاع دو ہیں :
أ-صاع مدنی:
مدینہ کا صاع معتبر ہے، اور اس کا صحیح اندازہ پانچ رطل اور ایک رطل کا تیسرا حصہ(ایک تہائی) ہے اور رطل کا مشہور اندازہ ادھ سیر ہے، اس حساب سے "صاع" دو سیر دس چھٹانک تین تولہ چار ماشے ہوتا ہے.
(جدید وزن کے مطابق ایک صاع اڑھائی سے تین گلو کرام کے بیچ ہے). 
ب- صاع عراقی :
اہل عراق کے حساب سے ایک "صاع" آٹھ رطل کے برابر یا دو سیر چودہ چھٹانک چار تولہ کے برابر ہوتا ہے، علامہ فیروز آبادی نے لکھا ہے کہ : "المُد بالضم مكيال هو رطلان أو رطل وثلث أو ملء كف الإنسان المعتدل إذا ملأهما ومد يده بهما، وبه سمي مُدا، وقد جربت ذلك فوجدته صحيحا ".
"یعنی "مُد" (پیش کے ساتھ) پیمائش کا پیمانہ اور وہ بقدر دو رطل(اہل عراق اور ابوحنیفہ کے نزدیک) یا ایک رطل اور ثلث رطل (اہل حجاز کے ہاں)ہوتا ہے یا درمیانے انسان کی دونوں ہتھیلیاں ہیں جب وہ ان دونوں کو بھر لے اور ہتھیلیاں پھیلا دے، اسی وجہ سے اسے "مد" کہا جاتا ہے، میں نے اس کا تجربہ کیا اور اسے صحیح پایا ہے".
مکمل تحریر >>

مولانا إسحاق سلفی- ایک نابغہء روزگار شخصیت

تحریر: مشتاق احمد ندوی
میں نے ہوش سنبھالا، تو جن علما کے چرچے سب سے زیادہ میرے کانوں نے سنے، ان میں سے ایک اہم نام حضرت مولانا اسحاق صاحب سلفی رحمہ اللہ کا ہے۔ سلفی صاحب کی شخصیت کا جو نقشہ شروع دن سے میرے ذہن و دماغ میں بنا، وہ تھا، ایک نہایت نڈر اور بے باک انسان، کہیں بھی پوری قوت کے ساتھ اپنی بات رکھنے اور اسے دلائل کی روشنی میں منوانے کے ہنر سے واقف، علوم عقلیہ و نقلیہ کے ماہر، قرآن و حدیث کے رمز شناس، مناظرانہ طبیعت کے مالک اور خدا داد صلاحیت کے حامل ایک ممتاز عالم دین۔
مولانا کے سب سے پرانے شاگردوں میں سے ایک مولانا مصلح الدین صاحب سلفی، سابق استاد مدرسہ اصلاحیہ سیماپور سے ان کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد بتایا: "انھیں آپ 'عالم الکل' کہہ سکتے ہیں۔ ہر فن کے ماہر تھے۔ علمی اعتبار سے بہت مضبوط تھے۔ قرآن و حدیث پر اچھی پکڑ تھی۔ فتوی تشفی بخش دیتے تھے۔ عربی ادب سے شغف تھا۔ فارسی میں لاثانی تھے۔ منطق و فلسفہ جیسے علوم عقلیہ میں استناد کا درجہ رکھتے تھے۔"
مولانا مدرسہ اصلاحیہ سیما پور میں زیادہ دن نہیں رہے۔ لیکن جب تک رہے چھائے رہے۔ اصلاحیہ کے پرانے فیض یافتگان سے ان کے کچھ اہم اساتذہ کا نام پوچھا جائے، تو اکثر لوگ پہلے یا دوسرے نمبر پر انھیں کا نام لیتے ہیں۔
اصلاحیہ کے فاؤنڈر پرنسپل، مولانا ابو بکر ہارونی صاحب تھے۔ انھوں نے اصلاحیہ کو خون دل سے سینچا تھا۔ طلبہ تو دور، اساتذہ اور اراکین مجلس منتظمہ تک ان کی بارعب شخصیت، اصول پسندی اور حق گوئی سے سہمے رہتے تھے۔ لیکن ایک دو افراد ایسے بھی تھے جن کا علمی تفوق انھیں اس دام مرعوبیت سے آزاد رہنے پر مجبور کرتا تھا، جن میں ایک نام اسحاق سلفی صاحب کا تھا۔
سلفی صاحب بابوان ٹاپو میں پیدا ہوئے۔ تاریخ پیدائش معلوم نہ ہو سکی۔ ان کے ابا محترم مرشدآباد سے آئے تھے۔ بچپن میں بڑے نٹ کھٹ تھے۔ بہنوں کی آنچل کا کونا پکڑ کر اس میں پاگ دیتے رہنا اور اپنی ضد پوری کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ زبان میں تھوڑی لکنت بھی تھی، جس سے ان کے ابا جان فکر مند رہتے تھے۔ لیکن جیسے ہی مکتب جانے لگے، اہل خانہ سے لے کر اساتذہ تک سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ دسرے بچے جتنا پورے سال میں پڑھتے، وہ مہینے بھر میں پڑھ لیتے تھے۔
تعلیمی ایام کے بارے میں زیادہ کچھ پتہ نہ چل سکا۔ بس اتنا معلوم ہو سکا کہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ کے فارغ التحصیل تھے۔ اسی مناسبت سے سلفی کہلاتے تھے۔ ان کے بیٹوں نے ان کی طالب علمی کے زمانے کے کئی دلچسپ واقعات سنائے، جو ظاہر ہے، انھوں نے اپنے آبا سے سنے ہوں گے۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ احمدیہ سلفیہ میں بھی ان کی خدا داد ذہانت و فطانت کی دھوم تھی۔ کلاس میں ہمیشہ نمایاں رہتے۔ پڑھتے کم تھے، مگر درسیات پر پوری پکڑ ہوتی۔ مدارس کے عام ماحول کے مطابق جو طلبہ رٹنے میں زیادہ یقین رکھتے اور سمجھنے کی بجائے ہمیشہ رٹتے ہوئے نظر آتے، انھیں چھیڑنے اور پریشان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔
ان کی اسی خدا داد ذہانت و فطانت اور علمی گہرائی و گیرائی کی وجہ سے انھیں اپنے مادر علمی احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں پڑھانے کا موقع ملا تھا۔ لیکن وہ اپنے عام معمول کے مطابق اس سلسلے کو دراز نہ کر سکے۔
انھوں نے لگ بھگ دس بارہ سال کا عرصہ اسلام پور (سکھاسن) میں گزارا تھا۔ یہ شاید ان کی تدریسی زندگی کا کسی ایک جگہ گزرنے والا سب سے لمبا وقت تھا۔ یہاں ایک مدرس اور کچھ طلبہ پر مشتمل ایک مدرسہ تھا۔ مولانا مصلح الدین صاحب کجرا نے یہاں ان سے پڑھا تھا۔ 1951 میں مولانا مدرسہ اصلاحیہ سیماپور آ گئے، تو ان کے شاگردوں کا جھرمٹ ان کے ساتھ ہو لیا۔ لیکن اس بار مولانا یہاں ایک دو سال ہی یہاں رہ پائے۔ پھر کہاں گئے؟ اس کا کوئی جواب میرے پاس نہیں ہے۔ البتہ 1968 میں دوبارہ اصلاحیہ آئے اور 1970 تک رہے۔ یہ اصلاحیہ کا زریں عہد تھا۔ ہم مولانا کے جن شاگردوں کو جانتے ہیں، ان کا تعلق اسی دور سے ہے۔ یہ سارے لوگ مولانا کی علمی پختگی کے چشم دید گواہ ہیں۔
موجودہ جھارکھنڈ میں ایک نہایت قدیم اور تاریخ ساز ادارہ عبداللہ پور مدرسہ ہے۔ مولانا مصلح الدیں اعظم گڑھی اور مولانا احمد اللہ صاحب جیسے پائے کے علما اس کے استاد رہ چکے ہیں۔ ہمارے علاقے کے لوگوں نے بھی اس سے بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔ اس کے فارغین میں مولانا محب الحق صاحب، سابق مدرس اصلاحیہ سیماپور اور مولانا عبدالمنان صاحب سکریلی، سابق مدرس مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ، اللہ کی قبروں کو نور سے بھر دے، وغیرہ شامل ہیں۔ سلفی صاحب یہاں بھی پڑھا چکے ہیں۔ لیکن کب سے کب تک یہ معلوم نہ ہو سکا۔
بعد میں مجھے مولانا امین الدین صاحب حفظہ اللہ و وتولاہ کی زبانی معلوم ہوا کہ 1975 میں جب مدرسہ تہذیب العلوم (جو شیخ عطاء الرحمن مدنی اور مولانا عبد الحمید رحمانی کے مشورے پر معہد التعلیم الدینی ہوا اور مولانا شمیم اختر ندوی کے آنے کے بعد جامعة التعلیم الدینی ہو گیا) شری پور کی بنیاد مولانا عبد اللہ سونا کولی رحمہ اللہ کے ہاتھوں رکھی گئی، تو اس کے پہلے مدرس مولانا اسحاق سلفی تھے۔ یہاں مولانا دو سال رہے۔
مولانا نے اخیر کے دو تین سالوں کے علاوہ جو علالت میں بسر ہوئے، پوری زندگی تدریس ہی میں گزاری۔ یہ مشغلہ انھیں بیربھوم، شری پور اور ملن گڑھ بھی لے گیا۔ آخری دور میں دو تین سال منجھیلی مدرسہ (پورنیہ) میں گزرے۔ اس کے بعد طبیعت علیل رہنے لگی اور 28 دسمبر 1979 کو اس دارفانی سے دارالخلد کی جانب روانہ ہو گئے۔
اس بیچ مولانا کی سکونت بھی بدلتی رہی۔ بابوان سے سوناپور (کوڑھا) آئے۔ وہاں سے اسلام پور (سکھاسن ) گئے۔ آخر میں دھجا گھاٹ (کوڑھا) میں بس گئے اور یہیں سپرد خاک بھی ہوئے۔ ان کے بچے یہیں آباد ہیں۔
مولانا نے مناظرانہ طببیعت پائی تھی۔ ایک بار ان کی، علاقے کے علما سے اس بات پر ٹھن گئی کہ سانڈ حلال ہے یا حرام؟ مولانا حلال ہونے کے قائل تھے۔ ایک مناظرہ بھی ہوا۔ جس میں ان کے دلائل کو کوئی کاٹ نہ سکا۔ انھوں نے 'الارشاد' نامی ایک رسالہ لکھ کر اپنے موقف کو ہر کس و نا کس کے سامنے پیش بھی کیا۔ ان کا ایک اور رسالہ 'السیف المسلول علی رأس من أنكر الإيجاب والقبول' کے نام سے بھی شائع ہوا تھا۔ جس کا ایک نسخہ ان کے بیٹوں کے پاس موجود ہے۔
ہار ماننا مولانا کی عادت نہیں تھی۔ ان کے دھکا گھاٹ آنے کے بعد ایک مرتبہ ونود پور (کٹیہار کے سابق ایم پی نکھل کمار چودھری کا گاؤں) کے بارسوخ افراد نے دھجا گھاٹ والوں کے قربانی کے جانور چھین لیے، تو مولانا نے کورٹ تک ان کا پیچھا کیا اور فریق مخالف کو جانور واپس کرنے پر مجبور کیا۔
مولانا سے کتنے لوگوں نے فیض اٹھایا، اس کا انداذہ لگانا بہت مشکل ہے۔ اس کی کیی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ہے ان کا کسی ایک جگہ مستقل طور سے کام نہ کرنا۔ ان کے اہم ترین شاگردوں تک کو یہ پتہ نہیں ہے کہ مولانا نے کہاں کہاں پڑھایا ہے؟ دوسری بڑی وجہ ہے ان کے خاندان سے ان کا کوئی علمی وارث نہ ہونا۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف اتنی بڑی شخصیت، دوسری طرف ان کے بیٹوں میں ایک بندہ بھی ایسا نہیں ہے، جو ان کے بارے میں صحیح معلومات فراہم کر سکے۔
اخیر میں یہ بتا دوں کہ شیرشاہ وادیوں کے شیر مرحوم مبارک صاحب کے رفیق و ہم دم، ٹاپو کے مشہور متحرک اور فعال عالم دین مولانا خلیل الرحمن صاحب مولانا کے بھانجے تھے۔
بار الہا! تیرا یہ جہاں دیدہ بندہ اب تیری پناہ میں ہے۔ تو اس کے ساتھ رحمت و شفقت کا برتاؤ کرتے ہوئے جنت الفردوس میں جگہ عطا کرنا!!
مکمل تحریر >>

مولانا محی الدین صاحب فیضی رحمہ اللہ - ایک سادگی پسند متبحر عالم دین

تحریر: مشتاق احمد ندوی
مدرسہ ا صلاحیہ سیماپور جس نے سیمانچل میں دینی تعلیم کے فروغ غیر معمولی بلکہ لاثانی کردار ادا کیا ہے، اس کا نام آتے ہی، جن بے لوث، جفاکش اوردرویش صفت اساطین علم و فن کی یادوں کی مہک ذہن و دماغ کے گلیاروں کو مشک بار کرنے لگتی ہے، ان میں سے ایک نمایاں نام مولانا محی الدین صاحب فیضی رحمہ اللہ کا ہے۔ مولانا رحمہ اللہ جس وقت اصلاحیہ آئے تھے، اس وقت یہاں مولانا ابوبکر ہارونی رحمہ اللہ کے علاوہ، جو اصلاحیہ کے فاونڈر پرنسپل اور اس کی تعلیمی و انتظامی سرگرمیوں کی دھری تھے، مولانا محمد اسحاق سلفی، مولانا علی اصغر قاسمی اور مولانا محب الحق صاحبان رحمھم اللہ جیسے نابغہء روزگار شخصیات موجود تھیں، لیکن انھوں نے ان کے بیچ بھی، اپنی خدا داد صلاحیت، محنت و لگن، سادہ و بے لوث طبیعت اور ہمیشہ نہ بجھنے والی علمی تشنگی والے مزاج کی وجہ سے، بہت جلد اپنی الگ پہچان بنا لی اور سب کے منظور نظر بن گئے۔
محمد محی الدین بن منشی یعقوب علی بن حاجی رافت اللہ بن عدالت منڈل۔ یہ آپ کا سلسلہء نسب ہے۔ سلام ٹولہ، براری، کٹیہار میں پیدا ہوئے۔ تاریخ پیدائش 9/ جولائی 1940 ہے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں ہوئی۔ پھر نانیہال، بھتھنی دیارا کے ایک ادارے میں کچھ دن رہے۔ اس کے بعد اونچی تعلیم کے لیے باہر جانے کی بات آئی، تو مدرسہ اصلاح المسلمین بھادو، مالدہ تشریف لے گئے۔ یہاں دو سال رہ کر بلوغ المرام اور کافیہ تک کی تعلیم حاصل کی۔ یہاں ان کے اہم اساتذہ میں مولانا عبدالستار رحمانی رحمہ اللہ بھی شامل تھے، جو جامعہ رحمانیہ دہلی مرحوم کے فارغ اور جید بزرگ عالم دین تھے۔ اس کے بعد مدرسہ مظہرالعلوم بٹنہ، مالدہ گئے اور دو سال رہ کر عالمیت کی سند لی۔ یہاں خاص طور سے مولانا مسلم رحمانی اور مولانا اکمل حسین اعظم گڑھی رحمھما اللہ سے خوب استفادہ کیا۔ مولانا مسلم رحمانی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ جامعہ رحمانیہ دہلی کے فارغ اور مستند عالم دین تھے، جب کہ مولانا اکمل صاحب، مولانا مصلح الدین صاحب اعظم گڑھی کے صاحب زادے تھے۔ نہایت جامع الکمالات شخصیت کے مالک تھے، لیکن عین جوانی میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔
اس کے بعد قدیم ترین سلفی ادارہ، جامعہ اسلامیہ فیض عام مئوناتھ بھنجن جانا ہوا۔ وہاں بھی دو سال رہے۔ غالبا 1960 میں وہاں سے سند فراغت حاصل کی۔ وہ مفتی حبیب الرحمن صاحب کا زمانہ تھا۔ ان سے بھی خوب خوشہ چینی کی اور اپنے دامن کو لعل و گہر سے بھر کر شادکام و بامراد واپس ہوئے۔
مولانا رحمہ اللہ کے اس پورے تعلیمی سفر میں ایک صاحب ہمیشہ ایک مخلص دوست، رفیق سفر اور ہم درس کی حیثیت ساتھ رہے۔ یہ ہیں، مولانا امیرالدین صاحب گیدڑ ماری، حفظہ اللہ، سابق صدر مدرس مدرسہ عزیزیہ موہنا چاندپور، کٹیہار۔ مولانا ایک بزرگ عالم دین ہیں اور ابھی با حیات ہیں۔ اللہ صحت و عافیت سے رکھے اور عمر دراز فرمائے۔
اس کے بعد تدریسی سلسلے کا آغاز ہوا، جو ایک زریں اور یادگار سلسلہ ہے۔ اس سنہرے سلسلے کی ابتدا جامعہ اسلامیہ ہری پور، مالدہ سے ہوئی۔ البتہ یہاں ایک ہی سال رہے۔ اس کے بعد 1962 کی ابتدا میں مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ بانس گاڑا، کٹیہار آ گئے۔ یہ اس ادارے کے عروج کا زمانہ تھا۔ زبردست تعلیمی گہما گہمی رہتی تھی۔ دورہء حدیث تک کی پڑھائی ہوتی تھی۔ طلبہ کا جم گھٹ رہتا تھا۔ مولانا حضرت علی صاحب چتوریہ، مولانا عبدالمنان صاحب سکریلی، مولانا عین الدین صاحب مرگھیا اور مولانا الطاف حسین صاحب بیڈنڈا جیسے مایہء ناز علما تدریسی فرائض انجام دیتے تھے۔ آج بھی سیمانچل بھر میں اس ادارے کے فارغین بڑی تعداد میں مل جاتے ہیں۔ مولانا محی الدین صاحب یہاں 1968 کے اخیر تک رہے۔ اونچی کتابیں پڑھاتے تھے۔ چتوریہ گھر سے دور بھی تھا اور آمد و رفت کے لحاظ سے کافی دشواریاں بھی تھیں، لیکن جب تک رہے، پوری توانائی کے ساتھ کام کرتے رہے۔
20/ دسمبر 1968 کو مولانا نے اصلاحیہ میں قدم رکھا اور 10/ جولائی 2002 کو یہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔ لگ 34 سال آپ نے یہاں گزارے۔ اصلاحیہ کے شروع کے لگ بھگ دس سال آپ کی تدریسی زندگی کے سب سے شان دار دور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس بیچ بہار اور جھاڑکھنڈ کے لا تعداد طلبہ نے آپ سے کسب فیض کیا، جن میں پروفیسر، آر ڈی ڈی اور ڈی پی او سے لے کر بڑی تعداد میں پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سکنڈری اسکولوں کے ٹیچر اور سرکاری و غیر سرکاری مدارس کے اساتذہ شامل ہیں۔
مولانا سے جن لوگوں نے کسب فیض کیا، ان کے مطابق مولانا کی عظمت کا راز دو باتوں میں پنہاں ہے۔ علمی پختگی اور تواضع و خاک ساری۔ عبارت فہمی کا خاص ملکہ حاصل تھا۔ عربی زبان بڑی اچھی تھی۔ عربی ادب کے علاوہ حدیث، تفسیر اور فقہ بھی پڑھاتے تھے اور خوب پڑھاتے تھے۔ بارہا ایسا ہوتا کہ خالی گھنٹی میں جاکر بیٹھ جاتے اور جو بھی کتاب سامنے ہوتی، اسے اس خوش اسلوبی سے پڑھاتے کہ طلبہ عش عش کرنے لگتے۔
لیکن اس کے ساتھ ہی تواضع اس قدر کہ کسی نے کوئی مسئلہ پوچھ لیا، تو جھٹ سے جواب دینے کی بجائے وقت لیتے اور خود مطمئن ہونے کے بعد جواب دیتے۔ خود نمائی انھیں چھوکر بھی نہیں گزری تھی۔ بہت سادہ رہتے تھے۔ کئی بار آدمی دھوکہ کھا جاتا کہ اس سادگی کے اندر بھی اتنا علم ہو سکتا ہے۔ اپنا کام خود کرتے ۔ کسی طالب علم سے خدمت لینے سے سخت گریز تھا۔ گر چہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔
ان معنوں میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ آپ نمونہء سلف تھے۔ علم وعمل کا یہ تاب ناک آفتاب لمبے وقت تک اپنی ضیا پاش کرنوں سے علمی دنیا کو روشن رکھنے کے بعد 22/ اکتوبر 2011 کو غروب ہو گیا۔ تدفین آبائی وطن ہی میں عمل میں آئی۔ جنازے کی نماز مولانا عبدالحق صاحب ندوی صدر مدرس مدرسہ اصلاحیہ سیماپور نے پڑھائی۔
مولانا کے صاحبزادے جناب مولانا محمد شمیم صاحب جامعہ اسلامیہ فیض عام سے فارغ التصیل ہیں اور مدرسہ عزیزیہ موہنا چاندپور میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں اور جامع مسجد سیج ٹولہ ہاشم پور کے امام و خطیب ہیں۔
اے اللہ! نام و نمود سے بچ کر خالص تیری رضا کے لیے کام کرنے والا تیرا یہ بندہ اب تیری پناہ میں ہے۔ اس کے ساتھ رحم و کرم کا برتاؤ کرنا اور جنت الفردوس میں جگہ عطا کرنا۔
مکمل تحریر >>

حاجی اسحاق علی و حاجی احمد علی دیوان رحمہما اللہ

تحریر: مشتاق احمد ندوی
قرآن کی تعبیر کے مطابق مال انسانی زندگی کے لیے 'قوام' ہے۔ یعنی انسانی زندگی کی ساری سرگرمیاں مال ہی کی بنیاد پر قائم رہتی ہیں۔ مال انسان کو رواں دواں رکھتا ہے۔ اس کی ضروریات کی تکمیل میں مدد فراہم کرتا ہے اور اسے اپنے فرائض کو نبھانے میں تعاون دیتا ہے۔ میں یہاں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ مال کی معنویت و افادیت کا دائرہ دنیا تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ دین کی تبلیغ و اشاعت اور اخروی زندگی کو بنانے اور سنوارنے میں بھی اس کا بڑا اہم رول ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی مکی زندگی میں ام المؤمبین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جو فائدہ ہوا اور مدنی زندگی میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مال سے اسلام اور مسلمانوں کو جو فائدہ ہوا، اس کا اندازہ سیرت نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کے ہر قاری کو ہے، اس لیے بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
بعد کے زمانوں میں بھی مسلمانوں کے اندر ہمیشہ ایسے اہل خیر رہے ہیں، جو اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی دولت کو بے دریغ خرچ کرتے رہے ہیں۔ ایسے جیالوں کے کارناموں سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔
بھارت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں 1857 کے بعد بے شمار مدارس کھلے، جو تعلیم و تربیت کے باب میں غیر معمولی خدمات فراہم کرتے رہے۔ ان مدارس کو کھولنے اور چلانے میں جہاں ہمارے علما نے بیش قیمت قربانیاں دی ہیں، وہیں ہمارے اہل خیر حضرات نے دل کھول کر ان کا تعاون کیا ہے۔ یہ ایک سچائی ہے کہ اگر ان اہل خیر حضرات کا خلوص ہمارے علما کے ہم رکاب نہ ہوتا، تو بھارت کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہزاروں مدارس تو کیا، ایک مدرسہ بھی وجود میں نہ آتا۔ ہماری دعا ہے کہ دونوں طبقوں کا خلوص یوں ہی قائم رہے اور ان کا تال میل اور بہتری کی طرف گامزن رہے، تاکہ موجودہ اندوہ ناک حالات میں مسلم عوام ان سے اور زیادہ مستفید ہوسکے۔ آمین
اللہ کی دی ہوئی دولت کو اس کے دین کی سربلندی اور اس کے بندوں کی خدمت کے لیے بے دریغ خرچ کرنے والے قوم کے مخلص سپوتوں میں حاجی اسحاق علی اور حاجی احمد علی دیوان رحمہما اللہ تعالی بھی شامل ہیں۔ دونوں بھائیوں نے مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کی تاسیس سے لے کر تعمیر و ترقی کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، وہ سنہرے حروف میں لکھے جانے کے لائق ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم کے بعد انہی کی مخلص کوششوں اور اساتذہ کی جد و جہد کا نتیجہ تھا کہ ایک زمانے میں کٹیہار، پورنیہ، ارریہ، کشن گنج اور سپول سے لے کر بھاگل پور اور صاحب گنج تک اس کی معیاری تعلیم و تربیت کے چرچے تھے۔ طلبہ کا اتنا جم گھٹ رہتا تھا کہ آس پاس کی نصف درجن سے زائد بستیوں میں بہت کم گھر ایسے ہوتے تھے، جو اصلاحیہ میں زیر تعلیم طلبہ سے خالی رہتے تھے۔ اس ادارے کے تعلق سے ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے فارغین جس کثرت سے سرکاری نوکری حاصل کرنے میں کام یاب رہے، سیمانچل بھر میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
حاجی اسحاق علی اور حاجی احمد علی دیوان بنکا، سیما پور، کٹیہار، بہار کے رہنے والے تھے۔ معاشی کے اعتبار سے بڑے مضبوط تھے۔ زمین دار تھے۔ حاجی احمد علی کو دربھنگہ راجا کی جانب سے مال گزاری وصول کرنے کا حق ملا ہوا تھا۔ دونوں بھائی سماجی اثر و رسوخ کے مالک تھے۔ ہندو مسلم سب لوگ عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔
یہ اس زمانے کی بات ہے، جب سیمانچل میں لاکھوں کی تعداد میں بسنے والے بنگلہ بھاشی مسلمان سخت معاشی خستہ حالی کے شکار تھے۔ ویسے تو ان کی حالت آج بھی کچھ اچھی نہیں ہے، لیکن اس وقت کی بات ہی کچھ اور تھی۔ وہ مرشد آباد اور مالدہ کے مختلف علاقوں سے، تباہ کن سیلابوں کی قہر سامانیوں کے نتیجے میں تباہ ہو کر، سب کچھ کھو کر، یہاں آ بسے تھے۔ لیکن یہاں بھی حالات موافق نہ تھے۔ کیوں کہ زمین دار لوگ زمین چھوڑنے کو تیار نہ تھے۔ ایسے میں ان کے لیے زمین داروں کے کھیتوں میں مزدوری یا ان کی زمین کی بٹایا داری کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا۔
