Sunday, 17 May 2020

مولانا علی اصغر قاسمی رحمہ اللہ

تحریر: مشتاق احمد ندوی
تمام نقلی و عقلی علوم میں مہارت، بالخصوص عربی زبان و ادب میں کامل دست رس، نصف درجن سے زائد مدارس کی صدر مدرسی کا تجربہ، بخاری و مسلم سے شرح ملا جامی اور شرح تہذیب تک درس نظامی کی سبھی اونچی کتابیں پڑھانے کی سعادت، زبردست استدلالی قوت، مناظرانہ طبیعت، تقریر اور افتا کے کوچوں کی رمز شناسی اور بلا کی خود اعتمادی و خود داری۔ یہ ہیں ولانا علی اصغر قاسمی کی شخصیت کے چند اہم عناوین!
علی اصغر بن حاجی شعیب بن حاجی عقیم الدین۔ تعلیمی اسناد کے مطابق 7/ جنوری 1935 (1/ شوال 1353ھ) کو تتوار، براری، کٹیہار میں پیدا ہوئے۔ لیکن قرائن یہ کہتے ہیں کہ آپ کی پیدائش اس سے پہلے ہی ہوئی ہوگی۔ کیوں کہ آپ مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں، جو ستمبر 1947 کو بند ہو چکا تھا۔ جب کہ 1935 کو تاریخ پیدائش ماننے کی صورت میں 1947 میں آپ کی عمر صرف بارہ سال ہوتی ہے!!
آپ ایک خوش حال اور دین دار خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں والد ماجد کے زیر سر پرستی حاصل کی، اس کے بعد بیساکھا گھاٹ مدرسہ گئے، جہاں مولانا عین الدین صاحب سے کسب فیض کیا۔ پھر جامعہ شمس الہدی السلفیہ دلال پور گئے۔ دلال پور مدرسہ متحدہ مشرقی بہار کا قدیم ترین ادارہ اور اس علاقے میں وہابی تحریک کی سرگرمیوں اور شان دار کار کردگیوں کی یادگا ر ہے۔ ان دنوں اس کے صدر مدرس مولانا عبد الحنان دلال پوری ہوا کرتے تھے، جو عظیم مجاہد مولانا یحی علی صادق پوری کے نواسے اور مستجاب الدعوات بزرگ عالم دین تھے۔ یہاں کتنے دن رہے، پتہ نہیں۔ قرائن سے ایسا لگتا ہے کہ اسی درمیان جامعہ اسلامیہ سلفیہ عبد اللہ پور بھی گئے ہوں گے۔ کیوں کہ مولانا توحید عالم صاحب سلفی کو اس بات کا وثوق ہے کہ ان کے والد محترم مولانا مصلح الدین اعظم گڑھی صاحب کے شاگرد رہے ہیں، جو مذکورہ مدرسے کے صدر مدرس تھے۔
بہر کیف! اس کے بعد مدرسہ دارالحدیث رحمانیہ دہلی تشریف لے گئے اور وہاں موجود چوٹی کے علما بالخصوص مولانا نذیر احمد املوی اور شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی مبارک پوری وغیرہ سے مستفید ہوئے۔ دار الحدیث رحمانیہ دہلی میں کب، کتنے دن اور کن درجات میں رہے، یہ کہنا مشکل ہے۔ البتہ اتنا تو طے ہے کہ یہ ستمبر 1947 سے پہلے کا زمانہ رہا ہوگا۔ کیوں کہ اس کے بعد یہ تاریخ ساز ادارہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
دار الحدیث رحمانیہ کے بعد دار العلوم دیوبند گئے۔ داخلہ مولانا منت اللہ رحمانی کی سفارش پر ہوا تھا۔ یہاں آپ نے مولانا حسین احمد مدنی اور قاری طیب صاحب وغیرہ جیسے ارباب فکر و فن سے استفادہ کیا۔ دار العلوم دیوبند سے فراغت کا سال 1956 بتایا جاتا ہے۔
میں یہاں یہ بتا دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ مجھے مولانا کے فرزند ارجمند مولانا توحید عالم سلفی کی معرفت دس صفحات پر مشتمل ایک رسالہ حاصل ہوا ہے، جس کے سر ورق پر لکھا ہے:
"الجامعة الإسلامية تتواری کا مختصر تعارف و بانی جامعة الإسلامية تتواری کے حیات و خدمات کا مختصر خاکہ پیش خدمت ہے"
سر ورق پر آگے لکھا ہے:
"پیش کردہ: ابنائے جامعة الإسلامية تتواری کٹیہار (بہار)"
اس کے اندر تین صفحات میں جامعہ اسلامیہ تتواری کا اور سات صفحات میں مولانا علی اصغر قاسمی کا مختصر تعارف ہے۔ میں نے اس رسالے کو بغور پڑھا، تو اس میں بہت سی ایسی باتیں نظر آئیں، جو سمجھ سے پرے ہیں۔ مثال کے طور پر اس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
"مولانا علی اصغر نے قاعدہ بغدادی، قرآن کریم، ابتدائی اردو فارسی اور دینیات کی تعلیم اپنے گاؤں کے مکتب سے حاصل کیے پھر مولانا مصلح الدین جیراج پوری رحمة اللہ علیہ کے سامنے بھی زانوئے تلمذ تہ کیا۔ جب آپ ابتدائی علوم سے آراستہ ہو گئے تو اونچی تعلیم کے لیے آپ نے بستی چھوڑ دینے کا عزم کر لیا۔ سب سے پہلے آپ نے مدرسہ دار الھدی دلال پور پاکوڑ کا رخ کیا جو علاقے کے مشہور دینی ادارے کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔ آپ اس مدرسے میں ابتدائی عربی، نحو و صرف، ادب و لغت، حدیث و تفسیر اور سیرت وغیرہ علوم و فنون سے آراستہ ہوئے۔ اس زمانے میں یہاں مولانا مصلح الدین جیراج پوری ایک کام یاب مدرس اور مربی کی حیثیت سے کافی مشہور تھے۔ ان کی تعلیم و تدریس کی بڑی شہرت تھی۔ مولانا نے یہاں اس عظیم شخصیت سے کسب فیض کیا۔ مولانا عبد الحنان ملیح آبادی سے اخذ و استفادہ کے بعد مولانا کے والد محترم نے اپنے بڑے لڑکے الحاج رستم صاحب کے مشورے سے آپ کو مدرسہ رحمانیہ، دہلی بھیج دیا۔ یہاں اپنے مربی مولانا عطاء الرحمن و مولانا عبد الرحمن صاحب تحفظة الاحوذی رحمة اللہ علیہ کے زیر نگرانی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہونے لگے۔ پھر اس کے بعد ایشیا کا عظیم علمی مرکز دار العلوم دیوبند منتقل ہو گئے۔ ان کے ساتھ ان کے شاگرد مولانا عبدالستار بھی دیوبند چلے گئے اور یہیں رہ کر اپنی تعلیم مکمل کی۔ یہاں آپ نے دار العلوم کے اجلہ اساتذہ کرام اور ائمہ فن سے اکتساب کیا۔ حدیث و تفسیر، فقہ و اصول فقہ، عربی زبان و ادب، منطق و فلسفہ اور دیگر علوم عقلیہ و نقلیہ میں اونچی کتابیں پڑھیں۔ آپ نے دار العلوم سے سن 1956 مطابق 1976 میں سند فراغت حاصل کی۔ آپ نے جن اساتذہ کرام سے شرف تلمذ حاصل کیا ان میں مولانا حسین احمد مدنی، قاری طیب صاحب، مولانا عبد الحق قاسمی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ نیز مولانا نذیر حسین املوی، علامہ عبید اللہ مبارک پوری، مولانا عبد اللہ روپڑی، مولانا عبد السلام مبارک پوری، مولانا ابو طاہر بہاری سے بھی اکتساب فیض کیے۔"
مذکورہ بالا اقتباس کے شروع میں جو جھول ہے، اسے نظر انداز کرکے آگے بڑھیں، تو معلوم ہوگا کہ مولانا مصلح الدین اعظم گڑھی مدرسہ شمس الھدی دلال پور کے مدرس تھے۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ مولانا اشرف الحق رحمانی کے مطابق انھوں نے کبھی اس ادارے کا رخ ہی نہیں کیا۔ وہ جامعہ اسلامیہ سلفیہ عبد اللہ پور کے صدر مدرس تھے۔
اور ذرا آگے بڑھیں تو لکھا ہے کہ آپ جامعہ رحمانیہ میں "اپنے مربی مولانا عطاء الرحمن اور مولانا عبد الرحمن صاحب تحفة الاحوذی کے زیر نگرانی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہونے لگے"۔ یہاں مضمون نگار کئی غلط فہمیوں کے شکار ہوگئے۔ اول: مدرسہ رحمانیہ کے بانی شیخ عبد الرحمن کو صاحب تحفہ علامہ عبد الرحمن مبارک پوری سمجھ بیٹھے۔ ویسے علامہ عبد الرحمن مبارک پوری کا انتقال بھی 1935 میں ہو چکا تھا۔ دوم: شیخ عبد الرحمن اور شیخ عطاء الرحمن برادران، جو مدرسے کے بانی تھے، کے بارے میں یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ مولانا علی اصغر قاسمی صاحب کے رحمانیہ پہنچنے تک با حیات تھے، جب کہ شیخ عبد الرحمن کا انتقال مدرسے کی تاسیس کے دس مہینے بعد 1922 میں ہو چکا تھا اور شیخ عطاء الرحمن 1938 میں دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ سوم: انھوں نے دونوں بھائیوں کو مولانا لکھا ہے، جب کہ عرف عام کے مطابق وہ مولانا نہیں تھے۔
اور ذرا آگے بڑھیں تو مولانا علی اصغر صاحب کے اساتذہ کہ لسٹ میں مولانا عبد السلام مبارک پوری اور مولانا محدث عبد اللہ روپڑی کے نام درج پائیں گے، جب کہ مولانا عبد السلام مبارک پوری کا انتقال 1342ھ میں ہو چکا تھا اور اس وقت مولانا علی اصغر صاحب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ رہے محدث روپڑی، تو وہ مدرسہ رحمانیہ کے استاد نہیں، بلکہ ممتحن خاص تھے۔ روپڑ پنجاب میں پڑھاتے تھے۔ ہر سال سالانہ امتحان کے پرچے خود ہی تیار کرکے اپنے دو بھتیجوں کے ساتھ وہاں سے دہلی آتے، امتحان لیتے، ریزلٹ دیتے، طلبہ کے درمیان تقریری مسابقہ کے حکم بنتے، نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے درمیان انعامات تقسیم کرتے اور چل دیتے۔ اس دوران لائبریری کے سنٹرل ہال میں قیام کرتے۔ سب سے بالکل الگ تھلگ رہتے۔ کسی کو ان سے ملنے جلنے اور بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔
دار العلوم دیوبند سے فراغت کا سال 1956 مطابق 1976 بھی محل نظر ہے۔ شاید یہ کتابت کی غلطی ہے۔
اس اقتباس میں ان کے علاوہ کئی باتیں کھٹکتی ہیں، جنھیں طوالت کے ڈر سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
بہر کیف، تعلیمی مرحلہ پورا ہونے کے بعد تدریس کا دور شروع ہوا، جو نہایت تاب ناک رہا۔ آپ کے تدریسی دور کے کچھ امتیازات بھی ہیں۔ آپ مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کے علاوہ جہاں بھی رہے، صدر مدرس کی حیثیت سے ریے اور درس نظامی کی اونچی کتابیں جیسے بخاری، مسلم، بیضاوی، ہدایہ، سراجی، المعلقات السبع، مقامات حریری، شرح ملا جامی اور شرح تہذیب وغیرہ پڑھاتے رہے۔ آٹھ نو مدارس کو اپنے تدریسی خدمات سے فیض یاب کیا۔ بلکہ کچھ مدارس تو ایسے بھی ہیں، جہاں دو دو تین تین بار گئے، جس میں ایک طرف آپ کی سیماب صفت طبیعت کا دخل تھا، جو آپ کو ہمیشہ پا بہ رکاب رکھتی تھی، تو دوسری طرف جملہ علوم نقلیہ و عقلیہ میں مہارت کا شہرہ تھا کہ لوگ آپ کو اپنے یہاں لاکر عہدہ صدارت کی زینت بنانا باعث عزت و شرف سمجھتے تھے۔
میری معلومات کے مطابق مولانا نے جن مدارس میں تدریسی فرائض انجام دیے، ان کی تفصیل یہاں درج کر رہا ہوں۔ واضح رہے کہ میں نے یہ تفصیل ان کے بیٹوں مولانا توحید عالم سلفی اور ماسٹر امدادالحق کے علاوہ بہار و بنگال کے دسیوں ممتاز علما سے رابطہ کرکے جٹائی ہے، جن میں مولانا بدرالدجی ندوی، مولانا مزمل حق صاحب صدر مدرس جامعہ رحیمیہ کتلاماری، قاری عبد الرحمن نجمی مدرس مدرسہ نجم الھدی آم تولہ، مولانا صدیق حسین نجمی پورنیہ، شیخ الحدیث مولانا اشرف الحق رحمانی جھارکھنڈ، مولانا امین الدین فیضی، مولانا عبد الحق ندوی، مولانا محمد سعید ندوی اور دار العلوم احیاء السنة صالح ڈنگا مرشد آباد کے بعض مدرسین وغیرہ شامل ہیں۔ تو لیجیے ملاحظہ فرمائیے:
1۔ مدرسہ۔۔۔۔۔۔۔ ڈومریا، براری، کٹیہار:
یہاں بہت کم وقت رہے ہوں گے۔ یہ آپ کے طویل تدریسی سفر کے آغاز کا زمانہ تھا۔
2۔ مدرسہ عزیزیہ موہنا چاند پور، براری:
یہاں لگ بھگ دو سال رہے۔ یہ بھی تدریسی دور کے ابتدائی ایام کی بات ہے۔
3۔ جامعہ رحیمیہ کتلا ماری:
ان دو اداروں کے بعد جامعہ رحیمیہ کتلا ماری گئے ہوں گے۔
4۔ مدرسہ نجم الھدی آم تولہ:
جامعہ رحیمیہ کتلا ماری کے بعد یہاں گئے ہوں گے۔ مجھے ملی جانکاری کے مطابق یہاں تین بار رہے۔ پہلی بار 1962-63 کے آس پاس دو سال رہے، جب صدیق حسین صاحب نجمی پورنوی، جو آم تولہ مدرسے کے فارغ التحصیل بھی ہیں، یہاں تدریسی فرائض انجام دے رہے تھے۔ دوسری بار 1977 تا 1979 تین سال رہے۔ اسی دوران مشہور مقرر اور آم تولہ مدرسے کے مدرس قاری عبد الرحمن صاحب نے ان سے صحیح بخاری پڑھی۔ اس کے بعد دار العلوم احیاء السنة صالح ڈنگا مرشد آباد چلے گئے اور وہاں ایک سال گزار کر پھر آم تولہ آ گئے اور شاید ایک سال رکے۔ یہ یہاں آپ کی تیسری میعاد تھی۔
5۔ مدرسہ اصلاحیہ سیماپور:
یہاں 1964 سے 1969 تک رہے۔ یہ اصلاحیہ کے عروج کا زمانہ تھا۔ پہلی بار آم تولہ چھوڑنے کے بعد یہاں آئے ہوں گے۔
5۔ مدرسہ اصلاح المسلمین، چتوریہ، براری کٹیہار: مدرسہ اصلاحیہ سیماپور چھوڑنے کے بعد یہاں آئے اور دو سال رہے۔
7۔ معہد التعلیم الدینی شری پور:
1983 میں یہاں رہے۔ یہاں مدرسہ نجم الہدی آم تولہ سے آنا ہوا تھا۔ ایک ہی سال رہنا ہوا۔ یہاں مولانا امین الدین فیضی نے ان سے مشکوة المصابیح، نحو کی کتاب شرح ملا جامی اور منطق کی کتاب شرح التہذیب پڑھی۔
8۔ دار العلوم احیاء السنة صالح ڈنگا، مرشد آباد:
یہاں مولانا کی تدریسی زندگی کا اچھا خاصہ وقت گزرا تھا۔ لیکن لگاتار نہیں۔ مولانا سے یہاں پڑھنے والے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ مولانا کا یہاں تین بار آنا جانا ہوا۔
9۔ جامعہ اسلامیہ تتواری، براری، کٹیہار:
اس ادارے کی بنیاد خود آپ نے ہی رکھی تھی اور یہاں 1985-86 سے وفات تک تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔
مولانا ایک باکمال مدرس تھے۔ پوری زندگی درس و تدریس میں گزاری۔ حدیث، تفسیر، فقہ اور فرائض کے ساتھ ساتھ عربی ادب، بلاغت، منطق، فلسفہ اور علم ہیئت کی اونچی کتابیں پڑھاتے رہے۔ مولانا نے بہار و بنگال کے جن مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں ان پر پھر سے ایک نظر ڈال لیجیے اور اس کے بعد یہ اندازہ لگائیے کہ اس بیچ طالبان علوم نبویہ کی کتنی بڑی تعداد آپ سے فیض یاب ہوئی ہوگی۔ یقینا تعداد ہزاروں میں ہے، جو الگ الگ میدانوں میں کارہاے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔
مولانا کی ایک اہم ترین یاد گار جامعہ اسلامیہ تتواری، براری، کٹیہار بھی ہے۔ مولانا نے علاقے کے بعض اہل خیر حضرات، جیسے حاجی دراست اللہ صاحب گدھا باڑی، حاجی عبد الرحمن صاحب کٹھوتیہ اور ملا عبد الشکور صاحب گیروا وغیرہ کے تعاون سے 1983 میں اس کی بنیاد رکھی۔ پہلے اس کا نام مدرسہ اعجاز الاسلام تتواری رکھا گیا تھا۔ مولانا عبد الرؤف صاحب ڈنگرا گھاٹی اس کے صدر مدرس تھے۔ مولانا مصلح الدین صاحب سلفی مجلس منتظمہ کے سکریٹری اور حاجی دراست اللہ صاحب صدر تھے۔ مدرسہ گاؤں کی مسجد میں چلتا تھا۔ بعد میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہو گئی، تو اسے اس پلاٹ میں منتقل کیا گیا، جہاں آج ادارہ قائم ہے۔ مدرسہ کے قیام کے وقت آپ دار العلوم احیاء السنة صالح ڈنگا میں تدریسی فرائض انجام دے رہے تھے۔ بعد میں اراکین مجلس منتظمہ کے اصرار پر بنگال چھوڑ کر یہاں آ گئے اور آخری سانس تک اسے خون جگر سے سینچتے رہے۔ راقم الحروف کو بھی اس ادارے سے فیض یاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔ میں 1996 میں ایک سال یہاں رہا۔ میرے پہنچنے سے مہینہ بھر پہلے ہی مولانا کی وفات ہوئی تھی۔ میں نے یہیں مولانا محب الحق صاحب سے مشکوة المصابیح جلد اول کا درس لیا تھا۔ ابتدائی چھ مہینے مولانا ابراہیم سجاد تیمی صاحب بھی میرے ہم درس رہے۔ آج اس کے صدر مدرس بزرگ عالم دین مولانا شفیق عالم ندوی ہیں۔ مجلس منتظمہ کے صدر جناب منصور عالم صاحب سابق وزیر حکومت بہار اور سکریٹری جناب پروفیسر ڈاکٹر عبد اللطیف حیدری ہیں۔ پچھلے سال جامعہ امام ابن تیمیہ سے اس کا الحاق ہوا ہے۔
مولانا خدا داد ذہانت و فطانت کے مالک تھے۔ علوم عقلیہ و نقلیہ کے ماہر تھے۔ قرآن، حدیث، فقہ اور عربی ادب وغیرہ تو خیر جانے دیجیے، منطق، فلسفہ اور علم ہیئت وغیرہ میں بھی اچھی پکڑ تھی۔ زبردست استدلالی قوت کے مالک تھے۔ اسی ذہانت و فطانت اور علوم و فنون میں مہارت کا کمال احساس تھا کہ وہ اپنے معاصر علما کو بہت کم خاطر میں لاتے تھے۔
لوگ دور دراز سے ان کے پاس فتوی لینے کے لیے آتے تھے اور وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں تشفی بخش جواب دیتے تھے۔ جہاں خود اہل حدیث علما کے درمیان اختلاف ہوتا، وہاں زیادہ تر شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ کی آرا کو قابل ترجیح گردانتے تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبد اللطیف حیدری صاحب نے جب سماجی اصلاح کے لیے قومی تنظیم کی بنیاد ڈالی اور کام شروع کیا، تو پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے جن علما کی جانب رجوع کیا جاتا، ان میں وہ سر فہرست تھے۔
مولانا ایک اچھے مناظر بھی تھے۔ فن مناظرہ کی باریکیوں سے واقف تھے۔ نقلی دلائل پر نظر تو تھی ہی، عقلی دلائل سے بات منوانے کا ہنر بھی جانتے تھے۔ کچھ اس انداز میں اپنے موقف کے اثبات میں دلائل پیش کرتے کہ مد مقابل سے کوئی جواب نہ بن پڑتا۔ کتاب و سنت کی روشنی میں تقریر بھی بڑی اچھی کرتے تھے۔ بہت سے جلسوں میں صدر بھی بنائے جاتے تھے۔
انھیں بنا کسی لاگ لپیٹ کے بات کرنے کی عادت تھی۔ نہایت صاف گو تھے اور منہ پر جواب دیتے تھے۔ بڑی حد تک بے لچک طبیعت کے مالک تھے۔ جو بات طبیعت کے مطابق نہ ہوتی، اس کی کھلے الفاظ میں مخالفت کرتے۔ کبھی کبھی الفاظ کے تیر و نشتر اس قدر تیز ہوتے کہ مخاطب اس کی تاب نہ لا پاتا۔ ایک بار تین پانیہ کوڑھا کے کچھ لوگوں نے اونٹ کی قربانی دی اور کچھ علما کے کہنے پر دس لوگ شریک ہو گئے۔ اس کےبعد کچھ شک و شبہ پیدا ہوا، تو مولانا کے پاس پہنچے۔ لیکن مولانا کا جواب سن کر ہکا بکا رہ گئے۔ جیسے ہی انھوں نے مدعا رکھا، مولانا کے منہ سے بے ساختہ نکلا: "اچھا، تو جوتا کو چھاتا بنانے کے بعد آپ ہمارے پاس آئے ہیں؟"
میں نے انھیں دو بار دیکھا ہے۔ شاید 1993 کی بات ہے۔ گاؤں کی جامع مسجد میں ایک خاص دینی مسئلے کو حل کرنے کے لیے علاقے کے بڑے علما جمع ہوئے تھے۔ مولانا محی الدین صاحب فیضی، مولانا محب الحق صاحب مرگھیاوی، مولانا عبد المنان صاحب سکریلی اور مولانا مسلم آزاد دھوم گڑھی وغیرہ موجود تھے۔ مجلس کی صدارت مولانا علی اصغر صاحب قاسمی ہی کے حوالے تھی۔ پہلے باری باری سبھی حضرات نے اپنی اپنی بات رکھی اور اخیر میں مولانا نے بہت ہی جامع اور متوازن تجزیہ پیش کیا تھا۔ دوسری بار اس وقت دیکھا، جب 1995 میں جامعہ اسلامیہ تتواری میں داخلہ لینے کے لیے پہنچا تھا۔ مدرسے کے اتری جانب مٹی کی دیواروں پر مشتمل متعدد کمرے تھے۔ سب سے پچھمی کمرے کے بر آمدے میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا، جس میں مولانا چند طلبہ کو پڑھا رہے تھے۔ حالاں کہ بعد میں اس سال داخلہ لینے کا پروگرا ملتوی ہو گیا، لیکن اسی بہانے مولانا سے ملنے کا موقع ہاتھ آ گیا۔
لمبے وقت تک علم و حکمت کی روشنی بکھیرنے کے بعد یہ آفتاب جہاں تاب 5/ فروری 1996 کو ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ رمضان کی پندرہ تاریخ تھی اور سال 1416ھ۔ جامعہ اسلامیہ تتواری کے میدان میں نماز جنازہ پڑھی گئی، جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ نماز جنازہ ان کے فرزند مولانا توحید عالم سلفی نے پڑھائی۔
مولانا کو چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ ماسٹر مجاہد الاسلام صاحب، ماسٹر امداد الحق صاحب اور مولانا توحید عالم صاحب اسکول ٹیچر ہیں، تو باقی تین بیٹے کاشت کار۔ مولانا توحید عالم سلفی کو اللہ نے اچھی خاصی تقریری صلاحیت سے نوازا ہے۔
دعا ہے اللہ تعالی ان کی تمام تعلیمی، تربیتی اور دعوتی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے اور فردوس اعلی میں جگہ عنایت کرے!

0 comments: