Thursday, 5 January 2017

شریفہ

تحریر:  ابو تقی الدین رحیمی حفظہ اللہ

 ایک عام میوہ ہے جو دنیا کے تمام ممالک میں دستیاب ہے'ہمارے یہاں اسے جنگلی پھل کہا جاتا ہے'شریفہ کا درخت گھر کے پیچھے یا سامنے یا پھر سڑک کے کنارے اگ کر پھل دینا شروع کر دیتا ہے'مگر اب اس کی برصغیر کے بعض حصوں'عرب کے بعض ملکوں اور یوروپ کے بعض خطوں میں باضابطہ کاشت کی جاتی ہے.



اس پھل کو اردو'ہندی میں شریفہ'عربی میں قشطة اور انگریزی میں custard apple کہتے ہیں.
ہمارے یہاں یہ دوطرح کے ہوتے ہیں ایک تو شریفہ جس کا درخت تقریبا پانچ میٹر اونچا ہوتا ہے'اس کی پتیاں لمبی اور کھردری ہوتی ہے'اس کا پھل امرود کی طرح گول خوش ذائقہ گودے دار جس کے اندر ۲۰ تا ۳۸ سیاہ بیج پائے جاتے ہیں اس کا چھلکا موٹا ہوتا ہے اور اس پر خانے بنے ہوتے ہیں'رنگ سبز ہوتا ہے.
دوسرا آتا یا سیتا پھل یہ بھی ہوبہو شریفہ کی طرح ہوتا ہے تاہم آتا کا پیڑ شریفہ کے پیڑ سے قدرے بڑا ہوتا ہے'پھل کا حجم اور ذائقہ بھی شریفہ ہی کی طرح ہے لیکن اس کا رنگ شریفہ کے رنگ سے مختلف ہوتا ہے.
پھل جب پک جاتا ہے تو اس کا چھلکا نرم پڑ جاتا ہے'ذراسا دبانے پر چھلکا ٹوٹ جاتا ہے'پھل کے اندر کا مزے دار گودا شوق سے کھایا جاتا ہے.
ہم پچپن میں شریفہ یا آتا کو پکنے سے پہلے ہی درخت سے اتار لیتے تھے پھر اسے گیہوں کے بھوسے کہ اندر چند دنوں کے لئے چھپا دیتے تھے پھر پک جانے پر اس سے نکال کر مزہ لے لے کر کھاتے تھے.
بہت قیمتی ہے شریفہ:
ہمارے یہاں اس پھل کی کوئی قیمت نہیں ہے'لیکن پہلی بار جب سعودی میں اس پھل کی قیمت دیکھی تو میں تذبذب میں پڑگیا کہ کیا یہ وہی شریفہ ہے جو ہمارے یہاں پایاجاتا ہے یا کوئی اور پھل ہے؟!
دراصل یہ اتنا مہنگا اس لئے ہے کہ شریفہ کینسر کا دفاع کرنے والا بہترین پھل ہے'کئی یونیورسیٹیوں میں اس پھل پر بحث وتحقیق کی گئی اور معلوم ہوا کہ شریفہ کینسر کے لئے تریاق ہے.
کہتے ہیں کہ شریفے کے درخت کی چھال اسہال دور کرنے میں مفید ہے'شریفے کے درخت کی لکڑی کام آتی ہے'دیہات میں اس کی لکڑی سے چھوٹے زرعی اوزار کے دستے بنائے جاتے ہیں.

No comments: