Wednesday, 22 June 2016

हामरघे भांषा

गोतो राइते हामारघे वाटसआप ग्रूपे शेरशाबादी भांसार बिषोए याकटा अॉनलाइन मीटंग होईलो।

वानेक तोरका तोरकीर पोर कोई याकटा सिद्धान्तो लेवा होइलो।
🔴 शेरशाबादी बोलीके भांषा कोरा एखोन खूब दोरकार।
🔴 भांषार वाख्खोर हिंदीर मोतोनी होइबे।
🔴 कीछू वाख्खोर शेरशादीर लेगे बेसी कोरते होइबे। जेटा एकबार मिटिंग कोरे सिद्धान्तो लेवा होईबे।
🔴 सेई कारोनेई एज हमरा एई वेबसाइटे सोब पोरथोम शेरशाबादी लेखछी।

वानेक भाई बोंधूराके एटा उलटा लागते पारे। किनतो याते वानेक लाब आछे। हामरा जूति एेज एइ काजटा ना कोरी ताहले अोन्नो जाइतेरा एइ सुजोगेर लाब  उठियालिबे।

एेज बेसी लेखबोना। सेस मिटिंगेर पोर वाफिशियल भाबे जोखोन भांषा रेजिसटर होया जाईबे तोखोन तो एरकूम कोरेई लेखबो।

अपनार शुभेच्छुक।
मसुद शैख़

مولانا علی اصغر قاسمی رحمہ اللہ

تحریر: فضیلة الشیخ محمد ابراہیم سجاد التيمي حفظہ اللہ

 ھندستان بے شمار برادریوں کی سرزمین ھے اور انھیں میں سے ایک برادری ھے ،شیرشاہ آبادی برادری. اس برادری کی بھت سی خوبیوں کی کھکشاں میں کیی گھھنایے ھویے ستاروں میں سے ایک ستارا وہ بھی ھے جسے ھم اپنے اکابرِ رجال کی تاریخ سے ناآشنایی کا ستارا کھ سکتے ھیں. مجھے ذاتی طور پر اس بات کا شدید قلق ھے کہ ھم نے اپنی تاریخ تک مرتب نھیں کر رکھی ھے ،یھاں تک ھمارے جن اکابر علماءِ کرام نے اپنی زندگیاں ھمارے علمی و تعلیمی معیار بلند کرنے اور دین و عقیدہ کی حفاظت و صیانت اور عروج و فروغ میں کھپایی ھیں ،ان کی بھی حیات و خدمات پر مواد میری جانکاری کی حد تک صفر ھے. 
برسوں سے میرے دل میں یہ خواھش بار بار انگڑاییاں لیتی ھے کہ ھمارے علما کی تاریخ مرتب ھو لیکن جب اپنی علمی کم ماییگی پر نظر جاتی ھے تو وہ خواھش دل کے کسی کونے میں مایوسی اور وسایل کی کمی کی چادر تانے سو جاتی ھے. کچوکے بھی لگتے ھیں تو بھی جگانے کی ھمت اپنے دل میں نھیں آتی. 
لیکن آج میں نے فیصلہ لیا کہ چاھے جو بھی ھو ،اس کام کا آغاز ھو جانا چاھیے. کیا پتہ کہ میرے ساتھ اھلِ علم بھی ھو لیں اور رفتہ رفتہ ایک کارواں بن جایے اور اس طرح کم از کم علماءِ شیرشاہ آبادی کا ایک تذکرہ ھی سھی ،منظرِ عام پر آ جایے. 
یھی کچھ سوچ کر اپنے ایک عظیم استاد جناب مولانا اصغر علی قاسمی رحمہ اللہ کے بارے میں چند سطور سپردِ خامہ و قرطاس کر رھا ھوں: 
ضلع کٹیھار کے سیماپور اسٹیشن سے چار کلو میٹر دکھن ایک گاوں واقع ھے تتواری. اسی تتواری کے تھے مولانا اصغر علی قاسمی رحمہ اللہ جو علومِ عقلیہ و نقلیہ میں مرجع کی حیثیت رکھتے تھے. میں جب 1994 میں تتواری کے جامعہ اسلامیہ تعلیم حاصل کرنے گیا تو وہ ھمارے استاد ھویے اور ان سے پھلی ملاقات کلاس ھی میں ھویی. اس سے پھلے بھی ان کا تذکرہء خیر میں سن چکا تھا. جب ان سے ملاقات ھویی اور اس پر طرہ یہ کہ چھوٹی کلاس میں ھونے کے باوجود ان سے پڑھنے کا موقع ملا تو میری خوشی کی کویی انتھا نھیں رھی. 
وہ پڑھاتے کیا تھے ؟بس علم کا ایک دریا ھوتا تھا جو ان کے لبوں کے کھلتے ھی رواں ھو جاتا اور گھنٹی ختم ھونے کے بعد ھی رکتا تھا. 
اس زمانہ میں مولانا رحمہ اللہ کافی نحیف و نزار ھو چکے تھے مگر کبھی ناغہ نھیں کرتے تھے. لاٹھی ٹیک ٹیک کر آتے تھے. سر پہ دیوبندی ٹوپی ھوا کرتی تھی جو انھیں بھت پھبتی تھی. کلاس میں داخل ھوتے ھی کتاب مانگتے تھے اور کتاب ملتے ھی پڑھانا شروع کر دیتے تھے. تعلیم و تعلم کے علاوہ کویی وہ کلاس میں نھیں کرتے تھے. 
میں نے انھیں صرف و نحو اور منطق و فلسفہ کا بلا مبالغہ امام پایا. ایسا نھیں تھا کہ تفسیر و حدیث کا علم ان کے پاس کم تھا. وہ ان فنون میں بھی ماھر تھے. دراصل بات یہ ھے کہ ھمیں انھوں نے یھی فنون پھلے سال پڑھایے تھے ،اس لیے میں ان کا خصوصی تذکرہ کیا ،وگرنہ سچایی یہ ھے کہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے یا یوں کھیے کہ ھر فن مولا تھے. 

Monday, 13 June 2016

شیر شاہ آبادی قوم

 تحریر: فضیلة الشیخ ابراہیم سجاد التيمي حفظہ اللہ
پورنیہ، بہار

مجھے فخر ہے اور بجا فخر ہے کہ میں اس قوم کا ایک فرد ہوں جس کی نسبت ایک ایسے درویش صفت بادشاہ کی طرف ہے جس کا اصل نام تو فرید خان تھا لیکن دنیا بھر میں اسے شیر شاہ سوری کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ اسی بادشاہ کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے میری قوم کا نام ہے : شیر شاہ آبادی۔ یہ ہندوستان کی ایک عظیم قوم تھی اور آج بھی ہے۔ لیکن آج سے تقریبا چھ سو سال پہلے کی اس کی داستاں آج کی صورتِ حال سے بے حد مختلف ہے۔ اس وقت ہماری قوم کردار کی دھنی تھی مگر آج بس گفتار کی قوم ہے۔ پہلے سیارہ تھی مگر آج ثابت و جامد ہے۔ علامہ اقبال نے جیسے ہماری ہی قوم کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا تھا: 
تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی 
کہ  تو  گفتار  وہ  کردار ،  تو  ثابت  وہ   سیارا 
یہ قوم ہندوستان وارد کیسے اور کہاں سے ہوئی؟ اس سوال کے جواب کے طور پر دو روایتیں میں نے سن رکھی ہیں۔ لیکن تلاشِ بسیار کے باوجود مجھے آج تک ان کی سندیں نہیں مل سکی ہیں۔
ایک روایت یہ ہے کہ ہماری قوم افغانستان سے ہجرت کرکے یہاں آئی ہے۔ اور اس حیثیت سے ہم افغانی النسل ہیں۔ آزادئ ہند سے پہلے کی دستاویزات دیکھئے تو آپ چونک جائیں گے یہ دیکھ کر کہ ہمارے آباء کے اسماءِ گرامی کے ساتھ "خان" لگا ہوا ملتا ہے۔ اس حیثیت سے ہم سب خان ہیں۔ شیر شاہ سوری کی شاہی فوج کی باگ ڈور ہماری ہی قوم کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ اور ماشاء اللہ ان کی قیادت میں ہماری قوم کے سورماوں نے مغلوں سے لوہا لیا ہے۔ اور انہیں کئی جنگوں میں شکستِ فاش بھی دی ہے۔ اس تاریخی تناظر میں ہم واقعی شیر دل قوم کے بیٹے ہیں۔ لیکن جب آج کے تناظر میں ہم اپنی حیثیت کو دیکھتے ہیں تو بڑی مایوسی ہوتی ہے۔ کیوں کہ آج ہم شیر دل تو ہیں مگر میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ آپسی لڑائی جھگڑے میں!  

دوسری روایت یہ ہے کہ ہم عربی النسل قوم ہیں۔ اس کی شانِ نزول یہ ھے کہ شیر شاہ سوری رحمہ اللہ فریضہء حج کی اداییگی کے لیے عرب تشریف لے گیے اور مناسکِ حج ادا کرنے کے بعد واپس آنے لگے تو ان کے شاھی قافلے کو رھزنوں کی ایک جماعت نے گھیر لیا. وہ چاھتے تو رھزنوں کا مقابلہ کر سکتے تھے مگر انھوں نے سرزمینِ حرمین پر خوں ریزی کو برا جانا اور رھزنوں سے گفتگو کرنے کے خواھاں ھویے. رھزنوں نے ان کی بات مان لی اور جب شیر شاہ نے لوٹ مار کی وجہ پوچھی تو رھزنوں نے کھا کہ حد درجہ کی غربت ھمیں مجبور کرتی ھے کہ ھم رھزنی کریں اور مھمانانِ رحمان و رحیم کو بھی نہ بخشیں. 
اس پر شیر شاہ نے ان کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ اگر آپ لوگ میرے ساتھ ھندستان چلنے پر راضی ھوں تو ھم آپ کو بڑی بڑی جاگیریں عطا کریں گے اور آپ کے جوانوں کو شیر شاھی فوج میں اعلی مراتب بخشیں گے. 
کھتے ھیں کہ ایک ھی خاندان کے دو بھاییوں نے شیر شاہ کی تجویز پر صاد کیا تھا اور دونوں بھایی اپنی آل و اولاد کے ساتھ ھندستان آکر بس گیے تھے اور ھم انھیں دونوں بھاییوں کی اولادیں ھیں. 
کیی وجوھات کی بنا پر مجھے یھی روایت مضبوط لگتی ھے. 
پھلی یہ کہ ھماری قوم پورنیہ ،کٹیھار ،ارریہ ،کشن گنج اور صاحب گنج کے علاوہ مغربی بنگال کے اتر اور پچھم دیناج پور اور اکا دکا طور پر مالدہ اور مرشد آباد میں بستی ھے اور یہ تمام مقامات شیر شاھی حکومت کی راجدھانی سھسرام کے قریبی اور مضافاتی علاقے ھیں. بنگال کے جن علاقوں میں ھماری قوم کی بود و باش ھے ،وہ 1912 میں بھار اور بنگال کی تقسیم کے بعد الگ ھویے ھیں. 
دوسری وجہ یہ ھے کہ یہ تمام علاقے تقریبا بھت زرخیز ھیں اور خصوصا لال گولہ کا علاقہ جس میں شیر شاہ نے ھماری قوم کو لاکر بسایا تھا ،بھت ھی زرخیز ھے اور جاگیر کے طور کسی کو دیے جانے کے واقعی لایق ھے. 
تیسری وجہ یہ ھے کہ ھماری قوم کا ایک طرہء امتیاز سادگی پسندی ھے جو عربوں کا آج بھی ما بہ الامتیاز خاصہ ھے.آپ ان علاقوں میں گھوم جاییے جن میں ھماری قوم بستی ھے ،آپ کو قدم قدم پر سادگی کے نظارے ھوں گے. 
چوتھی وجہ یہ ھے کہ ھماری قوم فطرت سے قریب رھنے کی خوگر ھے اور یہ بھی عربوں کا خاصہ رھا ھے اور آج بھی کھیں نہ کھیں ان میں یہ صفت پایی جاتی ھے. اسی میں ملا لیجیے عربوں کے مویشی پالن کو. ھمارے آباء عرب میں رھتے ھویے اونٹ اور بکریاں اور بھیڑ و دنبہ پالا کرتے تھے اور ھندستان میں آنے کے بعد انھوں نے گایے ،بھینس اور بکریاں پالنے پوسنے لگے اور آج بھی ھمارے بھت کم ایسے گھرانے ھوں گے جن میں مویشی پالن کی روایت نہ ملتی ھو. 
ان اور ان جیسی کیی دیگر وجوھات کی بنا پر مجھے لگتا ھے کہ واقعی ھم عربی النسل ھیں. 
مگر ایک بات مجھے بھت کھلتی ھے اور وہ یہ ھے کہ اگر ھم عربی النسل ھیں تو بنگالی زبان ھماری مادری زبان کب اور کیسے بن گیی اور عربی زبان ھم سے اس طرح کیسے غایب ھو گیی جیسے گدھے کے سر سے سینگ. 
بھر کیف! اپنی قوم کے بارے میں جو باتیں میں ھمیشہ سوچتا رھتا ھوں ،ان میں سے چند ایک باتیں میں نے آپ کی بارگاہ میں پیش کرنے کی جرات و ھمت کی ھے ،اس امید کے ساتھ کہ آپ کے پاس جو جانکاریاں ھوں ،انھیں آپ پیش کریں تاکہ ھماری ایک مستند تاریخ مرتب ھو سکے. 
ھاں! ایک اور بات یہ کہ کویی کھ سکتا ھے کہ اگر یہ قوم شیرشاہ سوری کے زمانے میں فوجی قوم تھی تو بعد میں کیا ھوا کہ یہ پوری طرح کسان قوم بن گیی ؟اس کا جواب میں یہ دیا کرتا ھوں کہ جب شیرشاھی حکومت ختم ھو گیی اور مغلوں نے پورے ھندستان پر قبضہ کر لیا تو اس قوم پر مغلی عتاب ضرور ٹوٹا ھوگا جس سے بچنے کے لیے اس قوم نے ھتھیار پھینک کر ھل کا پھل اختیار کر لیا اور آج بھی اختیار کیے ھویے ھے. 
رھی بات تعلیم کی تو اس ضمن میں دیگر مسلمان اقوام کی طرح اس کی بھی حالت پسماندہ ھے اور جن دو قوموں سے اس کا سلسلہء نسب جڑتا ھے ،وہ دونوں ھی قومیں ھمیشہ تعلیمی میدان میں پسماندہ رھی ھیں اور آج بھی ھیں ماشاء اللہ یعنی ھم تعلیمی پسماندگی کی اپنے اسلاف کی روایت کو آج بھی سینے سے لگایے ھویے ھیں. یہ اور بات کہ موجودہ دور میں ھم اس طوقِ محبت کو اپنے گلے سے اتار پھینکنے میں کوشاں ھیں اور ھماری شرحِ خواندگی 53 فی صد تک پھنچ گیی ھے. 
اپنی بات میں اس گزارش پر ختم کر رھا ھوں کہ آپ میری کویی تحریر پڑھیں یا نہ پڑھیں ،اس تحریر کو ضرور پڑھیں اور اپنے خیالات اور اطلاعات سے ھمیں نوازیں تاکہ اور بھی بھت کچھ اس ضمن میں لکھنے اور بولنے کی ھمت ھو سکے!!! 
رھے نام اللہ کا!!!! 


محمد ابراھیم سجاد تیمی