Sunday, 17 May 2020

جناب محمد شکور صاحب، سابق ایم ایل اے - سرگرم سیاست کے پچاس سال

تحریر: مشتاق احمد ندوی


جناب محمد شکور صاحب نے 1969 میں سیاست میں قدم رکھا اور اسی سال منعقد ہونے والے بہار ودھان سبھا الیکشن میں براری ودان سبھا حلقے سے سی پی ایم کے امیدوار کی حیثیت سے جیت درج کی۔ الیکشن لڑنے کے لیے ہائی اسکول کی نوکری سے استعفی دے کر میدان میں اترے تھے۔ 1969 کے ودھان سبھا الیکشن سے 2019 کے لوک سبھا الیکشن تک کا ان کا پچاس سالہ لمبا سیاسی سفر اتار چڑھاؤ بھرا اور بڑا صبر آزما رہا ہے۔ ابتدائی چار ودھان سبھا انتخابات میں سے تین میں جیت درج کی؛ دو بار براری سے اور ایک بار پران پور سے۔ لیکن اس کے بعد حالات ایسے بدلے کہ جیت ہاتھ سے پھسلتی چلی گئی۔ ایک بار ہاتھ آئی بھی، تو وقتی ثابت ہوئی۔ آئیے ان کے طویل سیاسی سفر کے ساتھ ساتھ ان کے حالات زندگی پر ایک نظر ڈالتے چلیں۔
شکور صاحب کے بقول ان کا اصل نام عبد الشکور ہے۔ یہی نام ان کے تمام تعلیمی اسناد میں درج ہے۔ لیکن، 1969 میں جب بہار ودھان سبھا الیکشن کے لیے امیدوار کی حیثیت سے نام مندرج کروانے کی باری آئی، تو ووٹر لسٹ میں محمد شکور درج ہونے کی وجہ سے وہی نام مندرج کروانا پڑا اور اس طرح آگے چل کر سیاسی دنیا میں اسی نام سے مشہور ہوئے۔
بنکا، سیماپور، کٹیہار، بہار سے تعلق رکھنے والے شکور صاحب کی پیدائش تعلیمی اسناد کے مطابق 5 نومبر 1942 کو ہوئی تھی۔ والد صاحب محمد مسلم بن حاجی عبد الواحد ایک اوسط درجے کے کسان تھے۔ فوقانیہ تک کی تعلیم مدرسہ اصلاحیہ سیماپور میں حاصل کی۔ اہم اساتذہ میں مولانا ابو بکر ہارونی، مولانا ابو بکر رحمانی، مولانا محمد سلیمان صاحب، مولانا محمد اسحاق سلفی اور مولانا نذیر احمد شمسی وغیرہ شامل ہیں۔ فوقانیہ کے بعد مولوی اور عالم کے مراحل بہار کی قدیم ترین اور عظیم درس گاہ دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں رہ کر طے کیے۔ 1959 میں عالم کا امتحان پاس کرنے کے بعد ڈی ایس کالج کٹیہار سے پری یونی ورسٹی پاس کیا۔ اس دوران شمشیر گنج میں رہتے اور روزانہ ڈی ایس کالج تک پیدل آتے۔ لنچ کے لیے کلائی کی روٹی ساتھ لاتے اور دوپہر میں کہیں بیٹھ کر کھا لیتے۔ پری یونی ورسٹی کے بعد 1962 میں چمنی بازار مدرسے میں 60 روپے کے مشاہرے پر بحال ہوکر تدریسی کام کرنے لگے اور ساتھ ہی تعلیم جاری رکھنے کے لیے پورنیہ کالج پورنیہ میں گریجویشن میں داخلہ لے لیا۔ 1965میں گریجویشن مکمل ہوا، تو پورنیہ نگر پالیکا میں استاد کی حیثیت سے بحال ہوگئے۔ لیکن یہ سلسلہ چار پانچ مہینوں سے زیادہ دراز نہ ہو سکا۔ چنانچہ پھر آگے کی تعلیم کا شوق دامن گیر ہوا اور پورنیہ چھوڑ کر بھاگل پور چلے گئے۔ یہاں سے بی ایڈ کرنے کے بعد ہائر سکنڈری اسکول چندوا، دھمداہا، پورنیہ میں بحال ہو گئے۔
اس طرح، شکور صاحب ٹیچر بن گئے، لیکن یہ ان کی منزل نہیں تھی۔ ان کی اصل منزل بانہیں پھیلائے بے صبری سے ان کے انتظار میں کھڑی تھی۔ ابھی چار پانچ مہینے ہی گزرے تھے کہ 1969 کا وسط مدتی انتخاب آگیا۔ پھر کیا تھا، انھوں نے حالات کا جائزہ لیا، کچھ احباب سے مشورہ کیا اور وقت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے نہایت بے سروسامانی کے عالم میں انتخابی دنگل میں کود پڑے.
ان دنوں اس طرح کا فیصلہ لینا آسان نہیں تھا۔ سیمانچل میں لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود اب تک کسی شیرشاہ آبادی نے ودھان سبھا کا الیکشن لڑنے کا حوصلہ نہیں دکھایا تھا۔ مشہور وکیل جناب ابراہیم صاحب نے گرچہ لوک سبھا کے انتخاب کا سامنا کیا تھا، لیکن ووٹ بٹورنے میں خاطر خواہ کام یاب نہیں ہوئے تھے۔ برادری کی حالت تعلیمی، معاشی، سیاسی اور سماجی اعتبار سے حد درجہ خستہ تھی۔ پھر، خود شکور صاحب کا سیاسی تجربہ بھی صفر تھا۔ اس پر یہ کہ تعلیمی اسناد کے مطابق ابھی ان کی عمر محض 27 سال ہی ہو رہی تھی۔ ان سب باتوں کے مد نظر ہائی اسکول کی نوکری چھوڑ کر چناوی میدان میں اترنے کا فیصلہ کچھ آسان نہیں تھا۔ لیکن شکور صاحب کے جوش فراواں اور جذبۂ صادق کے سامنے یہ ساری باتیں ہیچ ثابت ہوئیں۔ خوش قسمتی سے انھیں سی پی ایم کا ٹکٹ بھی مل گیا۔ ان دنوں براری ودھان سبھا حلقے میں سی پی ایم کے کچھ کیڈر موجود تھے۔ ان لوگوں نے بھر پور ساتھ دیا۔ پیدل اور سائیکل میں سوار ہوکر پورے حلقے کا دورہ کیا اور بنا خرچا پانی کے انتخابی مہم چلائی۔ اس سے پہلے شیر شاہ آبادی عورتیں عام طور پر ووٹ دینے کے لیے نہیں نکلتی تھیں۔ لیکن اس بار کھل کر نکلیں اور ووٹ دیا۔ نتیجے میں بارہ ہزار ووٹ سے جیت درج ہوئی۔
شکور صاحب کی یہ جیت سیمانچل کے شیر شاہ آبادی سماج کے لیے خاص طور سے خوشی اور مسرت کے کئی پہلو رکھتی تھی۔ اس کا ایک آدمی ودھان سبھا پہنچا، تو اس کے اندر ایک نئی امنگ نے انگڑائی لی۔ مایوسی اور بے حوصلگی کے بادلوں کے پیچھے سے امید اور حوصلے کی کرنیں نمودار ہوئیں اور آگے چل کر مرحوم مبارک حسین اور جناب منصور عالم صاحب جیسے لوگ سیاست کے افق پر آب و تاب کے ساتھ چمکے۔
شکور صاحب سی پی ایم کے ٹکٹ سے جیت کرکے ودھان سبھا پہنچے تھے۔ لیکن متعدد وجوہات کی بنیاد پر بعد میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی اور 1972 کا چناؤ کانگریس کے ٹکٹ پر لڑ کر جیت درج کی۔ اس طرح 1977 تک ودھان سبھا میں براری کی نمائندگی کرتے رہے۔
لیکن اس بیچ بھارت کی قومی سیاست نے زبردست اتھل پتھل کا دور دیکھا۔ 1971 میں اندرا گاندھی نے 'غریبی ہٹاؤ' کا نعرہ دے کر پورے دم خم کے ساتھ مرکز میں اپنی حکومت بنائی۔ لیکن 1971 سے 1975 کے بیچ لیے گئے کئی غلط فیصلوں اور 1975 میں ایمرجنسی لاگو کرنے کی وجہ سے ملک بھر میں اندرا گاندھی کے خلاف زبردست غصہ اور برگشتگی کا ماحول پیدا ہو چکا تھا۔ نتیجتا 1977 کے انتخابات میں ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی اور مرکز میں جنتا پارٹی کی حکومت بن گئی۔ اس کے بعد بہار ودھان سبھا کے الیکشن میں بھی کانگریس کو نقصان اٹھانا پڑا۔ ظاہر ہے کہ شکور صاحب بھی اس سے اچھوتا نہیں رہے اور انھیں بھی دو جیت کے بعد اس بار ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ یاد رہے کہ اس بار شکور صاحب براری سے نہیں بلکہ پران پور سے میدان میں تھے، جو از سر نو حد بندی کے بعد نیا ودھان سبھا چھیتر بنا تھا۔
1980 کا چناؤ آیا، تو پھر پران پور سے چناوی میدان میں آئے اور جیتنے میں کام یاب ریے۔ یہ ان کی آخری میعاد تھی۔ اس کے بعد لگاتار چناوی سیاست میں رہنے کے باوجود قسمت نے یاوری نہیں کی۔
آگے جو حالات پیش آئے، ان کی تفصیل میں جائے بنا سرسری نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ 1985 میں پارٹی کا ٹکٹ نہ مل سکا، اس لیے چناؤ لڑنے سے باز رہے۔ 1990 میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترے اور بائیس ہزار ووٹ حاصل کر پائے۔ 1995 میں سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ سے سامنے آئے اور چناؤ ہار گئے۔ 2001 میں این سی پی جوائن کر لیا اور اسی کے ٹکٹ سے میدان میں اترے۔ اس بار ودھان سبھا حلقہ بھی بدل لیا۔ پھر سے براری آ گئے، جہاں سے پہلے دو بار جیت درج کرنے میں کام یاب ہوئے تھے۔ لیکن سامنے تھے آر جے ڈی کے منصور عالم صاحب، جو 1997 سے رابڑی دیوی سرکار میں وزیر تھے۔ چنانچہ انھوں نے ہی بازی مار لی۔
2005 میں پھر بڑی محنت کی اور سہ رخی مقابلے میں آگے بھی رہے۔ لیکن آگے جو کچھ ہوا، اس سے سب لوگ واقف ہیں۔ کسی پارٹی کے پاس مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے کسی کی حکومت نہ بن سکی اور بڑی کھینچ تان کے بعد دوبارہ الیکشن کی نوبت آ گئی۔ اس بار سیکولر پارٹیوں کے بیچ گٹھ بندھن ہو چکا تھا اور گٹھ بندھن کا ٹکٹ شکور صاحب کو ملا تھا۔ اس طرح مقابلہ سہ رخی ہونے کی بجاے دو رخی تھا، لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جیت کی دہلیز تک پہنچ کر بھی منزل تک رسائی نہ مل سکی اور معمولی فرق سے پیچھے رہ گئے۔
2010 اور 2015 کے انتخابات میں بھی حالات موافق نہ ہوسکے اور اس بات کا پورا من بنا لیا کہ اب انتخابی سیاست سے کنارہ کش ہو جانا ہے۔ کئی محفلوں میں برملا اس کا اظہار بھی کیا۔ لیکن 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں حالات نے ایسے رنگ دکھائے کہ این سی پی کے ٹکٹ سے لوک سبھا کے لیے میدان میں اترنے کو آمادہ ہونا پڑا۔ اس کے بعد کیا ہوا، یہ سب کے سامنے ہے۔ عیاں را چہ بیاں؟
شکور صاحب ایک بے باک، متحرک اور جفاکش سیاست داں ہیں۔ ساتھ ہی ایک اچھے خطیب بھی ہیں۔ جن دنوں وہ ایم ایل اے ہوا کرتے تھے، وہ ان کی جوانی کے دن تھے اور لوگوں کے اندر اچھی پہنچ بھی رکھتے تھے۔ شیر شاہ آبادی سماج کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے، جس کے وہ سیمانچل میں پہلے ایم ایل اے تھے، تو اس سماج کو بھی ان سے کئی فائدے ہوئے۔ لوگوں کے اندر ایک نیا جوش و ولولہ دیکھنے کو ملا۔ آگے بڑھنے کی للک پیدا ہوئی۔ بیداری کی کرنیں نظر آئیں اور سیاست میں قدم رکھنے کے تعلق سے مایوسی کا دور ختم ہوا۔
ویسے تو آج بھی شیرشاہ آبادی سماج تعلیمی، معاشی اور سماجی اعتبار سے شدید خستہ حالی کا شکار ہے، لیکن ان دنوں حالات اور بھی دگرگوں تھے۔ ان حالات میں شکور صاحب نے لوگوں کی رہ نمائی کی اور ان کے کام آئے۔ انھوں نے بہت سے لوگوں کو مختلف شعبوں میں بحال ہونے میں مدد کی اور پرموشن حاصل کرنے میں تعاون دیا۔ خاص طور سے شعبۂ تعلیم میں ان گنت ایسے لوگ ہیں، جو ان کے زیر بار منت ہیں۔ میرے سامنے بہت سے لوگوں نے کھلے دل سے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔
شیر شاہ آبادیوں کو نوے کی دہائی میں ریزرویشن ملا، جو ایک مجموعی کوشش کا نتیجہ تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی نے کوشش زیادہ کی اور کسی نے کم۔ ویسے، شکور صاحب جب ایم ایل اے بنے تھے، تو یہ دیکھتے ہوئے کہ بہار سرکار کی لسٹ میں بیدیا نام کی ایک بیک ورڈ مسلم کمیونٹی کا نام درج ہے، شیر شاہ آبادی طلبہ کو ذاتی سرٹیفیکٹ ایشو کرنا شروع کر دیا تھا، جو کالجز میں داخلے کے وقت کام آتا تھا۔ حالاں کہ بعد میں یہ سلسلہ بند ہو گیا، لیکن اس سے بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔
1982 میں جب مبارک حسین نے آل بہار شیر شاہ آبادی ایسو سی ایشن کا رجسٹریشن کرایا، تو سرپرست کی حیثیت سے شکور صاحب کا نام شامل کیا، جو ان دنوں پران پور سے ودھان سبھا کے رکن تھے۔
مدرسہ اصلاحیہ سیماپور، جس نے ایک زمانے میں پورے سیمانچل میں تعلیم کو عام کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا، شکور صاحب 1988 سے اس کی مجلس منتظمہ کے سکریٹری ہیں۔
شکور صاحب آج بھی، جب کہ عمر 80 سال کے آس پاس ہے، سرگرم اور بھاگ دوڑ کی زندگی گزارتے ہیں۔ کسی بھی پروگرام میں بلایا جائے بصد شوق پہنچ کر اپنی بات رکھتے ہیں، جو عام طور پر تعلیم اور سماجی بیداری پر مرکوز ہوتی ہے۔
اس غیر مربوط اور بڑی حد تک ناقص تحریر کے اخیر میں ان احساسات کو بھی کچھ ترمیم کے ساتھ شامل کر لینا چاہتا ہو، جو اسے پڑھنے کے بعد ڈاکٹر عبد اللطیف حیدری نے ظاہر کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
"عزیز من مشتاق احمد!
محسن ملت جناب شکور صاحب کی زندگی اور کارناموں کے تذکرے کے ضمن میں جس محنت اور جذبے کےساتھ آپ نے خامہ فرسائی کی ہے اور ان کے بارے میں معاشرے کو خوش آئند معلومات بہم کرانے کے سلسلے میں جوعرق ریزی دکھائی ہے، وہ بہرحال قابل تحسین اور لائق ستائش ہے۔ قطع نظر ان معروضات کے، جو آپ کے ذریعے پیش کیے گئے ہیں، راقم کو بھی اس حقیقت کا بخوبی اعتراف ہے کہ موصوف کی اب تک کی پوری زندگی ملت ومعاشرے کی خیر خواہی و فلاح و بہبودی سے عبارت رہی ہے۔ انہوں نے اپنی ذات سے حتی الامکان ہر ادنی و اعلی کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔ رکن مجلس قانون ساز قرار پانے، بلکہ اس سے قبل سے ہی لوگوں کے مسائل کے حل میں بلا ترد دلچسپی لینے، ہر عام وخاص کے معاملات کو لے کر ذمے دار افسران سے رجوع کر نے، یہاں تک کہ ان کی رہائش گاہ یا دفتروں تک کبھی پیدل تو کبھی رکشہ سے جانے میں انہیں کبھی کوئی پس و پیش نہیں رہا اور نہ ہی انہوں نے کبھی اسے اپنے لیے پروٹوکول یا پھر وقار کا مسئلہ بنا یا۔ جہاں جس حال میں لوگوں نے اپنا دکھڑا سنا یا، اسی حال میں چلنا گوارہ کر لیا۔ نہ کوئی تام جھام، نہ کوئی فرمائش اور نہ کسی طرح کی کوئی خود نمائی۔ طبیعت میں نرم روی اور ملاطفت کی کیفیت ہمیشہ غالب دیکھی جاتی رہی۔ بلکہ ہر چھوٹے بڑے سے خوش اخلاقی سے پیش آنا، ہر طرح کے لوگوں سے بہتر سلوک روا رکھنا، ان کی عمومی عادت رہی ہے۔
واضح رہے کہ یہ تمام وضاحتیں تجربے کی بنیاد پر ہی پیش کی جا رہی ہیں، جس کے لیے راقم خود بھی اس ضمن میں رطب اللسان رہا ہے۔ 1974کی بات ہے۔ ان دنوں موصوف ایم ایل فلیٹ کو اپنا مسکن بنائے ہوئے تھے اور راقم کی بود و باش بھی پٹنہ ہی میں تھی۔ اسی سال بی اے آنرس کے ساتھ ساتھ فاضل بورڈ کا امتحان بھی پاس کر لیا تھا۔ اسی دوران پٹنہ کے بعض سرکاری اسکولوں میں عارضی بحالی کے لیے ویکنسی آئی تھی۔ یہ دیکھ کر راقم نے بھی اپنی عرضی ڈال دی تھی۔ انٹرویو کے عمل سے بھی گزر گیا تھا۔ لیکن بحالی لیٹر کے اجرا میں آنا کانی کا معاملہ درپیش تھا۔ شاید اس میں آفس والوں کے مطالبات مضمر تھے، جو راقم کو گوارہ نہیں تھا۔ یہ آر ڈی ڈی ای آفس پٹنہ کی بات تھی۔ سو اس مدعا کو لے کر موصوف سے رابطہ کیا، تو انہوں نے ساتھ ساتھ رکشے میں بیٹھ کر مذکورہ آفس تک چلنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی۔ وہاں ڈائریکٹر سے ملاقات کی اور انہیں مدعا کی جانکاری دی۔ ساتھ ہی راقم کواپنا خاص آدمی بتایا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ دوسرے دن ہی پٹنہ کالیجیٹ اسکول میں تقرری لیٹر تھما دیا گیا۔ چنانچہ یہ فوری کارروائی موصوف کی ہی مرہون منت تھی۔ بایں طور راقم نے بھی موصوف کے کردار کے اس پہلو کو اب تک دل کے لیے ایک یا دگار اثاثہ بنا ئے رکھا، جب کہ اس طرح کے واقعات بہتیرے ہیں، جن کی یادیں دل کے نہاں خانے میں اب تک زندہ ہیں۔ تاہم اس کا اظہار کسی دوسرے مناسب موقع کے لیے موقوف کیا جاتا ہے۔ اسی ضمن میں ایک قابل ذکر معاملہ یہ بھی رہا کہ گذشتہ دنوں جب قومی تنظیم کٹیہار اپنے سرگرم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں تھی، تو ان دنوں اس کے تعلیمی و سماجی مقاصد سے بھی موصوف بے حد دل چسپی دکھاتے رہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے منعقدہ بہتیرے پروگراموں میں حصہ لینا قبول کیا اور ہر جگہ اپنی سلجھی ہوئی تقاریر اور مدلل خیالات کے ذریعے محفل میں حاضر لوگوں کے اندر سماجی اصلاح اور تعلیمی بیداری کے جوت جگانے اور ان کے اندر جوش و جذبہ بھرنے کا بڑا کام کیا- صرف یہی نہیں، بلکہ دور دراز مقامات مثلاً کھورا گاچھ اور دیگھل بینک جیسے دیہی علاقوں میں منعقد ہونے والے پروگراموں میں بمشکل موٹر سائیکل سے چل کر جانا بھی قبول کیا- یہ سبھی معمولات، جہاں موصوف کی کسر نفسی پر دال ہیں، وہیں ان کے سماجی اصلاح اور تعلیمی بیداری پر مبنی جذبات کے بھی آئینہ دار ہیں اور یہ نیز اس طرح کی دیگر خصوصیات کی بنا پر کر کہا جاسکتا ہے کہ موصوف کی ذات بلا شبہ ملت و معاشرہ کے اہم ترین محسنین کی صف میں شمار ہوتی رہے گی۔ والسلام
حیدری"
دعا ہے کہ اللہ شکور صاحب کو یوں ہی تادیر رواں و دواں اور قوم کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم عمل رکھے.....!!

0 comments: