Wednesday, 22 June 2016

مولانا علی اصغر قاسمی رحمہ اللہ

تحریر: فضیلة الشیخ محمد ابراہیم سجاد التيمي حفظہ اللہ

 ھندستان بے شمار برادریوں کی سرزمین ھے اور انھیں میں سے ایک برادری ھے ،شیرشاہ آبادی برادری. اس برادری کی بھت سی خوبیوں کی کھکشاں میں کیی گھھنایے ھویے ستاروں میں سے ایک ستارا وہ بھی ھے جسے ھم اپنے اکابرِ رجال کی تاریخ سے ناآشنایی کا ستارا کھ سکتے ھیں. مجھے ذاتی طور پر اس بات کا شدید قلق ھے کہ ھم نے اپنی تاریخ تک مرتب نھیں کر رکھی ھے ،یھاں تک ھمارے جن اکابر علماءِ کرام نے اپنی زندگیاں ھمارے علمی و تعلیمی معیار بلند کرنے اور دین و عقیدہ کی حفاظت و صیانت اور عروج و فروغ میں کھپایی ھیں ،ان کی بھی حیات و خدمات پر مواد میری جانکاری کی حد تک صفر ھے. 
برسوں سے میرے دل میں یہ خواھش بار بار انگڑاییاں لیتی ھے کہ ھمارے علما کی تاریخ مرتب ھو لیکن جب اپنی علمی کم ماییگی پر نظر جاتی ھے تو وہ خواھش دل کے کسی کونے میں مایوسی اور وسایل کی کمی کی چادر تانے سو جاتی ھے. کچوکے بھی لگتے ھیں تو بھی جگانے کی ھمت اپنے دل میں نھیں آتی. 
لیکن آج میں نے فیصلہ لیا کہ چاھے جو بھی ھو ،اس کام کا آغاز ھو جانا چاھیے. کیا پتہ کہ میرے ساتھ اھلِ علم بھی ھو لیں اور رفتہ رفتہ ایک کارواں بن جایے اور اس طرح کم از کم علماءِ شیرشاہ آبادی کا ایک تذکرہ ھی سھی ،منظرِ عام پر آ جایے. 
یھی کچھ سوچ کر اپنے ایک عظیم استاد جناب مولانا اصغر علی قاسمی رحمہ اللہ کے بارے میں چند سطور سپردِ خامہ و قرطاس کر رھا ھوں: 
ضلع کٹیھار کے سیماپور اسٹیشن سے چار کلو میٹر دکھن ایک گاوں واقع ھے تتواری. اسی تتواری کے تھے مولانا اصغر علی قاسمی رحمہ اللہ جو علومِ عقلیہ و نقلیہ میں مرجع کی حیثیت رکھتے تھے. میں جب 1994 میں تتواری کے جامعہ اسلامیہ تعلیم حاصل کرنے گیا تو وہ ھمارے استاد ھویے اور ان سے پھلی ملاقات کلاس ھی میں ھویی. اس سے پھلے بھی ان کا تذکرہء خیر میں سن چکا تھا. جب ان سے ملاقات ھویی اور اس پر طرہ یہ کہ چھوٹی کلاس میں ھونے کے باوجود ان سے پڑھنے کا موقع ملا تو میری خوشی کی کویی انتھا نھیں رھی. 
وہ پڑھاتے کیا تھے ؟بس علم کا ایک دریا ھوتا تھا جو ان کے لبوں کے کھلتے ھی رواں ھو جاتا اور گھنٹی ختم ھونے کے بعد ھی رکتا تھا. 
اس زمانہ میں مولانا رحمہ اللہ کافی نحیف و نزار ھو چکے تھے مگر کبھی ناغہ نھیں کرتے تھے. لاٹھی ٹیک ٹیک کر آتے تھے. سر پہ دیوبندی ٹوپی ھوا کرتی تھی جو انھیں بھت پھبتی تھی. کلاس میں داخل ھوتے ھی کتاب مانگتے تھے اور کتاب ملتے ھی پڑھانا شروع کر دیتے تھے. تعلیم و تعلم کے علاوہ کویی وہ کلاس میں نھیں کرتے تھے. 
میں نے انھیں صرف و نحو اور منطق و فلسفہ کا بلا مبالغہ امام پایا. ایسا نھیں تھا کہ تفسیر و حدیث کا علم ان کے پاس کم تھا. وہ ان فنون میں بھی ماھر تھے. دراصل بات یہ ھے کہ ھمیں انھوں نے یھی فنون پھلے سال پڑھایے تھے ،اس لیے میں ان کا خصوصی تذکرہ کیا ،وگرنہ سچایی یہ ھے کہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے یا یوں کھیے کہ ھر فن مولا تھے. 

No comments: