Sunday, 17 May 2020

مولانا عین الدین احمد صاحب قاسمی رحمہ اللہ

تحریر: مشتاق احمد ندوی
مولانا عین الدین صاحب قاسمی ایک نرم مزاج، باغ و بہار طبیعت کے مالک اور مختلف علوم و فنون کے ماہر عالم دین تھے۔ لمبے وقت تک صحیحین کا درس دیتے رہے۔ مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ بانس گاڑا کے عروج کے زمانے میں اس کے صدر مدرس رہے۔ مولانا ابو بکر ہارونی کے بعد اصلاحیہ کے پرنسپل بنے اور 1978 تک اس با وقار عہدے پر فائز رہے۔
عین الدین احمد بن حاجی طریق اللہ بن نیازن منا۔ دس بارہ سال عمر تھی کہ اپنے والد کے ساتھ مرشد آباد سے نقل مکانی کرکے مرگھیا، صدر ٹولہ، براری، پورنیہ آ گئے۔ یہ ذہن نشیں رہے کہ آج کا کٹیہار اس زمانے میں متحدہ پورنیہ کا ایک حصہ ہوا کرتا تھا۔
مولانا کے والد حاجی طریق اللہ صاحب کی شخصیت علاقے میں اپنا ایک وقار رکھتی تھی۔ اچھی خاصی زمینات کے مالک تھے۔ دو ہی بیٹے تھے اور دونوں کو اونچی تعلیم دلائی تھی۔ بڑے بیٹے ماسٹر سفیر الدین صاحب راج شاہی کالج سے گریجویٹ تھے، لیکن جوانی میں دو تین بچوں کو چھوڑ کر اللہ کو پیارے ہو گئے۔ دوسرے بیٹے مولانا عین الدین احمد صاحب دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تھے، جن کے بارے میں آج مجھے کچھ باتیں عرض کرنی ہیں۔ حاجی طریق اللہ صاحب کے پوتے مولوی عبد الرزاق کے مطابق اللہ نے انھیں لگ بھگ ایک سو دس سال کی عمر دی تھی۔ دو بار حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی تھی۔ علم دوست اور علما نواز تھے۔ طبیعت میں فیاضی بھی تھی۔ خود اپنے دروازے میں جامع مسجد بنوائی تھی، جو اب دو منزلہ بن چکی ہے۔ مرگھیا، صدر ٹولہ میں واقع مڈل اسکول کی زمین بھی انہی کی وقف کی ہوئی ہے۔
مولانا عین الدین کی پیدائش کب ہوئی، اس کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہ ہو سکا۔ مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کے ریکارڈز کو کھنگالنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ان کی اسناد میں درج تاریخ پیدائش معلوم ہو سکتی ہے۔
ابتدائی تعلیم کب، کہاں اور کس کس سے حاصل کی، یہ بھی بڑی حد تک پردہ خفا میں ہے۔ ممکن ہے کہ بچپن میں زانوئے تلمذ اپنے پھوپھا مولوی امین الدین صاحب کے آگے تہہ کیے ہوں اور بنیادی تعلیم انہی سے حاصل کی ہو۔ مولوی امین الدین صاحب مشہور عالم دین مولانا محب الحق صاحب مرگھیاوی کے والد تھے۔ فارسی کے اچھے جان کار تھے۔ خود مولانا محب الحق صاحب نے بھی مشکوة المصابيح تک کی تعلیم انہی سے حاصل کی تھی اور اس کے بعد عبد اللہ پور مدرسے میں چار پانچ سال پڑھ کر درس و تدریس میدان میں آ گئے تھے اور کام یاب ترین مدرس ثابت ہوئے تھے۔
بہر حال، اس کے بعد ایک دو سال آرہ بہار کے کسی مدرسے میں بھی زیر تعلیم رہے، جو بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے بعد دار العلوم دیوبند چلے گئے اور کم و بیش دس سال رہ کر ایک طرح سے پوری تعلیم وہیں حاصل کی۔ مولانا کے بیٹوں کے مطابق مولانا دار العلوم دیوبند میں مولانا منت اللہ رحمانی، سابق امیر امارت شریعہ بہار و اڑیسہ کے ہم درس تھے۔ اگر یہ صحیح ہے تو دار العلوم سے ان کی فراغت 1933 کو ہوئی تھی، کیوں کہ اسی سال مولانا منت اللہ رحمانی صاحب فارغ ہوئے تھے۔
دار العلوم دیوبند سے فارغ ہوکر آئے، تو والد صاحب کی زمین داری کی دیکھ بھال میں جٹ گئے۔ 1945-46 میں بڑے بھائی کا انتقال ہو گیا، تو ذمے داری اور بڑھ گئی۔ اسی بیچ ملک کی آزادی کے بعد پنچایتی راج نظام کا نفاذ عمل میں آیا، تو مکھیا بھی بن گئے۔ یوں، پوری طرح دنیا کے جھمیلوں میں پھنس گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک طویل عرصہ گزر گیا، جو بیس سال سے کم نہیں ہوگا۔ لیکن اس کے بعد پھر تدریسی سلسلے کا آغاز ہوا، جو تیس پینتیس سالوں تک جاری رہا اور اس کا بیش تر حصہ صدر مدرس کی حیثیت سے مختلف اداروں کی تعلیمی و تربیتی رہ نمائی میں گزرا۔
تدریسی زندگی کا آغاز مرگھیا صدر ٹولہ پرائمری اسکول میں صدر مدرس کی حیثیت سے ہوا۔ شاید چار پانچ سال یہاں رہے ہوں گے۔ مشاہرے میں 13 روپیے ملتے تھے۔ اس کے بعد اپنے والد کے کہنے پر دینی مدارس میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے کی طرف مائل ہوئے۔ اس کڑی میں سب سے پہلے بیساکھا گھاٹ مدرسے کا نام آتا ہے۔ شاید 1942-43 میں بیساکھا گھاٹ میں ایک چھوٹا سا مدرسہ کھلا تھا۔ شروع میں شاید یہاں صرف حفظ خانہ تھا۔ مولانا شمس الدین، سابق مدرس مدرسہ اصلاحیہ سیماپور نے یہیں شعبہ حفظ میں داخلہ لیا تھا اور تین سال میں حافظ عبد الجبار صاحب (سلام ٹولہ براری) سے دس پارے حفظ کیے تھے۔ آگے چل کر اس ادارے سے مولانا عین الدین صاحب قاسمی اور مولانا ابو بکر صاحب رحمانی رحمھما اللہ بھی جڑ گئے۔ یہیں مولانا علی اصغر قاسمی صاحب نے مولانا عین الدین صاحب قاسمی سے پڑھنے کا شرف حاصل کیا تھا۔ مولانا یہاں کتنے دن رہے یہ کہنا مشکل ہے۔ تدریسی اوقات مدرسے میں گزار کر گھر آ جاتے اور کھیتی باڑی کا کام دیکھتے تھے۔
انہی دنوں کی بات ہے کہ مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ کے مدرس مولانا فضل الرحمن صاحب مولانا کو چتوریہ لے جانے کے مقصد صدر ٹولہ آئے۔ مولانا کھیت گئے ہوئے تھے۔ والد محترم حاجی طریق اللہ صاحب کے سامنے انھوں نے بات رکھی اور وہ اسی (80) روپیہ ماہانہ مشاہرہ پر اپنے فرزند ارجمند کو بھیجنے پر رضامند ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب مولانا کے سے ملنے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔ کافی دیر بعد جب انھوں نے پوچھا کہ مولانا ابھی تک آئے نہیں؟ تو انھیں بتایا گیا کہ یہی دھول مٹی سے اٹا ہوا شخص، جو ابھی ابھی آپ سے مل کر گیا ہے، مولانا عین الدین صاحب قاسمی ہیں! اتنا سن کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی! خیر، مولانا کو گھر چھوڑ کر جانے میں تامل تھا۔ کیوں کہ بڑے بھائی کا انتقال ہو چکا تھا اور کھیتی باڑی کی دیکھ بھال ضروری تھی۔ لیکن ابا حضور کا فیصلہ تھا، سو چل دیے۔ یہ شاید 1957 کے آس پاس کی بات ہے۔ چتوریہ میں 1970 تک رہے۔ تیرہ چودہ سالوں پر محیط اس مدت کا بیش تر حصہ بطور صدر مدرس گزارا۔ بخاری اور مسلم جیسی اونچی کتابیں پڑھاتے رہے۔ یہ مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ کے اصل عروج کا زمانہ تو تھا ہی، اس کے ساتھ ہی مولانا عین الدین صاحب کے تدریسی کیریر کا بھی پک اپ کا زمانہ تھا۔ آپ کی علمی لیاقت اور اعلی تدریسی ذوق کے ساتھ ساتھ حسن انتظام کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ یہاں آپ کے ساتھ جن لوگوں نے کام کیا، ان میں مولانا حضرت علی صاحب، مولانا عبد المنان صاحب سکریلی، مولانا محی الدین صاحب فیضی اور مولانا علی اصغر قاسمی وغیرہ شامل ہیں۔
1970 میں جب مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کے پرنسپل اور روح رواں مولانا ابکر ہارونی کا اچانک انتقال ہو گیا، تو اس کے ذمے داران کو ایک ایسے عالم اور منتظم کی تلاش تھی، جو ان کی جگہ لے سکے۔ ایسے میں لوگوں کی نگاہ انتخاب مولانا عین الدین صاحب قاسمی پر جاکر ٹھہری۔ کیوں کہ پچھلے آٹھ دس سال سے مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ ان کی صدر مدرسی میں بڑے آب و تاب کے ساتھ چل رہا تھا۔ چنانچہ آپ اصلاحیہ لائے گئے اور 1978 میں یہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔
یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا عین الدین صاحب کے زمانے میں، خاص کر اخیر دور میں، اصلاحیہ کے اندر نظم و ضبط اور تعلیم و تربیت کا وہ معیار قائم نہ رہ سکا، جو اس کا نشان امتیاز ہوا کرتا تھا، لیکن اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ تنزلی کی جانب اس میلان کی کوئی ایک نہیں، بلکہ بہت ساری وجوہات ہیں، جن کی تفصیل میں جانے کا یہ مناسب موقع نہیں ہے۔
اصلاحیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد درس و تدریس سے وابستہ رہنے کا شوق بے پایاں اور قدر دانوں کا اصرار آپ کو 1980 میں معہد التوحید الدینی شری پور لے گیا۔ یہاں ایک سال رہنے کے بعد اسلام پور مدرسہ (مالدہ) گئے، جہاں بنگال کے معروف عالم دین اور مقبول ترین مقرر مولانا عبد الوہاب رحمانی کے ساتھ لگ بھگ پانچ رہے اور درس نظامیہ کی اونچی کتابیں پڑھاتے رہے۔
اس کے بعد طبیعت علیل رہنے لگی، تو درس و تدریس کا سلسلہ بند کرکے گھر رہنے لگے۔ فالج کے اٹیک کے بعد کچھ دن صاحب فراش رہے اور بالآخر فروری 1992 کو اس فانی دنیا سے آخرت کے سفر پر چل پڑے۔
مولانا ایک جید عالم دین، علوم اسلامیہ کے اچھے جان کار، تجربہ کار مدرس اور اچھے منتظم تھے۔ ساتھ ہی نرم مزاج، صاف دل، نیک طبیعت، جفا کش اور خوش اخلاق انسان تھے۔ حنفی المسلک تھے، لیکن تعصب و تعنت کے شائبے سے بھی بالا تر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل حدیث مدارس کے نہ صرف صدر مدرس رہے، بلکہ بخاری اور مسلم جیسی اہم ترین کتابیں پڑھاتے رہے۔
مولانا کے شاگرد بہار، بنگال اور جھارکھنڈ میں اتنی تعداد میں پھیلے ہوئے ہیں کہ ان کا شمار ناممکن ہے اور الحمد للہ ان میں سے بہت سے لوگ مختلف میدانوں میں بہت اچھا کر رہے ہیں۔
مولانا کو پانچ بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں۔ بڑے بیٹے عبد المنان صاحب مولانا کے بعد دو ٹرم مکھیا رہے۔ دوسری بیٹے مولوی عبد الرزاق صاحب پرائمری اسکول سے ریٹائرڈ ہیں۔ تیسرے بیٹے عبد المتین صاحب کھیتی باڑی سے وابستہ تھے اور ابھی کچھ دن پہلے قضا ہوئے ہیں۔ چوتھے بیٹے عبد اللطیف صاحب گریجویٹ تھے اور مولانا کی زندگی ہی میں فوت ہو چکے تھے اور پانچویں بیٹے عبد الحنان صاحب ایم کام کے بعد پوسٹ ماسٹر ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ مولانا کے حسنات کو قبول کرے، سیئات سے درگزر کرے اور فردوس بریں میں جگہ عنایت کرے۔ آمین

0 comments: