Sunday, 17 May 2020

مولانا ابو بکر رحمانی رحمہ اللہ

تحریر: مشتاق احمد ندوی

مولانا ابو بکر رحمانی رحمہ اللہ ایک مستند عالم دین اور لائق و فائق استاد تھے۔ عربی و فارسی کے علاوہ قرآن و حدیث اور دیگر علوم اسلامیہ میں رسوخ حاصل تھا۔ مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کے پرنسپل مولانا ابو بکر ہارونی انھیں استاد کی حیثیت سے مانتے تھے۔ ممکن ہے کہ ہارونی صاحب سچ مچ ان کے شاگرد رہے ہوں۔ جب کہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ ان کے ساتھ عزت و احترام کا یہ معاملہ ان کے علم و فضل اور تقوی و پرہیزگاری کی وجہ سے روا رکھتے تھے۔
رحمانی صاحب بسنت پور دیارا میں پیدا ہوئے۔ کٹھوتیہ جگدیش پور، براری میں پرورش پائی۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی میں حاصل کی۔ بچپن میں شادی ہو گئی تھی۔ پڑھنے کا شوق جاگا، تو گھر سے بھاگ کھڑے ہوئے اور بیوی کو اختیار دے دیا کہ چاہو تو فراغت تک انتظار کرو اور چاہو تو طلاق لے لو۔ بیوی نے طلاق لینے کو ترجیح دی اور یوں ازدواجی زندگی کے جھمیلوں سے آزاد ہوکر پورے انہماک کے ساتھ پڑھنے لگے۔ تعلیم مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ میں ہحاصل کی تھی۔ لیکن وہاں کتنے رہے، کن درجات میں پڑھے اور کن اساتذہ سے کسب فیض کیا، یہ سب باتیں معلوم نہ ہو سکیں۔ البتہ، اسی ادارے سے نسبت کی وجہ سے رحمانی صاحب کے نام سے جانے جاتے تھے۔ مدرسہ رحمانیہ دہلی کے بعد روپڑ، پنجاب گئے اور اپنے وقت کے عظیم محدث، مفتی اور محقق حافظ عبد اللہ روپڑی سے استفادہ کیا۔ واپسی کے بعد کرامت پور، مرگھیا، براری میں شادی کی اور مستقل طور پر یہیں بس گئے۔
مولانا ایک شان دار مدرس تھے۔ آخر کے دس گیارہ سالوں کے علاوہ، جو بیماری کی حالت میں بسر ہوئے، پوری زندگی درس و تدریس میں گزاری۔ لیکن، بد قسمتی یہ ہے کہ تفصیلات نہیں ملتیں۔ جو کچھ معلوم ہو سکا، وہ یہ ہے کہ کچھ دن ٹاپو میں رہے اور پھر مدرسہ اصلاحیہ سیماپور میں لمبے وقت تک تدریسی امور سے وابستہ رہے۔ مولانا عطاء الرحمن مدنی 1948 میں اصلاحیہ میں زیر تعلیم تھے اور اس وقت سے ہی آپ اصلاحیہ میں موجود تھے۔
مطالعے کا شوق بھی خوب پال رکھا تھا۔ مولانا عمران صاحب کا کہنا ہے کہ ان دنوں، جب وہ فالج کے حملے کے بعد بستر پکڑ چکے تھے، ہم ان سے ملنے گئے، تو آس پاس کتابیں رکھی ہوئی ملیں۔
بڑے اچھے خطیب تھے۔ تقریریں بڑی عالمانہ اور دل کو چھو لینے والی ہوتی تھیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ بنگلہ بھی اچھی جانتے تھے اور دونوں زبانوں میں بڑے سلیقے سے خطاب کرتے تھے۔ گاؤں کی جامع مسجد کے امام تھے۔ مرگھیا عید گاہ کے بھی امام تھے، جہاں پورے مرگھیا پنچایت کے لوگ ایک ساتھ عید کی نماز ادا کرتے ہیں۔ مولانا محمد عمران صاحب(مرگھیا) کے بقول جب عیدین کی نماز کے بعد خطاب فرماتے، تو تقریر اتنی رقت آمیز ہوتی کہ اکثر لوگ اپنے اوپر قابو نہ رکھ پاتے اور بے ساختہ رو دیتے۔
تقوی اور پرہیزگاری کے معاملے میں بھی یکتا تھے۔ گھر میں پردے کا خاص اہتمام تھا۔ ویسے تو ان دنوں ہر گھر میں پردے کا اہتمام تھا، لیکن مولانا کے گھر کی عورتیں اس معاملے میں خاص امتیاز رکھتی تھیں۔
جسمانی اعتبار سے کافی لحیم و شحیم اور گٹھے ہوئے بدن کے مالک تھے۔ قد اوسط یا اس سے ذرا کم تھا۔ معاشی اعتبار سے خوش حال تھے۔ کئی الگ الگ جگہوں میں ان کے پاس زمین تھی۔ سیماپور بازار میں مسجد کے پاس تقریبا دو بیگھا زمین خرید رکھی تھی۔ لیکن المیہ یہ رہا کہ ان کی اولاد سے ان کی کوئی بھی میراث سنبھالی نہ جا سکی.....!!
رحمانی صاحب کے بارے میں یہ مختصر سی معلومات، جو ہم نے آپ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے، اس کا بیش تر حصہ مولانا اکرام الحق صاحب (کرامت پور) سے لیا ہوا ہے، جو ہائی اسکول سے ریٹائرڈ ٹیچر اور دینی، دعوتی اور سماجی امور سے دلچسپی رکھنے والے ایک بے لوث عالم دین ہیں۔ میں نے بات کی، تو بڑی محبتوں سے پیش آئے اور چند دنوں بعد ہی کچھ معلومات یک جا کر کے ارسال کر دیا۔ اللہ انھیں اور ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور مولانا ابو بکر رحمانی رحمہ اللہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے.....!!

0 comments: