Sunday, 17 May 2020

مولانا إسحاق سلفی- ایک نابغہء روزگار شخصیت

تحریر: مشتاق احمد ندوی
میں نے ہوش سنبھالا، تو جن علما کے چرچے سب سے زیادہ میرے کانوں نے سنے، ان میں سے ایک اہم نام حضرت مولانا اسحاق صاحب سلفی رحمہ اللہ کا ہے۔ سلفی صاحب کی شخصیت کا جو نقشہ شروع دن سے میرے ذہن و دماغ میں بنا، وہ تھا، ایک نہایت نڈر اور بے باک انسان، کہیں بھی پوری قوت کے ساتھ اپنی بات رکھنے اور اسے دلائل کی روشنی میں منوانے کے ہنر سے واقف، علوم عقلیہ و نقلیہ کے ماہر، قرآن و حدیث کے رمز شناس، مناظرانہ طبیعت کے مالک اور خدا داد صلاحیت کے حامل ایک ممتاز عالم دین۔
مولانا کے سب سے پرانے شاگردوں میں سے ایک مولانا مصلح الدین صاحب سلفی، سابق استاد مدرسہ اصلاحیہ سیماپور سے ان کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد بتایا: "انھیں آپ 'عالم الکل' کہہ سکتے ہیں۔ ہر فن کے ماہر تھے۔ علمی اعتبار سے بہت مضبوط تھے۔ قرآن و حدیث پر اچھی پکڑ تھی۔ فتوی تشفی بخش دیتے تھے۔ عربی ادب سے شغف تھا۔ فارسی میں لاثانی تھے۔ منطق و فلسفہ جیسے علوم عقلیہ میں استناد کا درجہ رکھتے تھے۔"
مولانا مدرسہ اصلاحیہ سیما پور میں زیادہ دن نہیں رہے۔ لیکن جب تک رہے چھائے رہے۔ اصلاحیہ کے پرانے فیض یافتگان سے ان کے کچھ اہم اساتذہ کا نام پوچھا جائے، تو اکثر لوگ پہلے یا دوسرے نمبر پر انھیں کا نام لیتے ہیں۔
اصلاحیہ کے فاؤنڈر پرنسپل، مولانا ابو بکر ہارونی صاحب تھے۔ انھوں نے اصلاحیہ کو خون دل سے سینچا تھا۔ طلبہ تو دور، اساتذہ اور اراکین مجلس منتظمہ تک ان کی بارعب شخصیت، اصول پسندی اور حق گوئی سے سہمے رہتے تھے۔ لیکن ایک دو افراد ایسے بھی تھے جن کا علمی تفوق انھیں اس دام مرعوبیت سے آزاد رہنے پر مجبور کرتا تھا، جن میں ایک نام اسحاق سلفی صاحب کا تھا۔
سلفی صاحب بابوان ٹاپو میں پیدا ہوئے۔ تاریخ پیدائش معلوم نہ ہو سکی۔ ان کے ابا محترم مرشدآباد سے آئے تھے۔ بچپن میں بڑے نٹ کھٹ تھے۔ بہنوں کی آنچل کا کونا پکڑ کر اس میں پاگ دیتے رہنا اور اپنی ضد پوری کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ زبان میں تھوڑی لکنت بھی تھی، جس سے ان کے ابا جان فکر مند رہتے تھے۔ لیکن جیسے ہی مکتب جانے لگے، اہل خانہ سے لے کر اساتذہ تک سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ دسرے بچے جتنا پورے سال میں پڑھتے، وہ مہینے بھر میں پڑھ لیتے تھے۔
تعلیمی ایام کے بارے میں زیادہ کچھ پتہ نہ چل سکا۔ بس اتنا معلوم ہو سکا کہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ کے فارغ التحصیل تھے۔ اسی مناسبت سے سلفی کہلاتے تھے۔ ان کے بیٹوں نے ان کی طالب علمی کے زمانے کے کئی دلچسپ واقعات سنائے، جو ظاہر ہے، انھوں نے اپنے آبا سے سنے ہوں گے۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ احمدیہ سلفیہ میں بھی ان کی خدا داد ذہانت و فطانت کی دھوم تھی۔ کلاس میں ہمیشہ نمایاں رہتے۔ پڑھتے کم تھے، مگر درسیات پر پوری پکڑ ہوتی۔ مدارس کے عام ماحول کے مطابق جو طلبہ رٹنے میں زیادہ یقین رکھتے اور سمجھنے کی بجائے ہمیشہ رٹتے ہوئے نظر آتے، انھیں چھیڑنے اور پریشان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔
ان کی اسی خدا داد ذہانت و فطانت اور علمی گہرائی و گیرائی کی وجہ سے انھیں اپنے مادر علمی احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں پڑھانے کا موقع ملا تھا۔ لیکن وہ اپنے عام معمول کے مطابق اس سلسلے کو دراز نہ کر سکے۔
انھوں نے لگ بھگ دس بارہ سال کا عرصہ اسلام پور (سکھاسن) میں گزارا تھا۔ یہ شاید ان کی تدریسی زندگی کا کسی ایک جگہ گزرنے والا سب سے لمبا وقت تھا۔ یہاں ایک مدرس اور کچھ طلبہ پر مشتمل ایک مدرسہ تھا۔ مولانا مصلح الدین صاحب کجرا نے یہاں ان سے پڑھا تھا۔ 1951 میں مولانا مدرسہ اصلاحیہ سیماپور آ گئے، تو ان کے شاگردوں کا جھرمٹ ان کے ساتھ ہو لیا۔ لیکن اس بار مولانا یہاں ایک دو سال ہی یہاں رہ پائے۔ پھر کہاں گئے؟ اس کا کوئی جواب میرے پاس نہیں ہے۔ البتہ 1968 میں دوبارہ اصلاحیہ آئے اور 1970 تک رہے۔ یہ اصلاحیہ کا زریں عہد تھا۔ ہم مولانا کے جن شاگردوں کو جانتے ہیں، ان کا تعلق اسی دور سے ہے۔ یہ سارے لوگ مولانا کی علمی پختگی کے چشم دید گواہ ہیں۔
موجودہ جھارکھنڈ میں ایک نہایت قدیم اور تاریخ ساز ادارہ عبداللہ پور مدرسہ ہے۔ مولانا مصلح الدیں اعظم گڑھی اور مولانا احمد اللہ صاحب جیسے پائے کے علما اس کے استاد رہ چکے ہیں۔ ہمارے علاقے کے لوگوں نے بھی اس سے بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔ اس کے فارغین میں مولانا محب الحق صاحب، سابق مدرس اصلاحیہ سیماپور اور مولانا عبدالمنان صاحب سکریلی، سابق مدرس مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ، اللہ کی قبروں کو نور سے بھر دے، وغیرہ شامل ہیں۔ سلفی صاحب یہاں بھی پڑھا چکے ہیں۔ لیکن کب سے کب تک یہ معلوم نہ ہو سکا۔
بعد میں مجھے مولانا امین الدین صاحب حفظہ اللہ و وتولاہ کی زبانی معلوم ہوا کہ 1975 میں جب مدرسہ تہذیب العلوم (جو شیخ عطاء الرحمن مدنی اور مولانا عبد الحمید رحمانی کے مشورے پر معہد التعلیم الدینی ہوا اور مولانا شمیم اختر ندوی کے آنے کے بعد جامعة التعلیم الدینی ہو گیا) شری پور کی بنیاد مولانا عبد اللہ سونا کولی رحمہ اللہ کے ہاتھوں رکھی گئی، تو اس کے پہلے مدرس مولانا اسحاق سلفی تھے۔ یہاں مولانا دو سال رہے۔
مولانا نے اخیر کے دو تین سالوں کے علاوہ جو علالت میں بسر ہوئے، پوری زندگی تدریس ہی میں گزاری۔ یہ مشغلہ انھیں بیربھوم، شری پور اور ملن گڑھ بھی لے گیا۔ آخری دور میں دو تین سال منجھیلی مدرسہ (پورنیہ) میں گزرے۔ اس کے بعد طبیعت علیل رہنے لگی اور 28 دسمبر 1979 کو اس دارفانی سے دارالخلد کی جانب روانہ ہو گئے۔
اس بیچ مولانا کی سکونت بھی بدلتی رہی۔ بابوان سے سوناپور (کوڑھا) آئے۔ وہاں سے اسلام پور (سکھاسن ) گئے۔ آخر میں دھجا گھاٹ (کوڑھا) میں بس گئے اور یہیں سپرد خاک بھی ہوئے۔ ان کے بچے یہیں آباد ہیں۔
مولانا نے مناظرانہ طببیعت پائی تھی۔ ایک بار ان کی، علاقے کے علما سے اس بات پر ٹھن گئی کہ سانڈ حلال ہے یا حرام؟ مولانا حلال ہونے کے قائل تھے۔ ایک مناظرہ بھی ہوا۔ جس میں ان کے دلائل کو کوئی کاٹ نہ سکا۔ انھوں نے 'الارشاد' نامی ایک رسالہ لکھ کر اپنے موقف کو ہر کس و نا کس کے سامنے پیش بھی کیا۔ ان کا ایک اور رسالہ 'السیف المسلول علی رأس من أنكر الإيجاب والقبول' کے نام سے بھی شائع ہوا تھا۔ جس کا ایک نسخہ ان کے بیٹوں کے پاس موجود ہے۔
ہار ماننا مولانا کی عادت نہیں تھی۔ ان کے دھکا گھاٹ آنے کے بعد ایک مرتبہ ونود پور (کٹیہار کے سابق ایم پی نکھل کمار چودھری کا گاؤں) کے بارسوخ افراد نے دھجا گھاٹ والوں کے قربانی کے جانور چھین لیے، تو مولانا نے کورٹ تک ان کا پیچھا کیا اور فریق مخالف کو جانور واپس کرنے پر مجبور کیا۔
مولانا سے کتنے لوگوں نے فیض اٹھایا، اس کا انداذہ لگانا بہت مشکل ہے۔ اس کی کیی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ہے ان کا کسی ایک جگہ مستقل طور سے کام نہ کرنا۔ ان کے اہم ترین شاگردوں تک کو یہ پتہ نہیں ہے کہ مولانا نے کہاں کہاں پڑھایا ہے؟ دوسری بڑی وجہ ہے ان کے خاندان سے ان کا کوئی علمی وارث نہ ہونا۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف اتنی بڑی شخصیت، دوسری طرف ان کے بیٹوں میں ایک بندہ بھی ایسا نہیں ہے، جو ان کے بارے میں صحیح معلومات فراہم کر سکے۔
اخیر میں یہ بتا دوں کہ شیرشاہ وادیوں کے شیر مرحوم مبارک صاحب کے رفیق و ہم دم، ٹاپو کے مشہور متحرک اور فعال عالم دین مولانا خلیل الرحمن صاحب مولانا کے بھانجے تھے۔
بار الہا! تیرا یہ جہاں دیدہ بندہ اب تیری پناہ میں ہے۔ تو اس کے ساتھ رحمت و شفقت کا برتاؤ کرتے ہوئے جنت الفردوس میں جگہ عطا کرنا!!

0 comments: