Monday, 4 July 2016

मैं हूं शेरशाबादी

कवि: ज़फ़र शेरशाहाबादी


बहुत आला नसब मेरा है मैं हूं शेरशाबादी
मुझे तो यह खुशी बेहद है मैं हूं शेरशाबादी

बहुत अंदर तलक दलदल में मैरी क़ौम जा पहुंची
तो अब मुझको ही कुछ करना है मैं हूं शेरशाबादी

हर एक सु अब अंधेरा गरचे मेरा रास्ता रोके
अंधेरों से मुझे डर क्या है मैं हूं शेरशाबादी

हमी थे क़ौम के वाली हमी मेअ्मार कहलाए
मेरे अजदाद का फ़िदया है मैं हूं शेरशाबादी

निराले तौर है इस क़ौम के अंदाज़ लासानी
निराली क़ौम की हर शय है मैं हूं शेरशाबादी

इन्हें बस रोशनी की एक रमक झिंझोड़ सकती है
मेरी यह क़ौम ग़फलत में है मैं हूं शेरशाबादी

हलावत अपनी बोली की वही बस जानता होगा
कोई ग़ुरबत में जो बोले है मैं हूं शेरशाबादी

जो अपनी क़ौम से बदज़न हैं वह ख़ुद से कभी पूछें
कि उनका दिल यही कहता है मैं हूं शेरशाबादी

ज़ फर उठ्ठो कमर कस लो कहीं ना देर हो जाए
मुझे तारीख़ अब लिखनी है मैं हूं शेरशाबादी
مکمل تحریر >>

Wednesday, 29 June 2016

صدقۃ الفطر میں رقم و نقد دینے کاحکم

▪تحریر: فضیلة الشیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ
داعی و مبلغ صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی

صدقہ الفطر سے متعلق بے شک احادیث میں یہی ملتا ہے کہ غلہ دیاجائے۔ اوراللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غلہ دیاجاتاتھا۔
لیکن غورطلب مسئلہ یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں غلطہ بطورکرنسی بھی استعمال ہوتا تھا۔ یہ ناقابل انکار حقیقت ہے۔اس بارے میں ایک صحیح حدیث ملاحظہ ہو:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے «مصراة» بکری خریدی اور اسے دوہا۔ تو اگر وہ اس معاملہ پر راضی ہے تو اسے اپنے لیے روک لے اور اگر راضی نہیں ہے تو (واپس کر دے اور) اس کے دودھ کے بدلے میں ایک صاع کھجور دیدے۔ [صحيح البخاري حدیث نمبر 2151]
یہاں ایک صاع کھجور بطور کرنسی دینے کو کہی گئی ہے جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ عہد رسالت میں ایک صاع کی مقدار میں غلے بطور کرنسی استعمال ہوتے تھے۔
بلکہ آج بھی دیہاتوں میں میوہ فروش یا برف بیچنے والا آتا ہے تو عام طور سے بچے غلہ دے کر ہی سوداکرتے ہیں یعنی غلہ کو بطور کرنسی استعمال کرتے ہیں ۔یہی صورت حال عہد رسالت میں تھی اس دور میں غلہ کرنسی کے طور پر استعمال ہوتا تھا ۔

*🔵 ’’خوراک یا ’’کرنسی‘‘*
ایسی صورت میں سوال یہ پیداہوتاہے کہ عہد رسالت میں صدقہ الفطر میں جوغلہ دیا جاتا تھا وہ بطورکرنسی دیا جاتا تھا؟ یا بطور خوراک دیا جاتاتھا؟
بعض اہل علم کا قول ہے کہ یہ غلہ بطور کرنسی دیا جاتا تھا ،ہمارے نزدیک بھی راجح یہی ہے کہ صدقہ الفطر میں دیا جانے والا غلہ اصلا بطور کرنسی ہی تھا اس کے دلائل درج ذیل:

▪1: اگر صدقۃ الفطر میں دیے جانے والے غلہ کا مقصود صرف خوراک فراہم کرنا ہوتا تو کیا وجہ ہے کسی بھی حدیث میں یہ نہیں ملتا کہ غلہ دینے کے بجائے کسی کو کھانا کھلا دو؟
سوال یہ ہے کہ جب اس غلہ کا مقصودصرف اور صرف کھانا فراہم کرنا ہی ہے ۔تو آخراس بات کی اجازت کیوں نہیں دی گئی کہ بعض لوگ فطرہ دینے کے بجائے کسی کو کھانا بھی کھلاسکتے ہیں ؟

▪2:اگرمقصود صرف خوراک فراہم کرنا ہوتا تو صرف یہ حکم دیا جاتا کہ خوراک فراہم کردو ،لیکن اس خوراک کی نوعیت کی تعیین نہیں کی جاتی ۔مگرہم دیکھتے ہیں کہ احادیث میں غلہ دینے کی صراحت کے ساتھ ساتھ اس کی نوعیت کی تعیین بھی واردہوئی ہے کہ فلاں فلاں چیز دی جائے ۔اوریہ چیزیں وہی ہیں جوعہدرسالت میں بطور کرنسی استعمال ہوتی تھیں۔نیزغورکریں کہ اسلام میں بعض مسائل میں بطور کفارہ کھانا کھلانے کی بات ہے لیکن اس طرح کے نصوص میں کھانے کی نوعیت کا تعین نہیں بلکہ صرف مطلق کھانا کھلانے کی بات ہےجس سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں اصل مقصود کھانا کھلانا ہے ۔
لیکن صدقہ الفطر میں اول تو کھانا کھلانے کی نہیں بلکہ کھانا دینے کی بات ہے نیز اس کے ساتھ اس کی تعیین بھی وارد ہے ۔یہ تفریق ہی بتلارہی ہے کہ صدقۃ الفطر میں دیا جانے والا کھانا بطور خوراک نہیں بلکہ بطورکرنسی تھا۔

▪3: ہرمعقول شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ بھوکے آدمی کے لئے زیادہ سہولت غلہ لینے میں نہیں بلکہ بنابنایا کھانا لینے میں ۔اسی لئے کفارہ وغیرہ میں جہاں مقصود صرف اورصرف کھانا کھلانا ہے وہاں بنابنایا کھانا ہی کھلانے کاحکم ہے ۔لیکن فطرہ میں صرف غلہ دینے ہی کی بات ملتی ہے اس سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ اصل مقصود کرنسی فراہم کرنا ہے نہ کہ خوراک۔

▪4: فطرہ میں گیہوں دیا جائے تو اس کی مقدار نصف صاع بتلائی گئی ہے۔بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ صرف امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اجتہاد تھا جو حجت نہیں لیکن ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے عین یہی بات مرفوعا صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے[شرح مشكل الآثار 9/ 27 رقم 3408]۔ اوراس کی سند صحیحین کی شرط پر صحیح ہے جیساکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے کہا ہے۔[تمام المنة في التعليق على فقه السنة ص: 387]۔ 
یہاں غور کیجیے کہ گیہوں کی مقدار دیگر خورک کے مساوی نہیں بلکہ دیگر خوراک کی قیمت کے مساوی رکھی گی ہے۔یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ فطرہ میں دیا جانے ولا غلہ بطور خوراک نہیں بلکہ بطور کرنسی تھا۔

*🔴 ایک باطل قیاس کا رد:*
یہی سے ان لوگوں کا بھی زبردست رد ہوجاتا ہے جو بغیر دلیل کے محض قیاس آرائی کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ فطرہ میں طعام کی جن قسموں کا ذکر ہے ان کی قیمتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں لیکن پھر بھی سب کی مقدار ایک بتلائی گئی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ قیمت کا اعتبار نہیں ۔
عرض ہے کہ مرفوع حدیث سے صراحتا ثابت ہوگیا کہ سب کی مقدار ایک نہیں بتلائی گئی ہے بلکہ گیہوں کی مقدار میں فرق کیا گیا ہے لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قیمت کا اعتبار کیا گیا ہے۔ رہا بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ جو ، کھجور اور کشمش کی قیمتیں بھی ایک دوسرے سے الگ ہیں اس لئے ان میں فرق کیوں نہیں کیا گیا ؟ تو جوابا عرض ہے کہ جو ، کھجور اور کشمش کی قیمتوں میں فرق آج ہمارے زمانے میں ہے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ عہد نبوی میں بھی ان اشیاء کی قیمتوں میں فرق تھا ! جو لوگ تفریق کی بات کرتے وہ عصر حاضر کے حالات پر عہد نبوی کے حالات کو قیاس کرتے ہیں اور یہ قیاس انتہائی فاسد ، بودا اور لایعنی ہے۔اس طرح کی باتیں کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ صحیح روایات سے ثابت کریں کہ عہد رسالت میں ان اشیاء کی قیمتوں میں فرق تھا اور اگر یہ نہیں کرسکتے تو عہدرسالت کے حالات کو عصرحاضر کے حالات پر قیاس نہ کریں یہ قیاس مع الفارق وفاسد وباطل ومردود ہے۔

*⏺ تنبیہ بلیغ:*
امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کا موقف جب صحیح مرفوع حدیث سے بھی ثابت ہوگیا تو اسے رد کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے اس سے اختلاف لیکن یاد رہے کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے صرف قیمت کے اعتبارہی سے اختلاف نہیں کیا بلکہ انہوں نے سرے سے گیہوں دینے ہی سے اختلاف کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ میں عہدرسالت میں جو دیتاتھا وہی آج بھی دوں گا ۔امام ابن حزم رحمه الله (المتوفى456) کہتے ہیں:
فهذا أبو سعيد يمنع من " البر " جملة
ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سرے سے گیہوں دینے ہی کے خلاف تھے [المحلى لابن حزم، ت بيروت: 4/ 252]
اس لئے ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کا موقف ان لوگوں کے بھی خلاف ہے جو دوسرے علاقوں کے لوگوں کے لئے وہاں کی خوراک کے حساب سے فطرہ نکالنے کی بات کہتے ہیں ۔
واضح رہے کہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کا یہ اختلاف بطورفتوی نہیں تھا کہ وہ مخالف موقف کو ناجائزسمجھتے تھے بلکہ بطور احتیاط اور بطور ورع تھا جیساکہ علامہ احمدشاکر رحمہ اللہ نے مدلل وضاحت کی ہے دیکھئے:[ المحلی لابن حزم : ج6 ص132 (حاشیہ) بتحقیق احمدشاکر]
بہرحال گیہوں نکالنا اور گیہوں نکالتے ہوئے قیمت کا اعتبار کرنا مرفوع حدیث سے بھی ثابت ہے۔

ان تمام باتوں سے یہی پتہ چلتاہے کہ عہدرسالت میں صدقۃ الفطر میں دیا جانے والا غلہ بطورکرنسی تھا نہ کہ بطور خوراک۔

*🔴 ایک شبہہ کا ازالہ:*
ایک حدیث میں صدقۃ الفطر کے مال کو ’’طعمة للمساكين‘‘ گیا ہے۔
عن ابن عباس، قال: «فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث، وطعمة للمساكين، من أداها قبل الصلاة، فهي زكاة مقبولة، ومن أداها بعد الصلاة، فهي صدقة من الصدقات»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا تاکہ روزے کے لیے لغو اور بیہودہ اقوال و افعال سے پاکیزگی ہو جائے اور مسکینوں کو طعام حاصل ہو۔ چنانچہ جس نے اسے نماز (عید) سے پہلے پہلے ادا کر دیا تو یہ ایسی زکوٰۃ ہے جو قبول کر لی گئی اور جس نے اسے نماز کے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔[سنن أبي داود 2/ 111 رقم 1609 وحسنہ الالبانی ]

اس حدیث میں ’’طعمة للمساكين‘‘ سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگ کہتے ہیں کہ فطرہ میں دیا جانے والا غلہ بطور خوراک تھا۔
عرض ہے کہ لفظ ’’طعمة ‘‘ صرف خوراک ہی کے لئے مستعمل نہیں ہوتا ہے بلکہ دیگر اموال واشیاء کے لئے بھی ’’طعمة ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا جیساکہ کئی احادیث میں وارد ہے مثلا:
عن أبي الطفيل، قال: جاءت فاطمة رضي الله عنها، إلى أبي بكر رضي الله عنه، تطلب ميراثها من النبي صلى الله عليه وسلم، قال: فقال أبو بكر رضي الله عنه: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن الله عز وجل، إذا أطعم نبيا طعمة، فهي للذي يقوم من بعده»
سیدنا ابوالطفیل (عامر بن واثلہ لیثی رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثے کا مطالبہ لے کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں‘ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ”اللہ تعالیٰ جب اپنے نبی کو کوئی رزق عنایت فرما دیتا ہے‘ تو اس کا سر پرست وہی ہوتا ہے جو اس کے بعد (بطور خلیفہ) آئے۔“ [سنن أبي داود 3/ 144 واسنادہ صحیح اوحسن علی الاقل]
اس روایت میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کے لئے طعمۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
ایک روایت میں دیناروں پر بھی طعمۃ کا اطلاق ہوا ہے دیکھئے [تاريخ المدينة لابن شبة: 3/ 989 رجالہ ثقات واسنادہ منقطع لکنہ مقبول فی استشہاد لغوی]
معلوم ہوا کہ ’’طعمۃ ‘‘ بھی صرف خوراک کے لئے نہیں آتا اس لئے اس سے خوراک کی تعیین کرنا درست نہیں ہے۔
اس تفصیل کی روشنی میں ہمارے نزدیک یہی واضح ہے کہ صدقہ الفطر میں دیا جانے ولا غلہ اصلا بطور کرنسی ہی تھا نہ کہ بطور خورا ک ۔یہ اور بات ہے کہ اس کے مقاصد میں خوراک فراہم کرنا بھی شامل ہے لیکن یہ اصل مقصود نہیں ہے بلکہ اصل مقصودمحتاج کو کرنسی فراہم کرنا ہے۔ اب یہ اس کی ضرورت پرمنحصر ہے کہ وہ اسے خوراک کی جگہ استعمال کرتا ہے یابطورکرنسی استعمال کرکےکسی اور مصرف میں لاتا ہے۔
اورجب یہ واضح ہواکہ فطرہ میں غلہ بطور کرنسی دیا جاتا تھا، تو صدقہ الفطر میں کرنسی دینے پر بھی غلہ والی حدیث ہی نص ہے ۔
اگرکسی کو اس سے اختلاف ہے تو وہ ثابت کرے کہ فطرہ والی احادیث میں مذکور غلہ بطورکرنسی نہیں بلکہ بطورخوراک دیا جاتا تھا۔


*🔴 عہدرسالت میں نقدی کرنسی کیوں نہ دی گی؟*
اب رہا سوال یہ ہے کہ اگر عہد رسالت میں یہ غلہ بطور کرنسی دیا جاتاتھا تو خودکرنسی ہی صدقہ الفطر میں کیوں نہیں دے دی گئی ؟
عرض ہے کہ ہمارے علم کی حد تک ایک صاع طعام کے متبادل کسی طرح کی کرنسی کا سراغ عہد رسالت میں نہیں ملتا ہے۔اس لئے عہد رسالت میں صدقہ الفطر میں کرنسی دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مثلا دینار کی بات لے لیں صحابہ کرام رضی اللہ عنم ایک دینار سے ایک یا دو بکری خریدتے تھے ۔دیکھئے: [صحيح البخاري 4/ 207 رقم3642] .
اب دیکھئے کہ جب ایک دینار میں ایک یا دو بکری ملتی تھی تو بھلا ایک صاع غلہ کے متبادل ایک دینار کیسے ہوسکتاہے؟ بلکہ آدھا یا پاؤ دینار بھی ایک صاع غلہ کے مقابلہ میں بہت بڑی رقم ہے ۔ ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ عہدرسالت کی یہ نقدی کرنسیاں فطرہ میں دی جاتیں؟ 
یہی حال درہم کا بھی ہے عہدرسالت میں ہمیں ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی کہ ایک صاع غلہ کے برابر کی کوئی چیز ایک درہم سے خریدی گئی ہو۔غرض یہ کہ ایک صاع کے برابر اشیاء کی خرید وفروخت کے لئے عہدرسالت میں کسی نقدی کرنسی کا وجود تھا ہی نہیں، اس لئے اس مقدار کی اشیاء کی خرید و فروخت کے لئے طعام کی وہی قسمیں بطور کرنسی استعمال ہوتی تھیں جن کا ذکر فطرہ والی احادیث میں ہے۔
اورفرض کرلیں کہ عہدرسالت میں ایک صاع کے متبادل کوئی کرنسی تھی تو بھی اس دور میں سب کے پاس کرنسی کا ہونا عام بات نہیں تھی بلکہ عمومی طور پر لوگ غلے ہی کو بطورکرنسی استعمال کرتے تھے۔
البتہ بعد میں جب طعام کی قیمت بڑھی تو چھوٹی کرنسی (درہم) کا نصف حصہ ایک صاع عمومی غلہ کے متبادل ہوگیا نیز معاشی اعتبار سے صحابہ کی حالت بھی پہلے سے بہتر ہوگئی اور ایسا ہوتے ہی صحابہ کرام صدقہ الفطر میں قیمت دینے لگے جیساکہ ابواسحاق السبیعی کے بیان سے پتہ چلتا ہے جس کی سند صحیحین کی شرط پر صحیح ہے۔

*🔵 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا موقف:*

⬅ حدثنا أبو أسامة ، عن زهير ، قال : سمعت أبا إسحاق يقول : أدركتهم وهم يعطون في صدقة رمضان ، الدراهم بقيمة الطعام.
امام ابواسحاق السبیعی کہتے ہیں کہ میں نے ان لوگوں کو پایا وہ صدقۃ الفطر میں کھانے کی قیمت کے مساوی درہم دیتے تھے۔[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 3/ 174 واسنادہ متصل صحیح علی شرط الشیخین وابواسحاق روی امرا شاھدہ فلاعبرۃ بتدلیسہ واختلاطہ ۔وحدیثہ من طریق زھیر اخرجہ مسلم]

⬅ امام ابواسحاق السبیعی نے کسی ایک دو کا نہیں بلکہ ایک جماعت کا موقف بیان کیا ہے کہ انہوں نے جن لوگوں کو پایا وہ صدقۃ الفطر میں قیمت دیتے ۔
امام ابواسحاق السبیعی نے علی رضی اللہ عنہ کا دور بھی پایاہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سارے صحابہ کا دور انہوں نے دیکھا ہے۔اورآپ علم و فن کے امام ہیں اس لئے علمی معاملہ میں اپنے دور کے اہل علم کا تعامل نقل کریں گے تو ظاہرہے کہ صحابہ کا استثناء نہیں کریں گے کیونکہ ان سے بڑے عالم کون ہوسکتے ہیں۔
لہٰذا اس روایت میں صحابہ سے بھی فطر ہ میں قیمت دینا ثابت ہوا۔
بلکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ابواسحاق السبیعی نے صحابہ ہی کو مراد لیا ہے لیکن ہمارے خیال سے تابعین کو بھی اس میں شامل کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے اور بات ہے کہ سب سے پہلے صحابہ ہی کی شمولیت اس میں صادق آتی ہے۔

*▪تنبیہ:*
بعض لوگ اس روایت کو مقطوع کہتے ہیں ۔عرض ہے کہ مقطوع اس روایت کو کہتے ہیں جس میں صرف کسی تابعی کا قول وفعل وغیرہ منقول ہے ۔اوراس روایت میں امام ابواسحاق السبیعی رحمہ اللہ نے صراحتا تابعین کانام لیکران کاعمل نقل نہیں کیا بلکہ اپنے دورکے اہل علم کا تعامل نقل کیا ہے اور ان کے دور میں صحابہ بھی تھے اور تابعین بھی تھے ۔لہٰذا ان کے قول میں دونوں آگئے بلکہ صحابہ کی شمولیت زیادہ مؤکد ہے کیونکہ علمی معاملہ میں بڑے علماء ہی کے حوالے دئے جاتے ہیں بالخصوص جب کہ امام ابواسحاق السبیعی جیسے صاحب علم حوالہ دیں جو خود محدث اور امام ہیں۔
لہٰذا ان کے قول میں صحابہ کی شمولیت کا بغیر کسی دلیل کے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اورتابعین سے فطرہ میں قیمت دینے کا ثبوت تو مسلم ہے۔اس کی ایک دلیل تو ماقبل کی روایت ہی ہے اس میں صحابہ کے ساتھ تابعین بھی شامل ہیں ۔

*🔵 تابعین رحمہم اللہ کا موقف:*

⬅ خلیفہ عمربن عبدالعزیزرحمہ اللہ نے اپنی خلافت میں حکم صادر کیا کہ فطرہ میں لوگوں سے غلہ یا اس کی قمیت وصول کرو۔[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 3/ 174 واسنادہ صحیح وصححہ ابن حزم فی المحلى لابن حزم، ت بيروت: 4/ 252، واخرجہ ایضا ابن بن زنجويه فی الأموال لابن زنجويه 3/ 1268 عن عوف بہ]
عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا یہ موقف صرف ان کا ذاتی موقف نہیں تھا بلکہ انہوں نے بطور سرکاری فرمان اسے جاری کیا اور اس پر عمل بھی ہوا ۔اورپوری دنیا کے کسی کونے سے بھی اس جلیل القدر خلیفہ کے حکم پر کوئی علمی تعاقب نہیں ہوا۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ تابعین کا اس مسئلہ پر اجماع تھا۔
عمربن عبدالعزیزرحمہ اللہ کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ وہ علمی مسائل میں اہل علم صحابہ وتابعین سے رائے مشورہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کرتے تھے بالخصوص کسی سرکاری فرمان کے سلسلے میں تو قطعا نہیں سوچا جاسکتا کہ انہوں نے محض اپنی رائے امت پرمسلط کردی ہو اس لئے ظاہر ہے کہ ان کا یہ فیصلہ دیگر صحابہ وتابعین کی منظوری کے بعد صادر ہواہے اورپھر اس پر کسی طرف کوئی اعتراض نہیں کیا گیا ۔

⬅ نیز تابعین ہی میں ایک عظیم علمی شخصیت حسن بصری رحمہ اللہ کی تھی وہ بھی فطرہ میں قیمت دینے کے قائل تھے [مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 3/ 174 واسنادہ صحیح ]
حسن بصری رحمہ اللہ کی مخالفت بھی پوری دنیا میں کسی نے نہ کی ۔اس سے بھی پتہ چلا کہ فطرہ میں قیمت دینے کے جواز پر تابعین کا اجماع تھا۔
اس سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ تابعین نے فطرہ والی احادیث کا یہ مفہوم قطعا نہیں سمجھا ہے کہ اس سے صرف خوراک فراہم کرنا مراد ہے ۔اوراس کے علاوہ قیمت دینا کافی نہیں ۔
اورتابعین کے اس فہم پر دیگرتابعین کا کوئی اختلاف نہیں ملتا ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ فطرہ والی احادیث کو خوراک ہی پر خاص کرناتابعین کے متفقہ فہم کے خلاف ہے۔
اور ہمارا اصول ہی ہے اتباع الدلیل بفھم السف ۔ یعنی فہم سلف کے ساتھ دلیل کی پیروی کرنا ۔
سلف صالحین کے دور میں فطرہ میں قیمت نکالنے کا ثبوت تو ملتا ہے لیکن ان کے دور میں کسی ایک سے بھی اس کی ممانعت کا ثبوت نہیں ملتا ہے ۔یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ممانعت والا قول بعد کی پیدوار ہے اور سلف کے متفقہ فہم کے خلاف ہے ۔لہٰذا ایسے لوگ ممانعت والی بات پر سلفیت کا لیبل قطعا نہ لگائیں ۔

*🔵 ائمہ واہل علم کا موقف:*
صحابہ وتابعین کے بعد بھی فطرہ میں قیمت دینے کے قائلیں موجود رہے ہیں چناں چہ:

⬅ ائمہ اربعہ میں امام ابوحنیفہ(المتوفى: 150) سے بھی قیمت نکالنا ثا بت ہے [سنن الدارقطني: 2/ 150 واسنادہ صحیح ]

⬅ امام ابن معین کے شاگرد عباس الدورى رحمه الله (المتوفى271) نقل کرتے ہیں:
قال يحيى في زكاة الفطر لا بأس أن يعطى فضة 
امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233) نے صدقۃ الفطر کے بارے میں کہا کہ اس میں درہم دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔[تاريخ ابن معين، رواية الدوري: 3/ 476]

⬅ امام ابن زنجويه (المتوفى251)فرماتے ہیں:
القيمة تجزي في الطعام إن شاء الله، والطعام أفضل
طعام کی جگہ قیمت نکالنا جائز ہے اور طعام نکالنا افضل ہے۔[الأموال لابن زنجويه 3/ 1269]

⬅ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ضرورت اور مصلحت کے پیش نظر فطرہ میں قیمت نکالنے کو جائز کہاہے[مجموع الفتاوى 25/ 82]

صحابہ وتابعین اور ائمہ واہل علم سے صراحتا یہ چیز ثابت ہونے کے بعد بھی اس میں تشدد کرنا بہت ہی عجیب وغریب بات ہے۔
بلکہ صرف تابعین ہی سے اس کا ثبوت مل جانے کے بعد بھی اس مسئلہ میں پرتشدد فتوی دینا انتہائی غیر مناسب ہے۔

*🔵 بعض معاصرین علماء کا موقف:*

⬅ علامہ احمدشاکر رحمہ اللہ نے بھی فطرہ میں قیمت کے جواز کی طرف اشارہ کیا ہے دیکھئے [ المحلی لابن حزم : ج6 ص132 (حاشیہ) بتحقیق احمدشاکر]

⬅ حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ فطرہ میں غلہ دینے کو بہترکہنے کے ساتھ ساتھ آثار تابعین کے پیش نظر لکھتے ہیں:
ان آثار کی وجہ سے صدقہ فطر میں رقم (روپے)وغیرہ دینا جائز ہے تاہم بہتر یہی ہے کہ اجناس مثلا گندم ،آٹا اور کھجوروغیرہ سے صدقہ فطر اداکیا جائے ۔واللہ اعلم[فتاوی علمیہ :ج2ص165]۔

*🔴مخالفین کا تناقض*
اورحیرت کی بات ہے کہ لوگ صرف صدقۃ الفطر ہی کے معاملہ میں نصوص میں ظاہرپرستی کا ثبوت د یتے ہیں ۔حالانکہ دیگر صدقات میں یہ طرزفکر ان کی بھی نہیں ہوتی ہے۔مثلا:

▪ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روپے میں زکاۃ نکالنا ثابت نہیں ہے لیکن اس سے کوئی منع نہیں کرتا۔آخرکیوں؟

▪بلکہ سونے چاندی کی زکاۃ میں بھی سوناچاندہی نکالنے کا ثبوت ملتا ہے لیکن آج لوگ سونےچاندی کی زکاۃ اسی جنس سے نہیں دیتے یعنی سونا چاندی کی شکل میں نہیں دیتے بلکہ اس کے مساوی رقم اور پیسے دیتے ہیں ۔اس کے خلاف فتوی بازی کیوں نہیں ؟

▪بلکہ صدقہ الفطر ہی بات لے لیں احادیث میں مطلق طعام وغلے کا ذکر نہیں بلکہ اس میں نکالے جانے والے طعام وغلوں کی صراحت کردی گئی ہے ۔اس لئے اگر ظاہر پرستی ہی کرنی ہے تو ان منصوص غلوں کے علاوہ کسی اور غلے میں فطرہ نکالنے کی گنجائش نہیں دینی چاہئے لیکن مخالفین کہتے ہیں جن علاقوں میں دوسرے غلے عام ہوں وہاں کے لوگ اپنے علاقے کا غلہ دسے سکتے ہیں ۔حالانکہ یہ چیز نص کے ساتھ ظاہر پرستی کا ساتھ نہیں دیتی اس لئے امام ابن حزم رحمہ اللہ نے ایسے لوگوں پر بھی زبردست رد کیا ہے اور انہیں نص کی مخالفت کرنے والا قراردیا ہے۔ دیکھئے:[المحلى لابن حزم، ت بيروت: 4/ 249]

🚨 واضح رہے کہ ابن حزم رحمہ اللہ اتباع نص کے دعوی میں مخالفین سے بھی دو قدم آگے ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ فطرہ میں صرف اور صرف انہیں غلوں کو دیا جاسکتا ہے جو عہدرسالت میں دئے جاتے تھے ان کے غلوں کے علاوہ اپنے علاقے میں موجود دوسرے غلوں سے فطرہ نہیں دیا جاسکتاہے۔
اب غور کیا جائے کہ ابن حزم رحمہ اللہ نے فریق مخالف کو بھی نص کی مخالفت کرنے والا کہا ہے اب یہ حضرات ابن حزم رحمہ اللہ کی بات کا کیا جواب دیں گے ؟ یہ ابن حزم رحمہ اللہ کو جوبھی جواب دیں گے وہی جواب ہمارا ان کے لئے بھی ہے۔

بہرحال اس معاملہ میں تشدد کرنا صحیح نہیں ہے

*🔵خلاصہ کلام:*
اور ہمارے نزدیک رقم نکالنا ہی افضل ہے۔ایک تو اس لئے کہ ہماری نظر میں فطرہ والی احادیث میں غلہ کاذکر بطور کرنسی ہے۔ اس لئے ہمارے نزدیک رقم نکالنے پر نص موجود ہے۔
اوردوسرے اس لئے کہ موجودہ دورمیں محتاجوں کے لئے یہی زیادہ فائندہ مندہے۔ واللہ اعلم۔
⏺ چوتھی صدی ہجری کے اوائل کے ایک بہت بڑے فقیہ و امام محمد بن عبد الله بن محمد أبو جعفرالفقيه المتوفی362) کہتے ہیں:
أداء القيمة أفضل؛ لأنه أقرب إلى منفعة الفقير فإنه يشتري به للحال ما يحتاج إليه، والتنصيص على الحنطة والشعير كان؛ لأن البياعات في ذلك الوقت بالمدينة يكون بها فأما في ديارنا البياعات تجرى بالنقود، وهي أعز الأموال فالأداء منها أفضل
صدقۃ الفطر میں قیمت دینا ہی افضل ہے اس لئے کہ اس میں فقیرومحتاج کے لئے زیادہ فائدہ ہے کیونکہ ایسی صورت میں وہ فورا جو چاہے خرید سکتاہے۔ اور حدیث میں گیہوں ، جو (وغیرہ) کا ذکر اس لئے ہے کیونکہ اس وقت مدینہ میں خریدو فروخت انہیں چیزوں سے ہوتی تھی (یعنی یہ غلے اس وقت بطور کرنسی چلتے تھے) لیکن ہمارے علاقوں میں نقدی کے ذریعہ خریدوفروخت ہوتی ہے اور یہ اموال میں سب سے زیادہ عزیز ہے اس لئے اسی سے صدقہ الفطر اداء کرنا افضل ہے۔[المبسوط للسرخسي : 3/ 107]

▪امام محمد بن عبد الله بن محمد أبو جعفرالفقيه کے بارے میں امام سمعاني رحمه الله (المتوفى 562) کہتے ہیں:
كان إماما فاضلا ۔۔۔ حدث بالحديث
یہ امام اورفاضل تھے ۔۔۔انہوں نے حدیث کی روایت کی [الأنساب للسمعاني، ت المعلمي: 13/ 432]

▪امام ذہبی(المتوفى748)رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان من براعته في الفقه يقال له أبو حنيفة الصغير توفي ببخارى وكان شيخ تلك الديار في زمانه
فقہ میں آپ کی مہارت کا یہ حال تھا کہ انہیں ابوحنیفہ الصغیر کہا جاتا تھا ، یہ بخاری میں فوت ہوئے اور اپنے زمانے میں وہاں کے شیخ تھے [العبر في خبر من غبر 2/ 334]

▪امام ذہبی رحمہ اللہ دوسری کتاب میں کہتے ہیں:
من يضرب به المثل۔۔۔أخذ عنه أئمة
یہ ایسے تھے کہ ان کی مثال بیان کی جاتی تھی۔۔۔ان سے ائمہ نے علم حاصل کیا ہے۔[سير أعلام النبلاء للذهبي: 16/ 131]

💡یہ حوالہ ہم اس لئے دے رہے ہیں کیوں کہ بعض حضرات نے بڑی عجلت اور انتہائی بے باکی سے یہ دعوی کردیا کہ گذشتہ چودہ سوسال کے اندر کسی نے بھی قیمت دینے کو افضل نہیں کیا ہے اورنہ کسی نے یہ کہا ہے کہ یہ طعام بطور کرنسی دئے جاتے تھے ۔ہمارے پاس اوربھی حوالے ہیں لیکن ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں، کیونکہ یہ حوالے اصل دلائل نہیں ہیں ۔
اللہ ہم سب کو حق بات کہنے سننے اور اس پر عمل کی توفیق دے آمین۔

*تحریر کردہ:*
*🖋کفایت اللہ سنابلی 🖋*
مکمل تحریر >>

Wednesday, 22 June 2016

हामरघे भांषा

गोतो राइते हामारघे वाटसआप ग्रूपे शेरशाबादी भांसार बिषोए याकटा अॉनलाइन मीटंग होईलो।

वानेक तोरका तोरकीर पोर कोई याकटा सिद्धान्तो लेवा होइलो।
🔴 शेरशाबादी बोलीके भांषा कोरा एखोन खूब दोरकार।
🔴 भांषार वाख्खोर हिंदीर मोतोनी होइबे।
🔴 कीछू वाख्खोर शेरशादीर लेगे बेसी कोरते होइबे। जेटा एकबार मिटिंग कोरे सिद्धान्तो लेवा होईबे।
🔴 सेई कारोनेई एज हमरा एई वेबसाइटे सोब पोरथोम शेरशाबादी लेखछी।

वानेक भाई बोंधूराके एटा उलटा लागते पारे। किनतो याते वानेक लाब आछे। हामरा जूति एेज एइ काजटा ना कोरी ताहले अोन्नो जाइतेरा एइ सुजोगेर लाब  उठियालिबे।

एेज बेसी लेखबोना। सेस मिटिंगेर पोर वाफिशियल भाबे जोखोन भांषा रेजिसटर होया जाईबे तोखोन तो एरकूम कोरेई लेखबो।

अपनार शुभेच्छुक।
ज़फ़र शेरशाबादी
مکمل تحریر >>

مولانا علی اصغر قاسمی رحمہ اللہ

تحریر: فضیلة الشیخ محمد ابراہیم سجاد التيمي حفظہ اللہ

 ھندستان بے شمار برادریوں کی سرزمین ھے اور انھیں میں سے ایک برادری ھے ،شیرشاہ آبادی برادری. اس برادری کی بھت سی خوبیوں کی کھکشاں میں کیی گھھنایے ھویے ستاروں میں سے ایک ستارا وہ بھی ھے جسے ھم اپنے اکابرِ رجال کی تاریخ سے ناآشنایی کا ستارا کھ سکتے ھیں. مجھے ذاتی طور پر اس بات کا شدید قلق ھے کہ ھم نے اپنی تاریخ تک مرتب نھیں کر رکھی ھے ،یھاں تک ھمارے جن اکابر علماءِ کرام نے اپنی زندگیاں ھمارے علمی و تعلیمی معیار بلند کرنے اور دین و عقیدہ کی حفاظت و صیانت اور عروج و فروغ میں کھپایی ھیں ،ان کی بھی حیات و خدمات پر مواد میری جانکاری کی حد تک صفر ھے. 
برسوں سے میرے دل میں یہ خواھش بار بار انگڑاییاں لیتی ھے کہ ھمارے علما کی تاریخ مرتب ھو لیکن جب اپنی علمی کم ماییگی پر نظر جاتی ھے تو وہ خواھش دل کے کسی کونے میں مایوسی اور وسایل کی کمی کی چادر تانے سو جاتی ھے. کچوکے بھی لگتے ھیں تو بھی جگانے کی ھمت اپنے دل میں نھیں آتی. 
لیکن آج میں نے فیصلہ لیا کہ چاھے جو بھی ھو ،اس کام کا آغاز ھو جانا چاھیے. کیا پتہ کہ میرے ساتھ اھلِ علم بھی ھو لیں اور رفتہ رفتہ ایک کارواں بن جایے اور اس طرح کم از کم علماءِ شیرشاہ آبادی کا ایک تذکرہ ھی سھی ،منظرِ عام پر آ جایے. 
یھی کچھ سوچ کر اپنے ایک عظیم استاد جناب مولانا اصغر علی قاسمی رحمہ اللہ کے بارے میں چند سطور سپردِ خامہ و قرطاس کر رھا ھوں: 
ضلع کٹیھار کے سیماپور اسٹیشن سے چار کلو میٹر دکھن ایک گاوں واقع ھے تتواری. اسی تتواری کے تھے مولانا اصغر علی قاسمی رحمہ اللہ جو علومِ عقلیہ و نقلیہ میں مرجع کی حیثیت رکھتے تھے. میں جب 1994 میں تتواری کے جامعہ اسلامیہ تعلیم حاصل کرنے گیا تو وہ ھمارے استاد ھویے اور ان سے پھلی ملاقات کلاس ھی میں ھویی. اس سے پھلے بھی ان کا تذکرہء خیر میں سن چکا تھا. جب ان سے ملاقات ھویی اور اس پر طرہ یہ کہ چھوٹی کلاس میں ھونے کے باوجود ان سے پڑھنے کا موقع ملا تو میری خوشی کی کویی انتھا نھیں رھی. 
وہ پڑھاتے کیا تھے ؟بس علم کا ایک دریا ھوتا تھا جو ان کے لبوں کے کھلتے ھی رواں ھو جاتا اور گھنٹی ختم ھونے کے بعد ھی رکتا تھا. 
اس زمانہ میں مولانا رحمہ اللہ کافی نحیف و نزار ھو چکے تھے مگر کبھی ناغہ نھیں کرتے تھے. لاٹھی ٹیک ٹیک کر آتے تھے. سر پہ دیوبندی ٹوپی ھوا کرتی تھی جو انھیں بھت پھبتی تھی. کلاس میں داخل ھوتے ھی کتاب مانگتے تھے اور کتاب ملتے ھی پڑھانا شروع کر دیتے تھے. تعلیم و تعلم کے علاوہ کویی وہ کلاس میں نھیں کرتے تھے. 
میں نے انھیں صرف و نحو اور منطق و فلسفہ کا بلا مبالغہ امام پایا. ایسا نھیں تھا کہ تفسیر و حدیث کا علم ان کے پاس کم تھا. وہ ان فنون میں بھی ماھر تھے. دراصل بات یہ ھے کہ ھمیں انھوں نے یھی فنون پھلے سال پڑھایے تھے ،اس لیے میں ان کا خصوصی تذکرہ کیا ،وگرنہ سچایی یہ ھے کہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے یا یوں کھیے کہ ھر فن مولا تھے. 
مکمل تحریر >>

Monday, 13 June 2016

شیر شاہ آبادی قوم

 تحریر: فضیلة الشیخ ابراہیم سجاد التيمي حفظہ اللہ
پورنیہ، بہار

مجھے فخر ہے اور بجا فخر ہے کہ میں اس قوم کا ایک فرد ہوں جس کی نسبت ایک ایسے درویش صفت بادشاہ کی طرف ہے جس کا اصل نام تو فرید خان تھا لیکن دنیا بھر میں اسے شیر شاہ سوری کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ اسی بادشاہ کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے میری قوم کا نام ہے : شیر شاہ آبادی۔ یہ ہندوستان کی ایک عظیم قوم تھی اور آج بھی ہے۔ لیکن آج سے تقریبا چھ سو سال پہلے کی اس کی داستاں آج کی صورتِ حال سے بے حد مختلف ہے۔ اس وقت ہماری قوم کردار کی دھنی تھی مگر آج بس گفتار کی قوم ہے۔ پہلے سیارہ تھی مگر آج ثابت و جامد ہے۔ علامہ اقبال نے جیسے ہماری ہی قوم کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا تھا: 
تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی 
کہ  تو  گفتار  وہ  کردار ،  تو  ثابت  وہ   سیارا 
یہ قوم ہندوستان وارد کیسے اور کہاں سے ہوئی؟ اس سوال کے جواب کے طور پر دو روایتیں میں نے سن رکھی ہیں۔ لیکن تلاشِ بسیار کے باوجود مجھے آج تک ان کی سندیں نہیں مل سکی ہیں۔
ایک روایت یہ ہے کہ ہماری قوم افغانستان سے ہجرت کرکے یہاں آئی ہے۔ اور اس حیثیت سے ہم افغانی النسل ہیں۔ آزادئ ہند سے پہلے کی دستاویزات دیکھئے تو آپ چونک جائیں گے یہ دیکھ کر کہ ہمارے آباء کے اسماءِ گرامی کے ساتھ "خان" لگا ہوا ملتا ہے۔ اس حیثیت سے ہم سب خان ہیں۔ شیر شاہ سوری کی شاہی فوج کی باگ ڈور ہماری ہی قوم کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ اور ماشاء اللہ ان کی قیادت میں ہماری قوم کے سورماوں نے مغلوں سے لوہا لیا ہے۔ اور انہیں کئی جنگوں میں شکستِ فاش بھی دی ہے۔ اس تاریخی تناظر میں ہم واقعی شیر دل قوم کے بیٹے ہیں۔ لیکن جب آج کے تناظر میں ہم اپنی حیثیت کو دیکھتے ہیں تو بڑی مایوسی ہوتی ہے۔ کیوں کہ آج ہم شیر دل تو ہیں مگر میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ آپسی لڑائی جھگڑے میں!  

دوسری روایت یہ ہے کہ ہم عربی النسل قوم ہیں۔ اس کی شانِ نزول یہ ھے کہ شیر شاہ سوری رحمہ اللہ فریضہء حج کی اداییگی کے لیے عرب تشریف لے گیے اور مناسکِ حج ادا کرنے کے بعد واپس آنے لگے تو ان کے شاھی قافلے کو رھزنوں کی ایک جماعت نے گھیر لیا. وہ چاھتے تو رھزنوں کا مقابلہ کر سکتے تھے مگر انھوں نے سرزمینِ حرمین پر خوں ریزی کو برا جانا اور رھزنوں سے گفتگو کرنے کے خواھاں ھویے. رھزنوں نے ان کی بات مان لی اور جب شیر شاہ نے لوٹ مار کی وجہ پوچھی تو رھزنوں نے کھا کہ حد درجہ کی غربت ھمیں مجبور کرتی ھے کہ ھم رھزنی کریں اور مھمانانِ رحمان و رحیم کو بھی نہ بخشیں. 
اس پر شیر شاہ نے ان کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ اگر آپ لوگ میرے ساتھ ھندستان چلنے پر راضی ھوں تو ھم آپ کو بڑی بڑی جاگیریں عطا کریں گے اور آپ کے جوانوں کو شیر شاھی فوج میں اعلی مراتب بخشیں گے. 
کھتے ھیں کہ ایک ھی خاندان کے دو بھاییوں نے شیر شاہ کی تجویز پر صاد کیا تھا اور دونوں بھایی اپنی آل و اولاد کے ساتھ ھندستان آکر بس گیے تھے اور ھم انھیں دونوں بھاییوں کی اولادیں ھیں. 
کیی وجوھات کی بنا پر مجھے یھی روایت مضبوط لگتی ھے. 
پھلی یہ کہ ھماری قوم پورنیہ ،کٹیھار ،ارریہ ،کشن گنج اور صاحب گنج کے علاوہ مغربی بنگال کے اتر اور پچھم دیناج پور اور اکا دکا طور پر مالدہ اور مرشد آباد میں بستی ھے اور یہ تمام مقامات شیر شاھی حکومت کی راجدھانی سھسرام کے قریبی اور مضافاتی علاقے ھیں. بنگال کے جن علاقوں میں ھماری قوم کی بود و باش ھے ،وہ 1912 میں بھار اور بنگال کی تقسیم کے بعد الگ ھویے ھیں. 
دوسری وجہ یہ ھے کہ یہ تمام علاقے تقریبا بھت زرخیز ھیں اور خصوصا لال گولہ کا علاقہ جس میں شیر شاہ نے ھماری قوم کو لاکر بسایا تھا ،بھت ھی زرخیز ھے اور جاگیر کے طور کسی کو دیے جانے کے واقعی لایق ھے. 
تیسری وجہ یہ ھے کہ ھماری قوم کا ایک طرہء امتیاز سادگی پسندی ھے جو عربوں کا آج بھی ما بہ الامتیاز خاصہ ھے.آپ ان علاقوں میں گھوم جاییے جن میں ھماری قوم بستی ھے ،آپ کو قدم قدم پر سادگی کے نظارے ھوں گے. 
چوتھی وجہ یہ ھے کہ ھماری قوم فطرت سے قریب رھنے کی خوگر ھے اور یہ بھی عربوں کا خاصہ رھا ھے اور آج بھی کھیں نہ کھیں ان میں یہ صفت پایی جاتی ھے. اسی میں ملا لیجیے عربوں کے مویشی پالن کو. ھمارے آباء عرب میں رھتے ھویے اونٹ اور بکریاں اور بھیڑ و دنبہ پالا کرتے تھے اور ھندستان میں آنے کے بعد انھوں نے گایے ،بھینس اور بکریاں پالنے پوسنے لگے اور آج بھی ھمارے بھت کم ایسے گھرانے ھوں گے جن میں مویشی پالن کی روایت نہ ملتی ھو. 
ان اور ان جیسی کیی دیگر وجوھات کی بنا پر مجھے لگتا ھے کہ واقعی ھم عربی النسل ھیں. 
مگر ایک بات مجھے بھت کھلتی ھے اور وہ یہ ھے کہ اگر ھم عربی النسل ھیں تو بنگالی زبان ھماری مادری زبان کب اور کیسے بن گیی اور عربی زبان ھم سے اس طرح کیسے غایب ھو گیی جیسے گدھے کے سر سے سینگ. 
بھر کیف! اپنی قوم کے بارے میں جو باتیں میں ھمیشہ سوچتا رھتا ھوں ،ان میں سے چند ایک باتیں میں نے آپ کی بارگاہ میں پیش کرنے کی جرات و ھمت کی ھے ،اس امید کے ساتھ کہ آپ کے پاس جو جانکاریاں ھوں ،انھیں آپ پیش کریں تاکہ ھماری ایک مستند تاریخ مرتب ھو سکے. 
ھاں! ایک اور بات یہ کہ کویی کھ سکتا ھے کہ اگر یہ قوم شیرشاہ سوری کے زمانے میں فوجی قوم تھی تو بعد میں کیا ھوا کہ یہ پوری طرح کسان قوم بن گیی ؟اس کا جواب میں یہ دیا کرتا ھوں کہ جب شیرشاھی حکومت ختم ھو گیی اور مغلوں نے پورے ھندستان پر قبضہ کر لیا تو اس قوم پر مغلی عتاب ضرور ٹوٹا ھوگا جس سے بچنے کے لیے اس قوم نے ھتھیار پھینک کر ھل کا پھل اختیار کر لیا اور آج بھی اختیار کیے ھویے ھے. 
رھی بات تعلیم کی تو اس ضمن میں دیگر مسلمان اقوام کی طرح اس کی بھی حالت پسماندہ ھے اور جن دو قوموں سے اس کا سلسلہء نسب جڑتا ھے ،وہ دونوں ھی قومیں ھمیشہ تعلیمی میدان میں پسماندہ رھی ھیں اور آج بھی ھیں ماشاء اللہ یعنی ھم تعلیمی پسماندگی کی اپنے اسلاف کی روایت کو آج بھی سینے سے لگایے ھویے ھیں. یہ اور بات کہ موجودہ دور میں ھم اس طوقِ محبت کو اپنے گلے سے اتار پھینکنے میں کوشاں ھیں اور ھماری شرحِ خواندگی 53 فی صد تک پھنچ گیی ھے. 
اپنی بات میں اس گزارش پر ختم کر رھا ھوں کہ آپ میری کویی تحریر پڑھیں یا نہ پڑھیں ،اس تحریر کو ضرور پڑھیں اور اپنے خیالات اور اطلاعات سے ھمیں نوازیں تاکہ اور بھی بھت کچھ اس ضمن میں لکھنے اور بولنے کی ھمت ھو سکے!!! 
رھے نام اللہ کا!!!! 


محمد ابراھیم سجاد تیمی
مکمل تحریر >>