ایسے حالات میں عام لوگوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا تو دور اس کے بارے میں سوچنا بھی آسان نہ تھا۔ لیکن اللہ رحم فرمائے ان مخلص، قوم کا درد رکھنے والے اور نیک دل اہل خیر حضرات پر، جنھوں نے علما کے ساتھ مل کر تعلیمی ادارے قائم کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور از سر قوم کا رشتہ تعلیم سے جوڑنے کی کوشش کی۔ چنانچہ ٹاپو کے بیدار مغز قائد مکھیا عبد الصمد صاحب نے 1930 میں مدرسہ مظہرالعلوم پٹیروا کی بنیاد رکھی تو ہمارے ممدوح دونوں بھائیوں نے 1938 میں مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے اور ادارے کھلتے گئے۔
مدرسہ اصلاحیہ سیماپور جس زمین پر قائم ہے، وہ حاجی اسحاق علی صاحب کی وقف کی ہوئی ہے۔ اصلاحیہ کے پرنسپل مولانا عبدالحق صاحب ندوی کے مطابق اس وقت مدرسہ کے پاس کل بارہ ایکڑ زمین ہے، جو اپنے محل وقوع کے اعتبار سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس میں سے چھ ایکڑ حاجی اسحاق علی کی وقف کردہ اور دو ایکڑ حاجی احمد علی دیوان کی وقف کردہ ہے۔
حاجی اسحاق علی صاحب اصلاحیہ کے سرپرست اعلی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے بھتیجے اور حاجی احمد علی دیوان کے بیٹے افسر علی صاحب اصلاحیہ کی مجلس منتظمہ کے سکریٹری بھی تھے۔ لمبے وقت تک اس عہدے پر جلوہ افروز رہے اور ادارے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ اسی خاندان کے ایک اور چشم و چراغ اور حاجی اسحاق علی کے پوتے عبدالمنان صاحب بھی اس ادارے کے سکریٹری رہ چکے ہیں۔ اس خاندان کے ایک معزز رکن اور حاجی احمد علی دیوان صاحب کے پوتے مولانا بدرالدین صاحب اصلاحیہ کے ٹیچر رہ چکے ہیں۔ مولانا اسی ادارے کے فارغ التحصیل اور میرے والد محترم مولانا نورالاسلام صاحب حفظہ اللہ و رعاہ کے کلاس فیلو ہیں۔
دونوں بھائیوں کے حسنات میں جو چیزیں شامل ہیں، ان میں سے ایک سیماپور بازار کی جامع مسجد بھی ہے۔ مسجد کے لیے زمین بھی انھوں نے ہی وقف کی تھی اور اس کی تعمیر کے اخراجات بھی خود ہی اٹھائے تھے۔
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جانی مانی شخصیت جناب ایڈووکیٹ التمش دیوان صاحب بھی اسی خاندان کے چشم و چراغ اور حاجی احمد علی دیوان کے پوتے ہیں۔ GLENHILL PUBLIC SCHOOL کے نام سے کٹیہار شہر میں ایک مثالی تعلیمی ادارہ چلاتے ہیں۔ کانگریس پارٹی کی ضلع اکائی کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ سماجی کاموں سے خاصی دل چسپی بھی رکھتے ہیں۔
دعا ہے کہ اس خانوادے کے جو لوگ دنیا سے جا چکے ہیں، اللہ انھیں جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے اور جو لوگ بقید حیات ہیں انھیں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قوم و ملت کے کام آنے کی توفیق عطا کرے۔
مکمل تحریر >>

مولانا مصلح الدین صاحب سلفی حفظہ اللہ

تحریر: مشتاق احمد ندوی
Image may contain: 1 person, beard
سیمانچل کی وہ علمی شخصیات،جنھوں نے اپنی طویل تدریسی خدمات سے قوم کو خوب بہرہ ور کیا ہے اور نسل نو کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، ان میں ایک اہم نام مولانا مصلح الدین صاحبسلفی حفظہ اللہ تعالی و رعاہ کا بھی ہے۔
لگ بھگ مہینہ بھر پہلے میں مولانا سے ملنے کے لیے ان کے دولت کدے میں حاضر ہوا۔ اور اس پاک نفس بزرگ عالم دین کے پاس بیٹھ کر، خود ان کے سفر زندگی، ان کے معاصر علما کے حالات اور مدرسہ اصلاحیہ کی تاریخ کے مختلف پہلووں پر تبادلۂ خیال کی سعادت حاصل کی۔ لگ بھگ ایک گھنٹے کی اس گفتگو کے دوران میں مولانا کی سادگی، تواضع اور خوش مزاجی کا پوری طرح قائل ہو گیا۔ در اصل آج ہم اہل علم کی تعلی، خود پسندی اور ہٹو بچو والی فطرت سے اس قدراوب چکے ہیں کہ کہیں تواضع اور بے نفسی کی جلوہ گری نظر آئے تو اس پر فدا ہونے اور مرمٹنے کو جی چاہتا ہے!!
مولانا مصلح الدین صاحب کجرا، سیماپور، کٹیہار میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی اسناد کے مطابق تاریخ پیدائش 1/جنوری 1940 ہے۔ لیکن مولانا کے بقول تاریخ پیدائش گھٹا کر لکھی گئی تھی۔ آپ کی پیدائش اس سے پہلے ہی ہو چکی تھی۔نسب نامہ جہاں تک معلوم ہو سکا کچھ اس طرح ہے: مصلح الدین بن حاجی عبدالمجید بن دراست اللہ۔ دراست اللہ صاحب لال گولہ سے آکر کجرا میں بس گئےتھے۔ تعلیم کی ابتدا گاؤں کے مکتب سے ہوئی۔ اس کے بعد کچھ دن شجاع پور اسکول بھی زیر تعلیم رہے۔ لیکن بہت جلد مدرسی تعلیم کی طرف متوجہ ہو گئے۔ مولانا کی خوش نصیبی یہ رہی کہ ان کو بچپن ہی میں مولانا اسحاق سلفی رحمہ اللہ جیسے جید عالم دین کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا موقع مل گیا۔ مولانا اسحاق سلفی صاحب ان دنوں اسلام پور (سکھاسن) میں مسند تدریس بچھائے ہوئے تھے۔ ایک مدرس کا مدرسہ تھا۔ لیکن سلفی صاحب کی شخصیت اتنی ہمہ گیر اور پر کشش تھی کہ جہاں جاتے وہیں ایک انجمن تیار ہو جاتی۔ مولانا مصلح الدین صاحب وہاں کئی سال رہے اور سلفی صاحب سے خوب خوشہ چینی کی۔ 1951 میں جب مولانا اسحاق سلفی صاحب مدرسہ اصلاحیہ سیماپور آگئے، تو شاگردوں کا جھرمٹ بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ مولانا مصلح الدین صاحب، مولانا عبدالرشید صاحب (کشن گنج) اور مولانا شاہ جہاں صاحب (بنکا) اس قافلے کے کچھ اہم رکن تھے۔
مولانا مصلح الدین صاحب نے مدرسہ اصلاحیہ سیماپور میں وسطانیہ اور فوقانیہ کے مراحل طے کیے۔ یہاں ان کے اہم اساتذہ میں مولانا ابو بکر ہارونی، مولانا ابو بکر رحمانی، مولانا محمد سلیمان صاحب اور مولانا نذیر احمد صاحب رحمھم اللہ وغیرہ اساطین علم و فن شامل تھے۔ یہاں مولانا عبد الشکور صاحب (سابق ایم ایل اے) بھی ان کے ہم درس ہو گئے، جس کا سلسلہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ تک دراز رہا۔
اس زمانے میں اہل حدیثان ہند کے پاس اعلی معیار کے تعلیمی اداروں کی سخت کمی تھی۔ سیمانچل کے طلبہ علاقائی مکاتب و مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد یا تو مغربی بنگال میں واقع مدارس کا رخ کرتے یا عبداللہ پور جاتے یا پھر احمدیہ سلفیہ دربھنگہ کا رخ کرتے تھے۔ یکا دکا لوگ فیض عام بھی جاتے تھے۔
مولانا مصلح الدین صاحب نے احمدیہ سلفیہ دربھنگہ کا انتخاب کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ بھی تھی۔ مدرسہ اصلاحیہ سیماپور 1942 ہی میں مدرسہ ایکزامنیشن بورڈ پٹنہ سے ملحق ہو چکا تھا اور احمدیہ سلفیہ دربھنگہ بھی مذکورہ بورڈ سے ملحق تھا۔ ایسے میں وہاں جانے کے دو فوائد تھے۔ منہج سلف کے مطابق درس نظامی کی تعلیم سے ہم کنار ہونا اور مدرسہ ایکزامنیشن بورڈ کی اسناد کا حصول۔ ویسے، اس زمانے کے عام مزاج کے بر خلاف مدرسہ ایکزامنیشن بورڈ کے نصاب میں بڑی وسعت اور ہمہ گیری پائی جاتی تھی۔اور یہ بھی اس کی طرف طلبہ کے میلان کی ایک بڑی وجہ تھی۔ مولانا مصلح الدین صاحب نے احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں رہ کر مولوی اور عالم کے مراحل طے کیے اور وہاں کے پر فیض ماحول اور مخلص اساتذہ کی صحبتوں سے بھر پور فائدہ اٹھا کر 1959 کو وطن واپس آگئے۔
مولانا نے بڑی شانت طبیعت اور برد بار مزاج پایا ہے۔ اس کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ 1959 میں فارغ ہوکر آئے اور اسی سال مدرسہ اصلاحیہ سیماپور میں تدریسی زندگی کا آغاز کیا اور چالیس بیالیس سالوں پر مشتمل ایک طویل عرصہ گزار کر 1/اپریل 2002 کو یہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔ مولانا کو اپنے استاد گرامی قدر مولانا ابو بکر ہارونی کے ماتحت لگ بھگ دس سال تک رہ کر کام کرنے کا موقع ملا۔ ہارونی صاحب کے علاوہ ایک اور استاد مولانا اسحاق سلفی صاحب کے ساتھ بھی تین چار سال کام کیے۔ مولانا علی اصغر صاحب قاسمی کے زمانے میں بھی رہے۔ مولانا محب الحق صاحب، مولانا محی الدین صاحب فیضی، مولانا شمس الدین صاحب،  مولانا عبدالمؤمن صاحب، ماسٹر ابوالقاسم صاحب اور ماسٹر مصطفی صاحب وغیرہ ماہرین علوم و فنون کے ساتھ تو بڑے لمبے عرصے تک تدریسی فرائض انجام دیے۔ مولانا عین الدین صاحب قاسمی اور مولانا سعید ندوی صاحب کی صدر مدرسی کا دور بھی دیکھا۔ ان سب کے ساتھ مولانا کے تعلقات ہمیشہ شگفتہ رہے۔ایک دو کو چھوڑ کر یہ سارے حضرات اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ جو فوت ہو چکے ہیں اللہ انھیں جنت الفردوس میں اونچا مقام عطا کرے اور جو با حیات ہیں، انھیں صحت و عافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے۔
چالیس بیالیس سالوں پر محیط اس تدریسی سفر کے شروع کے پندرہ بیس سال سنہرے حروف میں لکھے جانے کے لائق ہیں۔ اصلاحیہ میں موجودہ بہار کے کٹیہار، پورنیہ، ارریہ، کشن گنج، سپول اور بھاگلپور نیز جھارکھنڈ کے صاحب گنج، پاکوڑ اور گڈا تک کے طلبہ کا ہجوم رہتا تھا۔ مولانا جس سال آئے تھے اسی سال سے یہاں مولوی کی تعلیم کا آغاز ہوا تھا۔ بعد میں عالم کی کلاسیں بھی شروع ہو گئیں تو مولانا ان میں بھی پڑھاتے رہے۔ عام طور سے عربی ادب، فقہ اور فرائض کی کتابیں پڑھاتے۔ ایک بار سنن ابوداؤد بھی پڑھانے کا موقع ملا۔ جو بھی پڑھاتے بہت اچھا پڑھاتے تھے۔
اصلاحیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعددو تین سال جامعہ اسلامیہ تتواری میں بھی صدر مدرس کی حیثیت سے گراں قدر خدماتانجام دیں۔
مولانا کے شاگردوں کی بات کریں تو اس میں وہ سارے لوگ شامل ہیں، جنھوں نے 1959 کے بعد مدرسہ اصلاحیہ سیماپور میں تعلیم حاصل کی۔ اور سب کو پتہ ہے کہ ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
مولانا نے 1997 میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ اللہ نے عوام کے اندر بھی آپ کو خاص عزت و احترام سے نوازا ہے۔ دسیوں سال سے عیدگاہ کی امامت کی ذمے داری نبھا رہے ہیں، جس میں کئی بستیوں کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔
آپ ضلعی جمعیت اہل حدیث کی بھی سرپرستی فرما چکے ہیں۔ شاید 1991 کی بات ہے۔ اس وقت کے صوبائی جمعیت کے ناظم ڈاکٹر عبد الحلیم صاحب رحمہ اللہ اور امیر مولانا عبدالخالق صاحب سلفی رحمہ اللہ کی موجودگی میں پہلی بار کٹیہار ضلعی جمعیت اہل حدیث کی تشکیل عمل میں آئی تھی، اس موقع پر مولانا مصلح الدین صاحب امیر اور مولانا سعید صاحب ندوی سابق صدر مدرس مدرسہ اصلاحیہ سیماپور ناظم بنائے گئے تھے۔
مولانا کو پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ ان کے صاحبزادوں میں، محمد تنویر عالم صاحب دو ٹرم مکھیا رہ چکے ہیں، خبیر الدین صاحب پرائمری اسکول کے اور محمد حسن صاحب بال شرمک ودیالیہ کے ٹیچر ہیں۔ سب سے چھوٹے بیٹے مولانا عتیق الرحمن صاحب دینی بنیادی تعلیم گاہ کجرا کے صدر مدرس ہیں اور سب سے بڑے بیٹے محمد حسین اختر صاحب کھیتی باڑی سے وابستہ ہیں۔
الہ العالمین! مولانا کی شخصیت گزرے ہوئے قافلے کے نشان کی حیثیت رکھتی ہے۔ تو اس نشان کو تا دیر قائم رکھ اور ہمیں وہ حوصلہ عطا فرما کہ ان کے تعلیمی مشن کو پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھا سکیں۔ آمین یا رب العالمین!!
مکمل تحریر >>

حاجی محمد سلطان صاحب پرمکھ رحمہ اللہ

تحریر: مشتاق احمد ندوی
Image may contain: 2 people, people standing

کچھ لوگ اللہ رب العزت کے پاس سے اس قدر الگ الگ خوشبووں میں بسی ہوئی شخصیت لے کر آتے ہیں کہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کی شخصیت کا ہر رنگ نرالا ہوتا ہے اور ان کی کتاب حیات کا ہر صفحہ ایک مستقل کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ کچھ اسی طرح کی شخصیت ہمارے ممدوح جناب حاجی سلطان صاحب پرمکھ نے پائی تھی۔ ان کی شخصیت بڑی پہلو دار تھی اور اس کا ہر پہلو اتنا جان دار تھا کہ آدمی انھیں یاد کرتے ہی بے ساختہ کہہ اٹھے:
وہ اپنی ذات میں اک انجمن تھے
وہ جتنے مضبوط سیاست داں تھے، اتنے ہی مضبوط دین پسند اور علما نواز۔ کھیل سے ان کا لگاؤ دیوانگی کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ اچھے کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ کھیل کے مقابلوں کے انعقاد میں غیر معمولی دل چسپی رکھتے تھے۔ مہمان نوازی ان کی شخصیت کا ایک مستقل باب تھا۔ جود و سخا کے پیکر تھے۔ مضبوط عزم و حوصلے کے مالک تھے۔ اصولوں سے سمجھوتہ کرنا نہیں جانتے تھے۔ ہندو مسلم اتحاد کے پرچارک اور قوم و ملت کے درد سے بے تاب رہنے والا دل رکھتے تھے۔ نہایت جفاکش اور محنتی انسان تھے۔ تھکنا نہیں جانتے تھے۔
محمد سلطان بن الحاج علیم الدین بن مقصود علی قبالہ پران پور کٹیہار میں 1937 کو پیدا ہوئے۔ ان کے دادا مقصود علی صاحب اپنے بچوں کے ساتھ گلاب گنج، مرشد آباد سے آئے تھے۔
ان کا پریوار علاقے کے خوش حال مسلم پریواروں میں شمار ہوتا تھا۔ خود ان کے والد کے پاس پانچ چھ سو بیگھا زمین تھی اور اولاد صرف دو۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ اس لیے حاجی صاحب کو بچپن ہی سے خوش حالی اور مالی فراخی کا ماحول ملا، جس نے ان کی شخصیت میں کئی مثبت اثرات مرتب کیے۔
ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں ہوئی۔ اس کے بعد منیہاری ہائی اسکول سے دسویں تک کی پڑھائی کی۔ یہ 1955 کی بات ہے۔ اس زمانے میں دسویں تک کی تعلیم بھی کچھ کم نہیں تھی۔
ابھی بیس ہی سال کے ہوئے تھے کہ سیاست کی سنگلاخ وادی میں قدم رکھ دیا اور اس طرح رکھا کہ آخری سانس تک کبھی فرصت نہ مل سکی۔ چنانچہ 1957 میں مکھیا کی حیثیت سے جیتے اور دو میعاد تک مکھیا رہے۔ لیکن اسی دوران ایک ایسا سانحہ پیش آیا، جس نے ان کی شخصیت پر بڑے دور رس اثرات مرتب کیے اور ان کے سامنے عین جوانی ہی میں دنیا کی حقیقت کا انکشاف ہو گیا۔ 1958 میں ان کے والد ماجد حاجی علیم الدین صاحب کا انتقال ہو گیا۔ یہ ایسا حادثہ تھا، جس نے ان کی شخصیت کو ہلا کر رکھ دیا۔
اس کے دو ہی سال بعد یعنی 1960 میں اس بائیس تئیس سالہ نوجوان نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر لی۔ اتنی کم عمری میں حج کرنے کی سعادت، آج لگ بھگ ساٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی، بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ تنہا یہی ایک واقعہ حاجی صاحب کے میلان طبع اور دینی رجحان کا پتہ دینے کے لیے کافی ہے۔
لگاتار دو ٹرم مکھیا رہنے کے بعد 1967 میں پران پور بلاک کے پرمکھ کے عہدے پر فائز ہو ئے اور اپنی وفات یعنی 5/ فروری 2012 تک اس عہدے کی زینت بڑھاتے رہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس طویل سفر میں کبھی کوئی مد مقابل سامنے نہیں آیا۔ وہ ہمیشہ نر ورودھ چنے جاتے رہے۔ اس سے ہندو مسلم ہر طبقے میں حاجی صاحب کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
حاجی صاحب پکے کانگریسی تھے۔ ہندو مسلم ایکتا کے علم بردار تھے۔ انھوں نے زندگی میں کئی سیاسی اتار چڑھاؤ دیکھے، لیکن کانگریس سے رشتے میں حرف آنے نہیں دیا۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ کانگریسی ہونے کے باوجود سبھی علاقائی اور ضلع سطح کے سیاسی قائدین سے دوستانہ مراسم رکھتے تھے۔ چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی پاٹی سے ہو۔ اس ضمن میں طارق انور، مبارک حسین، محمد شکور، منصور عالم، سیتا رام کیسری، مہیندر یادو ونود سنگھ، ہمراج سنگھ اور جلیل مستان جیسے نمایاں لوگوں کے پیش کیے جا سکتے ہیں، جن سے خوش گوار مراسم اور شگفتہ تعلقات تھے۔
حاجی سلطان صاحب کی سیاسی زندگی بڑی صاف ستھری اور بھر پور تھی۔ انصاف پروری، عدل گستری اور ایمان داری اس باب کے نمایاں عنوان تھے۔ کسی مذہبی اور لسانی بھید کے بنا سب کی سنتے اور سب کا کام کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والوں میں ہر طبقے کے لوگ شامل تھے۔ پورے علاقے میں ایک مسلمہ شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے نام پر کہیں کوئی اختلاف نہیں تھا۔
حاجی صاحب کی کتاب حیات کا دوسرا اہم عنوان ہے دین اور دینی علما سے محبت۔ عین جوانی میں حج کر چکے تھے۔ چہرے پہ گھنی داڑھی تھی۔ نماز بڑے خشوع و خضوع سے پڑھتے تھے۔ قیام، رکوع، سجود اور قعود وغیرہ بڑے اہتمام سے کرتے تھے۔ اخیر کے بیس سالوں میں روزانہ مغرب سے عشا تک تلاوت کا معمول بن چکا تھا۔ دینی جلسوں اور کانفرنسوں کے انعقاد میں بڑے شوق سے حصہ لیتے تھے۔ اس کا جیتا جاگتا ثبوت یہ کہ ان کی بستی قبالہ میں 1984 سے عظیم الشان جلسوں کا ایک سلسلہ بلا ناغہ چلا آ رہا ہے، جو آج بھی جاری ہے۔ قبالہ کے جلسے پران پور، منیہاری اور آمدہ باد جیسے علاقوں کے مرکزی جلسے ہوتے ہیں۔ یہاں کے جلسوں میں ملک کے چوٹی کے علما شریک ہوا کرتے ہیں اور لوگ بھی بڑے ذوق و شوق سے شامل ہوتے ہیں۔ میں پہلی بار شاید 2013 کے جلسے میں بطور ناظم اجلاس شامل ہوا تھا۔ اس سال مولانا اشفاق صاحب مدنی، مولانا بدرالدجی صاحب ندوی، مولانا امرؤ القیس صاحب سلفی، مولانا انعام الحق صاحب مدنی اور ڈاکٹر رحمت اللہ صاحب سلفی وغیرہ اساطین علم و فن تشریف لائے تھے۔ اس موقعے پر حاجی صاحب کے مہمان خانے میں ٹھہرنے کا موقعہ ملا تھا، جو اپنی نفاست اور حسن انتظام میں قابل تعریف ہے۔
حاجی صاحب سلفی عقیدے کے حامل تھے اور ملک کے چوٹی کے سلفی علما سے رابطہ رکھتے تھے۔ وہ علما کے قدر شناس تھے اور ان کی صحبت کا فیض حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ مولانا مسلم رحمانی، مولانا محمد حسین سلفی، حافظ عین الباری عالیاوی، مولانا اصغر علی امام مہدی، مولانا رضاء اللہ عبدالکریم مدنی، مولانا اشفاق مدنی وغیرہ کچھ ایسے نام ہیں، جن سے انھیں خاص لگاؤ تھا۔ علاقائی علما اور اہل علم کی بھی بڑی عزت کرتے تھے۔ بنگال کے بعض علما ان کے یہاں آتے تو کئی کئی دنوں تک رکتے تھے۔
حاجی صاحب کی کتاب حیات کے تیسرے باب کا عنوان کھیل پریم ہے۔ وہ خود ایک اچھے کھلاڑی تھے۔ اللہ کی طرف سے انھیں ایک مضبوط گٹھا ہوا اور کسا ہوا بدن ملا تھا۔ والی بال کے بہت اچھا کھیلتے تھے۔ ان کے پاس والی بال کی ایک بہت اچھی ٹیم تھی، جو حاجی ٹیم کے نام سے مشہور تھی۔ وہ خود بھی اس کے ایک رکن تھے۔ کٹیہار سے لے کر مالدہ تک اس کے ٹکر کی کوئی ٹیم نہیں تھی۔ وہ ہر سال بڑے تزک و احتشام سے والی بال کا ٹورنامنٹ بھی کراتے تھے، جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
والی بال کے علاوہ گھڑ سواری کا بھی بے پناہ شوق رکھتے تھے۔ ایک بار گھڑ سواری کا ضلع سطح کا مقابلہ بھی جیتے تھے۔ جس کے بعدانھیں کٹیہار کا یوراج کہا گیا تھا- کیرم بورڈ کھیلنےاور مچھلی پکڑنے کا بھی شوق رکھتے تھے۔
ان کی کتاب حیات کا ایک اور نمایاں عنوان مہمان نوازی ہے۔ بلکہ اسے اس کتاب کا سب سے جلی عنوان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان کے یہاں کئی طرح کے لوگ آتے تھے۔ سیاسی لیڈر، ان کے حلقے کے عام لوگ، علمائے دین، اہل دانش و بینش اور اصحاب مدارس و مکاتب۔ اس طرح ان کا گھر کبھی مہمانوں اور ملنے جلنے والوں سے خالی نہیں ہونے پاتا تھا۔ لیکن یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی بھی شخص کچھ کھائے پیے بنا واپسں ہوجائے۔ کچھ نہیں تو تلا ہوا چوڑا اور آملیٹ ہی سہی۔ اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ مہمانوں کو خاطر خود اپنے تئیں کریں اور اسے اپنا سرمایہء افتخار سمجھتے تھے۔ جناب شکور، جو صاحب پران پور ودھان سبھا حلقے سے ایم ایل رہ چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میں نے شیر شاہ آبادی برادری میں ان کے جیسا مہمان نواز اور رکھ رکھاؤ والا انسان نہیں دیکھا۔
مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ سخاوت اور فیاضی کا بھی جذبہ ء صادق ساتھ لائے تھے۔ مدارس، مکاتب اور مساجد کی تعمیر و ترقی میں دل کھول کر حصہ لیتے تھے۔ جو بھی ان کے یہاں پہنچ جاتا، خالی ہاتھ نہ لوٹتا تھا۔ مدرسہ انوار العلوم سلطانیہ قبالہ کے لیے انھوں نے ہی زمین وقف کی تھی، جو دو بیگھا کے آس پاس ہے۔ گاوں کی عید گاہ کی زمین انہی کی وقف کی ہوئی ہے۔ گاوں کی جامع مسجد کی زمین کا بھی کچھ حصہ ان کا دیا ہوا ہے۔
سماجی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے گہرا سر و کار رکھتے تھے۔ 1971 کی بات ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبد اللطیف حیدری صاحب نے سماج میں تعلیم کے فروغ، اقتصادی حالت میں سدھار اور معاشرتی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے قومی تنظیم کی بنیاد ڈالی تھی۔ ایک دو سال بعد جب مدرسہ سراج العلوم گیروا، براری میں منعقد کی گئی ایک میٹنگ میں از سر نو اس کی باڈی تشکیل دی گئی، تو جناب منصور عالم صاحب (سابق وزیر مملکت) اس کے صدر، پروفیسر عبد اللطیف حیدری صاحب جنرل سکریٹری اور حاجی سلطان صاحب سر پرست بنائے گئے۔ اور انھوں نے سر پرست کی حیثیت سے تنظیمی کاموں میں بھر پور ساتھ بھی دیا۔
اسی طرح 1980 کی بات ہے۔ مرحوم مبارک حسین صاحب نے شیر شاہ آبادیوں کی ہمہ جہت فلاح و بہبود کے لیے آل بہار شیر شاہ آبادی ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی تو حاجی صاحب کو نائب صدر بنایا۔
حاجی صاحب بہت اصولی آدمی تھے۔ سیاست میں رہے، لیکن کبھی دولت کے پیچھے نہیں بھاگے۔ یہاں تک پڑھنے کے باوجود شاید ہی کسی کو یہ یقین آئے کہ انھوں نے جیتے جی گھر نہیں بنایا۔ جناب ماسٹر صدیق صاحب (ریٹائرڈ ہائی اسکول ٹیچر) ان کے یہاں دس بارہ سال رہے۔ ان کا بیان ہے کہ حاجی صاحب نے کئی بار گھر بنانے کے لیے اینٹا بھٹا لگوا کر اینٹا تیار کروایا۔ لیکن گھر کے کام میں کبھی ہاتھ نہیں لگایا اور سارا کا سارا اینٹا ان کی سخاوت اور فیاضی کی نذر ہو گیا۔
بڑے خلیق انسان تھے۔ کم گو تھے۔ کسی میں کوئی برائی دیکھتے تو اجاگر نہیں کرتے تھے۔ حرف گیری اور کمنٹ سے سخت گریز تھا۔ بڑے باحوصلہ اور جفاکش انسان تھے۔ آرام طلبی انھیں چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔
سیاہ رنگ، درمیانہ قد، کھلاڑی جیسا گٹھا ہوا بدن اور چہرے پہ گھنی داڑھی۔ یہ ان کا حلیہ تھا۔
لیکن اللہ کا قانون ہے کہ جو بھی یہاں آیا ہے اسے ایک دن جانا پڑے گا۔ چنانچہ اس کا یہ گونا گوں خوبیوں کا مالک بندہ بھی، لمبے وقت تک اس کے بندوں کی خدمت کرنے کے بعد 5/ فروری 2012 کو اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ حاجی صاحب کے پس ماندگان میں دو بیٹے اور چھ بیٹیاں شامل ہیں۔
مکمل تحریر >>