Monday, 18 May 2020

شیر شاہ آبادی برادری ..... مختصر تعارف

تحریر:  مشتاق احمد ندوی
...

اس مختصر مضمون میں میری یہ کوشش ہوگی کہ حتی الامکان اس برادری سے متعلق زندگی کے ہر پہلو کو زیر بحث لایا جائے اور کچھ نہ کچھ معلومات فراہم کی جائے۔ لیکن یہ بھی گوش گزار کر دوں کہ ان معلومات کا سرچشمہ میں نے پچھلے پینتیس سالوں (اس وقت میری عمر اڑتیس سال ہے) میں جو کچھ دیکھا اور سنا ہے اس کے سوا کچھ اور نہیں۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ اس برادری کی تاریخ میں مکتوب مواد صفر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بنگال کی تاریخ کو کھنگالنے سے کچھ اہم نکات ہاتھ لگ جائیں، لیکن نہ ہماری بنگلہ اتنی اچھی ہے اور نہ فی الحال اس کے لئے فرصت ہے۔ اس کام کو بنگال کے شیرشاہ آبادی اخوان بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔ اللہ مدد کرے۔

امتیازی خصوصیات :

محنت و جفاکشی، سادہ اور بے تکلف طرز معاشرت، ہمت و بہادری، دیہاتی بود و باش، عام طور پر کھیتی باڑی اور مزدوری پر گزارہ، تعلیمی و اقتصادی و سماجی پچھڑاپن، تھوڑی سی ضد اور قدرے بھولاپن، ساتھ ہی ایک حد تک دین پسندی۔ یہ وہ باتیں ہیں، جنھیں ہم شیر شاہ آبادی کمیونٹی کی نمایاں خصوصیات کہہ سکتے ہیں۔

وجہ تسمیہ :

پہلے شیرشاہ آبادیوں کو الگ الگ علاقوں میں الگ الگ ناموں سے جانا جاتا تھا، جن میں ایک نام شیر شاہ آبادی بھی تھا۔ بعد میں سابق ایم ایل اے مرحوم مبارک حسین صاحب کی کوششوں سے شیر شاہ آبادی نام کو اس کمیونٹی کے مستقل نام کی حیثیت سے رواج ملا اور آگے چل کر اسی نام سے ریزرویشن بھی ملا۔ شیرشاہ آبادی لفظ دراصل بھارت کے عظیم حکمراں شیر شاہ سوری کے ذریعے بنگال کی سر زمین میں بسائے گئے 'شیرشاہ باد پرگنہ' کی جانب نسبت سے وجود میں آیا، جہاں اس کمیونٹی کے پوروج شیر شاہ سوری کے حکم پر بسائے گئے تھے، جو دراصل ان کے بہادر اور جاں نثار فوجیوں میں شمار ہوتے تھے۔

مقام ہائے سکونت :

 بھارت میں اس برادری کے لوگ بنیادی طور پر بنگال، بہار، جھاڑ کھنڈ اور آسام کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ بہار میں سیمانچل کا علاقہ ان کی بڑی آبادی کے لئے جانا جاتا ہے۔ بنگال میں مرشدآباد، مالدہ، اتری اور دکھنی دیناجپور وغیرہ اضلاع میں یہ خاطر خواہ تعداد میں بود وباش اختیار کرتے ہیں۔ جھارکھنڈ میں صاحب گنج اور پاکوڑ کا علاقہ ان کی رہائش کے باب میں قابل ذکر ہے۔ آسام میں درنگ، برپیٹا، گوال پاڑہ اور دھوبڑی وغیرہ میں ان کی خستہ حال آبادی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ بھارت سے باہر ان کی کچھ آبادی بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی ہے۔ لیکن میرے پاس ان کے بارے میں معلومات کی کمی ہے۔ آج کے عالم گیریت کے زمانے میں شیرشاہ آبادی جیالے روزی روٹی کی تلاش میں بھارت کے مختلف علاقوں میں جاکر آباد ہو گئے ہیں۔ اس لیے یکادکا بہت سی جگہوں میں مل جاتے ہیں۔

زبان :

شیرشاہ آبادیوں کی زبان بنیادی طور پر بنگلہ ہے۔ لیکن سیمانچل کے شیرشاہ آبادی چوں کہ سالہا سال سے بنگلہ زبان کی تعلیم و تعلم سے کٹے ہوئے ہیں، اس لیے ان کی زبان نے بنگلہ اور ہندی شبداولی پر مشتمل ایک مکمل بولی کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اسے ہم شیرشاہ آبادی بولی کہہ سکتے ہیں، جسے ہمارے کچھ اخوان ترک کرکے اردو اپنا لینے کی وکالت کرتے ہوئے گاہے بگاہے نظر آتے ہیں۔ ان کا یہ نظریہ کہاں تک صحیح اور واقعیت کا حامل ہے، اس پر بات پھر کبھی ہوگی، لیکن شیرشاہ آبادی بولی کو فروغ دینے اور بولی کی حیثیت سے منوانے کے لیے ایک کوشش یہ ہو سکتی ہے کہ اسے دیوناگری رسم الخط میں لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔۔۔۔

رہن سہن اور سماجی زندگی : 

شیر شاہ آبادی برادری تعلیمی، تہذیبی اور اقتصادی اعتبار سے ایک پس ماندہ کمیونٹی ہے، جس کے اثرات اس کے رہن سہن پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہمارے یہاں جوائنٹ فیملی سسٹم رائج ہے اور اکثر پریوار میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ مکان کچھ دن پہلے تک عام طور پر پھوس کے ہوتے تھے۔ اوپر کھر کی چھاؤنی، نیچے سنٹھی کی ٹٹی اور بانس کی کھونٹیاں۔ اناج رکھنے کے لیے مٹی کی بڑی بڑی کوٹھیاں بنتی ہیں، جن میں سے ایک ایک کوٹھی میں بیس بیس پچیس پچیس من اناج آ سکتا ہے۔ پہلے عورتیں فرصت کے لمحوں میں کیتھا سیتی تھیں، جو شیرشاہ آبادی عورتوں کا ایک قابل قدر فن ہے۔ اسی طرح ہماری ماؤں بہنوں کے ہاتھوں سے بنے گئے دھاگوں کے ہاتھ پنکھے بھی خوب صورتی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہوا کرتے تھے۔
شیر شاہ آبادی ایک سادگی پسند قوم رہی ہے اور اس کی یہ سادگی پسندی اس کے بود و باش اور طرز معاشرت سے جھلکتی ہے۔ مثال کے طور پر ان کے شادی بیاہ کے رسوم کو دھیان سے دیکھیں۔ پہلے ہمارے یہاں نکاح سے پہلے لڑکی والوں کے یہاں کچھ کھانا پینا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ بارات کو بھی کھلانے کا رواج نہیں تھا۔ لڑکے والے اپنے ساتھ بتاشہ اور پان لے جاتے تھے۔ عقد خوانی کے بعد بتاشہ بٹوا دیا جاتا اور پان کی کھلی بناکر کھا لیا جاتا اور بس۔ ہاں! شادی کے بعد کھیر کاچی کے نام سے دونوں طرف کے لوگوں کا ایک دوسرے کے یہاں جاکر دعوت سے لذت یاب ہونے کا رواج تھا، لیکن آج کل شادی میں اتنے تکلفات رائج ہو چکے ہیں کہ اس کے بعد کھیر کاچی کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔

شیر شاہ آبادی سماج میں متعدد سماجی تقریبات رائج ہیں، جن میں تھوبڑا، بیبھار، آدا سینی، ختنہ اور کھیر کاچی وغیرہ اہم ہیں۔

پہناوے کی بات کریں تو مرد عام طور پر لنگی، گنجی، کرتا اور گمچھا استعمال کرتے ہیں، جب کہ عورتیں ساڑی، بلاؤز اور سایہ پہنتی ہیں۔ عورتیں عام طور پر گھر سے نکلنے پر برقعہ پہنتی ہیں۔

اس کمیونٹی کی سماجی زندگی میں 'موڑول' کا کردار بڑا اہم رہا ہے، جو شادی بیاہ، مختلف تقریبات، نزاعی معاملوں میں صلح و صفائی سے لے کر صدقة الفطر اور چرم قربانی سے حاصل شدہ رقوم کی تقسیم تک میں نمایاں کردار ادا کرتے آئے ہیں۔

کھان پان :

شیر شاہ آبادیوں کے کھان پان میں بڑی سادگی پائی جاتی ہے، جس میں ان کی قناعت پسندی اور جفاکشی جیسے اوصاف کے ساتھ ساتھ مالی عدم فراوانی کا بھی بڑا دخل رہا ہے۔ پھر بھی ان کے یہاں کئی ایسے پکوان موجود ہیں، جو خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں کچھ پکوانوں کا ذکر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ تو لیجیے چند شیرشاہ آبادی پکوانوں کے بارے میں کچھ غیر مربوط باتیں حاضر خدمت ہیں:

ہاتھ کی روٹی : ہمارے یہاں شروع سے مٹی کے توے میں ہاتھ کی بڑی بڑی روٹیاں بنتی رہی ہیں اور آج بھی بہت سے بلکہ اکثر گھروں میں بنتی ہیں۔ آج بھی ہمارے بوڑھوں اور ادھیڑوں کے سامنے اگر کلائی، چاول اور گیہوں کے مکس آٹے کی روٹی کا ذکر چھیڑا جائے، تو منہ میں پانی آنے کے ساتھ ساتھ فورا وہ منظر آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے، جب ماں یا بھابھی روٹی بنا رہی ہوتی اور گھر کے سارے لوگ چولھے کے کنارے اکڑوں بیٹھ کر دھنیا کی چٹنی اور گرم روٹی کے ساتھ ساتھ مزے مزے کی گفتگو کا آنند لیا کرتے تھے!!

اندھرسا : ہمارے یہاں جو پکوان شروع سے بہت مقبول رہے ہیں، ان میں سے ایک اندھرسا ہے۔ تھوبڑا کھلانا ہے تو اندھرسا، عید ہے تو اندھرسا، بقرعید ہے تو اندھرسا، مہمان آگیا تو ا ندھرسا اور بیٹی کے یہاں کوئی کھانے کی چیز بھیجنی ہے تو اندھرسا۔

پیٹھا : شیر شاہ آبادیوں کے یہاں ایک خاص قسم کا پیٹھا بنتا ہے۔ چاول کے آٹے کی لوئی اور اس کے اندر چنے کے آٹے اور گڑ کا حلوہ۔ بھاپ پر تیار ہونے والا یہ پکوان جاڑے کے موسم میں بنتا ہے۔ پہلے اس کے لیے شادی شدہ بیٹیوں اور بہنوں کو جمع کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا۔ کبھی کبھی آس پڑوس کی عورتوں کو بھی شامل کر لیا جاتا۔ کچھ بزرگ عورتیں پیٹھا بنانے سے پہلے گھر آنگن کی لپائی پوتائی اور خاص صاف صفائی کا اہتمام کرتی تھیں۔ جس دن پیٹھا بنتا گھر میں کسی تقریب کا سا سماں ہوتا۔

جھال : یہ ایک طرح کی کھیر ہے، جو زچگی کے بعد عورت کو کھلائی جاتی ہے، لیکن صرف عورت ہی نہیں بلکہ بہت سے مرد حضرات بھی اس کے دل دادہ ہوتے ہیں۔ اس میں چاول کے آٹے کی 'پیٹھیلی' کے ساتھ ساتھ کئی طرح کے مسالے بھی ڈالے جاتے ہیں، تاکہ زچگی کا زخم جلد سے جلد بھر جائے اور بچے کو دودھ کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کھیرسے : یہ شاید 'کھیر سا' یعنی کھیر جیسی چیز کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اس کا مقام شیرشاہ آبادیوں کے میٹھے پکوانوں میں سب سے اہم ہے۔ با ئینے اور کھیر کاچی میں اس کا ہونا ضروری مانا جاتا ہے۔ کسی معزز مہمان خاص طور سے 'بیہاے' کی آمد کے وقت بھی اس کے بغیر خاطر تواضع کو ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے اپنے بچپن میں کئی ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو گملا کا گملا کھیرسے انڈیلنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ اس طرح کے لوگ شاذ و نادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔

کھیر : ویسے تو کھیر ایک ایسا پکوان ہے جو شاید ہی بھارت کے کسی گھر میں نہ بنتی ہو، لیکن ہمارے یہاں جو کھیر بنتی آئی ہے، وہ دوسروں کے یہاں بننے والی کھیر سے بڑی حد تک الگ ہے۔ گڑ اور چاول کے آٹے سے بننے والی اس کھیر میں عام طور سے 'آئینکھے' ملایا جاتا ہے، جس سے اس کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ پہلے تھوبڑا میں کھیر اور اندھرسا کھلایا جاتا تھا۔ اس کھیر میں کچھ لوگوں کو چاول ملاتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

 ⭐ چتائی : آم کا موسم ہو اور چتائی نہ بنے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ویسے بھی جس طرح کھیر اندھرسا کے بنا پھیکی ہے، اسی طرح کھیرسے چتائی کے بنا بے لطف ہے!

آٹے کا لڈو : یہ عام طور سے زچگی کے بعد عورت کو دیا جاتا ہے۔

شیر شاہ آبادیوں کی عام غذا روٹی چاول ہے۔ صبح لہاری کے روپ میں روٹی اور  دوپہر و شام کو چاول۔ کہیں کہیں رات کو روٹی بھی۔ ایک دور تھا کہ گھر میں دو وقت چاول نہ بننا عیب سمجھا جاتا تھا۔ بلکہ باسی بھات بھی بہت شوق سے کھایا جاتا تھا۔ لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ لیکن مچھلی بھات  آج بھی مقبول ترین ڈش ہے۔

معاشی حالت :

اس کمیونٹی کی معاشی حالت نہایت ہی خستہ اور دگر گوں ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا گزارہ دینک مزدوری سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد کھیتی باڑی کا نمبر آتا ہے۔ اس کمیونٹی کے لوگوں کو کھیتی کے کاموں میں بڑی مہارت حاصل ہے۔ جی توڑ محنت اور لگن کی بنیاد پر دوسری کمیونٹی کے مقابلے میں ڈیڑھ سے دو گنا تک فصل اگا لیتے ہیں۔ لیکن ایک تو ان کے پاس زمین بہت کم ہوتی ہے، اس لیے زیادہ تر بٹائی اور لیز پر زمین لے کر کھیتی کرنی پڑتی ہے اور پھر کسانوں کے مسائل سے سرکار کی بے رخی الگ ہے۔ ایسے ان کی حالت کیا ہوگی اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی پچھلے کچھ سالوں میں معاشی صورت حال کے تعلق سے امید ایک کرن دکھائی دینے لگی ہے۔

تعلیمی حالت :

اس کمیونٹی کی تعلیمی حالت معاشی حالت سے بھی زیادی خستہ ہے۔ میں سیمانچل کی بات کروں تو میری نظر میں دسیوں ایسے گاؤں ہیں، جو پانچ سو گھروں سے زیادہ آبادی پر مشتمل ہیں، لیکن گریجویٹ افراد کی تعداد دو چار سے زیادہ نہیں ہے۔ بلکہ میٹریکولیشن پاس لوگوں کو بھی انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ تکنیکی تعلیم کا تو تصور بھی مت کیجیے۔ زیادہ تر لوگ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے امتحانات میں شریک ہونے کو تعلیم سمجھے ہوئے ہیں۔ جب کہ یہ دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسکول کے مقابلے میں مدارس میں پڑھانے کا رجحان زیادہ ہے۔ لیکن یہاں بھی کوالٹی کا اس قدر فقدان ہے کہ الامان والحفیظ۔۔۔!!

لیکن اگر میں یہ عرض نہ کر دوں تو ناسپاسی ہوگی کہ پچھلے کچھ سالوں میں دھیمی ہی سہی، لیکن بدلاؤ کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے۔ اللہ کرے ہم اپنی آنکھوں سے بلاؤ کا بیار دیکھ سکیں۔

سیاسی حالت :

کسی جمہوری ملک میں جو کمیونٹی سماجی، معاشی اور تعلیمی اعتبار سے حاشیے پر کھڑی ہو، اس کی سیاسی پوزیشن کیا ہوگی، یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ بس میں یہاں ایک مثال پیش کر کے آگے بڑھ جاؤں گا۔ آج بہار کے سیمانچل علاقے کے اضلاع کٹیہار، پورنیہ، ارریہ، کشن گنج اور سپول کی کل آبادی کا ایک بہت حصہ شیر شاہ آبادیوں پر مشتمل ہے۔ لیکن اس کے باوجود سیاسی نمائندگی میں ان کا حصہ صفر ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس وسیع علاقے میں آج ان کی نمائندگی کے لیے کوئی شیر شاہ آبادی ایم پی یا ایم ایل اے موجود نہیں ہے، بلکہ مضبوط سیاسی پارٹیاں اور سیاسی اتحاد انھیں ٹکٹ دینے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ پھر، یکا دکا کسی کو مل بھی جائے، تو کئی بار لوگ انھیں ووٹ دینے تک سے کتراتے ہیں۔

عقیدہ اور منہج : 

شیر شاہ آبادیوں کی اکثریت اور خاص کر سیمانچل کے علاقے میں بسنے والے اٹھانوے فی صد شیر شاہ آبادی خالص کتاب وسنت کے ماننے والے اور اہل حدیث ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ شروع سے سپاہیانہ صلاحیتوں کے حامل اور جفاکش طبعیت کے مالک رہے ہیں۔ چنانچہ جب بیس ویں صدی کے نصف اول میں شروع میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے تحریک اصلاح و جہاد چلائی، تو شیر شاہ آبادیوں نے اسے دل و جان سے قبول کیا۔ متحدہ صوبہ بنگال کی اہمیت کے پیش نظر تحریک کی جانب سے مولانا عنایت علی صادقپوری وہاں لگ بھگ بارہ سال تک مبلغ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ وہ ہر گاؤں میں جاتے اور بنیادی طور ہر دو مورچوں پر کام کرتے: عقیدہ و اعمال کی اصلاح اور سرحد پار انگریزوں سے بر سر پیکار مجاہدین کو مضبوط کرنے کے لئے ماحول بنانا۔ اس ضمن میں مولانا انگریزوں سے لڑنے کی اہمیت بتلاتے۔ جہاد پر ابھارتے۔ مجاہد بھرتی کرکے سرحدپار بھیجتے اور چندہ اکٹھا کرکے مجاہدین کے لئے ارسال کرتے۔ مولانا پائیدار انداز میں کام کرنے کے لیے کسی با صلاحیت آدمی کو مسجد کا امام متعین کردیتے۔ وہ امام ہوتے۔ قاضی ہوتے۔ مصلح ہوتے۔ چندہ اکٹھا کرنے کے ذمے دار بھی ہوتے۔ پھر علاقائی ذمے دار بھی ہوتے جو وسیع پیمانے پر کام کرتے۔ اسی تحریک کی برکت سے  اس علاقے کی بہت بڑی آبادی شرک و بدعت سے تائب ہوکر توحید و اطاعت کے دامن میں آ گئی۔ مولانا عنایت علی کے علاوہ اس علاقے کو شرک وبدعت سے پاک اور توحید و سنت کا گہوارہ بنانے کے لیے کئی عظیم ہستیوں نے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ جن میں سب سے اہم نام مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی کا ہے۔ شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین محدث د ہلوی کے شاگردوں کی خدمات کو بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔


تاریخی پس منظر:

شیرشاہ آبادیوں کی تاریخ کے بارے میں زیادہ تر باتیں پردہ خفا میں ہیں۔ اللہ غریق رحمت کرے مرحوم مبارک صاحب کو۔ انھوں نے بڑی جد وجہد کے بعد یہ انکشاف کیا کہ اس برادری کے لوگ ایک زمانے میں متحدہ بھارت کے عظیم حکم راں شیرشاہ سوری کی فوج کا اہم حصہ ہوا کرتے تھے۔ اور انھوں نے ہی ان لوگوں کو بسایا تھا۔ بعد میں سوری حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو ان لوگوں کو بڑی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی مناسبت سے سابق ایم ایل اے مرحوم مبارک حسین صاحب نے انھیں شیر شاہ آبادی کا نام بھی دیا۔

لیکن یہاں دو باتیں قابل ذکر ہیں:

اول : کچھ لوگ دو قدم آگے بڑھتے ہوئے شیرشاہ آبادیوں کو شیر شاہ سوری کا ونشج قرار دینے لگتے ہیں۔ جب کہ متعدد وجوہات کی بنیاد پر ایسا درست نہیں لگتا۔

دوم : کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شیرشاہ سوری نے انھیں پورنیہ اور اس کے آس پاس ہے علاقوں میں بسایا تھا۔ لیکن یہ دعوی بھی حقیقت سے دور معلوم ہوتا ہے۔ کیوں کہ میری نظر میں پورنیہ اور اس کے آس پاس کے اضلاع میں شیرشاہ آبادیوں کی کوئی ایسی بستی نہیں ہے جو صدیوں پرانی ہو۔ میری ناقص معلومات کے مطابق سیانچل کے شیرشاہ آبادیوں کا سابقہ مسکن متحدہ بنگال کے مرشدآباد ضلع کا لال گولہ اور اس کے آس پاس کا علاقہ ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیس یوں صدی کے اوائل میں یہ لوگ گنگا ندی کے مسلسل کٹاؤ سے تنگ آکر نہایت بے سروسامانی کے عالم میں نقل مکانی کرکے ادھر بس گئے تھے۔

ایک ضروری وضاحت:

ہمارے ایک فاضل دوست نے جو بحث و تحقیق کے میدان کے سشہسوار ہیں اور اللہ نے انھیں بڑی متنوع صلاحیتوں سے نوازا ہے، شیر شاہ آبادیوں کی اصل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے: "یہ قوم ہندوستان وارد کیسے اور کہاں سے ہوئی؟ اس سوال کے جواب کے طور پر میں نے دو روایتیں سن رکھی ہیں۔ لیکن تلاش بسیار کے باوجود مجھے آج تک ان کی سندیں نہیں مل سکی ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ ہماری قوم افغاستان سے ہجرت کرکے یہاں آئی ہے۔ اور اس حیثیت سے ہم افغانی النسل ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری روایت یہ ہے کہ ہم عربی النسل قوم ہیں۔۔۔۔۔۔" وہ آگے لکھتے ہیں: "کیی وجوہات کی بنیاد پر مجھے یہی روایت مضبوط لگتی ہے۔" پھر انھوں نے متعدد ایسے اسباب بیان کیے جن کی وجہ سے انھیں شیرشاہ وادیوں کا عربی النسل ہونا راجح لگتا ہے۔

لیکن ان دو روایتوں سے قطع اس مسئلے میں بحث و تحقیق کا ایک اور زاویہ ہے۔

1500 قبل مسیح کی بات ہے کہ بھارت میں آریاؤں کا ورود ہوا۔ انھوں نے شمالی بھارت سے دراوڑوں کو جنوب کی طرف کھدیڑنے کے بعد یہاں بادی النظر میں ایک عظیم تہذیب و تمدن کی بنیاد ڈالی۔ لیکن اس کی تہہ میں کئی ایسے لاوے پک رہے تھے، جو اس کے لیے حد درجہ گھاتک تھے۔ انھیں میں سے ایک لاوا ذات پات کے نظام کا تھا۔ بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ ایک شودر کسی براہمن بستی سے چپل پہن کر نہیں گزر سکتا تھا۔ چھتری کھول کر نہیں نکل سکتا تھا۔ ان کے کنویں سے پانی نہیں لے سکتاتھا۔ اسے مندر میں گھسنے کی اجازت نہیں تھی۔ مقدس کتابیں چھونے، پڑھنے بلکہ سننے تک کی اجازت نہیں تھی۔ کسی نے غلطی سے سن لیا، تو سخت سزاؤں کا مستحق قرار پاتا تھا۔

شودروں کے لیے حالات دن بہ دن بد سے بد تر ہوتے جا رہے تھے کہ نویں صدی ہجری کے اواخر میں عرب داعی حضرات اسلام کا عالم گیر پیغام لے کر یہاں وارد ہوئے۔ یہاں جملہ معترضہ کے طور ایک بات عرض کر دوں کہ مسلمان بھارت کی سرزمین میں فاتح کی حیثیت سے قدم رکھنے سے پہلے داعی کی حیثیت سے پہنچ چکے تھے۔ یہاں معتد بہ تعداد میں صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ان کے بعد علما اور صلحا تشریف لاتے رہے اور لوگوں کو اسلام کی صاف شفاف تعلیمات سے رو شناس کراتے رہے۔ ویسے بھی یہاں کے لوگوں کے لیے اسلام کی توحید اور مساوات پر مبنی تعلیمات کے اندر کشش کا سارا سامان موجود تھا۔ خاص طور سے صدیوں سے دبے کچلے شودر طبقے نے جب یہ دیکھا کہ اسلام چھوت چھات اور سماجی بھید بھاؤ کی آلایشوں سے پاک مذہب ہے۔ کامل مساوات کی گارنٹی دیتا ہے۔ یہاں سب لوگ مسجد میں داخل ہو سکتےہیں۔ اذان دے سکتے ہیں۔ نماز میں ایک ہی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔ کوئی بھی امام بن سکتا ہے۔ کوئی بھی قرآن پڑھ اور چھو سکتا ہے۔ کھان پان، رہن سہن، شادی بیاہ میں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے۔ تو اسلام کو انھوں نے ایک رحمت سمجھا۔ غلامی اور ذلت آمیز زندگی سے دامن چھڑانے کے لیے بے تاب ہو گئے اور بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوکر عزت و افتخار سے ہم کنار ہونے لگے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ جزیرہ نماے ہند پوری مسلم دنیا میں مسلم آبادی کا ایک بڑا مسکن بن گیا۔

یہاں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہاں کی مسلم آبادی کا ایک حصہ وہ بھی ہے، جو عرب، ترکستان، افغانستان اور ایران وغیرہ سے آکر یہاں آباد ہوا ہے، لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ باہر سے آنے والوں کی تعداد ان لوگوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، جو یہاں پہلے سے بسے ہوئے اور اسلام کی خوبیوں سے متاثر ہوکر اسلام میں داخل ہوئے تھے۔

اس لیے یہ ایک مستقل تحقیق طلب مسئلہ ہے کہ ہمارے آبا و اجداد کا تعلق کس گروہ سے تھا؛ باہر سے آنے والے گروہ سے یا یہاں پہلے سے موجود گروہ سے؟؟ اور اگر باہر سے آنے والے گروہ سے تھا تو ان میں سے کس فریق سے ہمارا تعلق ہے؛ عربوں سے، افغانیوں سے، ترکوں سے یا ایرانیوں سے؟؟

میرے خیال سے یہ مشکل کام ہے۔ وسیع پیمانے پر بحث و تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔ شاید اللہ اس کی کوئی صورت پیدا کردے۔
تحریک آزادی میں حصے داری :

تحریک آزادی میں شیرشاہ آبادیوں کی حصے داری بہت دل چسپ موضوع ہے۔ تشنہ تحریر ہونے کی وجہ سے اس سلسلے کا کافی کچھ مواد ضائع ہو چکا ہے۔ لیکن آج بھی بہت کچھ موجود ہے۔ میرے پاس اتنا مواد موجود ہے کہ ایک کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ دعا کریں کہ اللہ جلدی اسے ترتیب دینے کی توفیق ارزاں کرے۔ سر دست یہ بتا دوں کہ وہابی تحریک جس کا ذکر پیچھے آچکا ہے اور جس کے بارے میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے کہا تھا کہ اگر بھارت کی آزادی کی خاطر پیش کی جانے والی تمام برادران وطن کی قربانیوں کو ترازو کے ایک پکڑے میں رکھا جائے اور علمائے صادقپور کی قربانیوں کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو علمائے صادقپور کا پلڑا جھک جائے گا، اس تحریک کو آگے بڑھانے اور کام یابی سے ہم کنار کرنے کیے شیرشاہ آبادیوں نے بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ ایک طرف شہیدین کے بعد علمائے صادقپور نے اسے قیادت فراہم کی، تو دوسری شیر شاہ آبادی حضرات ان کے دست و بازو بن کر کھڑے رہے۔ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ علمائے صادق پور کے بعد اس تحریک میں سب سے اہم حصے داری کن لوگوں کی رہی ہے، اگر اس نکتے پر بات ہو تو یقینا بنگال کے شیر شاہ آبادی جیالوں ہی کا نام آئے گا۔ وہابی تحریک پر لکھی گئی کتابیں بنگالی مجاہدین کی خدمات سے بھری پڑی ہیں۔ بتاتا چلوں کہ آج بھی ہمارے یہاں اجتماعی کاموں کے لیے مٹھی وصول کرنے کا رواج ہے۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ اسے مولانا عنایت علی نے سرحد پار انگریزوں سے برسر پیکار مجاہدین کی اعانت کے لیے رائج کیا تھا؟ ایک اور  پتے کی بات بتاتا ہوں۔ ہمارے یہاں بہت سے ایسے لوگ تھے، جو غازی کے لقب سے مشہور تھے۔ یہ سارے لوگ وہابی تحریک سے جڑے ہوئے لوگ تھے۔ خود ہمارے یہاں دو افراد تھے: کالو غازی اور دھولو غازی۔ ان کے اہل خاندان آج بھی ہمارے یہاں آباد ہیں۔ یہ دونوں سرحد پار جہاد کے لیے جا چکے تھے۔ کالو غازی اٹھارہ سال سرحد پار رہ چکے تھے۔ ان کو میرے ابا نے دیکھا ہے۔ بڑے اصول پسند اور دین دار انسان تھے۔ اس طرح کے اور بھی لوگ کسی کی جانکاری میں ہوں تو معلومات فراہم کریں گے۔

شیر شاہ آبادیوں کی تحریک آزادی میں حصے داری کا یہ ایک گوشہ ہے۔ تفصیلی میں جانے کا یہ موقع نہیں ہے۔ اسے کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔

یہ چند سرسری باتیں تھیں، جو یہاں عرض کی گئیں۔ دعا کیجیے کہ اللہ تفصیلی انداز میں کچھ لکھنے کا موقع عنایت کرے۔ آمین

0 comments: