Sunday, 17 May 2020

حاجی اسحاق علی و حاجی احمد علی دیوان رحمہما اللہ

تحریر: مشتاق احمد ندوی
قرآن کی تعبیر کے مطابق مال انسانی زندگی کے لیے 'قوام' ہے۔ یعنی انسانی زندگی کی ساری سرگرمیاں مال ہی کی بنیاد پر قائم رہتی ہیں۔ مال انسان کو رواں دواں رکھتا ہے۔ اس کی ضروریات کی تکمیل میں مدد فراہم کرتا ہے اور اسے اپنے فرائض کو نبھانے میں تعاون دیتا ہے۔ میں یہاں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ مال کی معنویت و افادیت کا دائرہ دنیا تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ دین کی تبلیغ و اشاعت اور اخروی زندگی کو بنانے اور سنوارنے میں بھی اس کا بڑا اہم رول ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی مکی زندگی میں ام المؤمبین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جو فائدہ ہوا اور مدنی زندگی میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مال سے اسلام اور مسلمانوں کو جو فائدہ ہوا، اس کا اندازہ سیرت نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کے ہر قاری کو ہے، اس لیے بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
بعد کے زمانوں میں بھی مسلمانوں کے اندر ہمیشہ ایسے اہل خیر رہے ہیں، جو اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی دولت کو بے دریغ خرچ کرتے رہے ہیں۔ ایسے جیالوں کے کارناموں سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔
بھارت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں 1857 کے بعد بے شمار مدارس کھلے، جو تعلیم و تربیت کے باب میں غیر معمولی خدمات فراہم کرتے رہے۔ ان مدارس کو کھولنے اور چلانے میں جہاں ہمارے علما نے بیش قیمت قربانیاں دی ہیں، وہیں ہمارے اہل خیر حضرات نے دل کھول کر ان کا تعاون کیا ہے۔ یہ ایک سچائی ہے کہ اگر ان اہل خیر حضرات کا خلوص ہمارے علما کے ہم رکاب نہ ہوتا، تو بھارت کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہزاروں مدارس تو کیا، ایک مدرسہ بھی وجود میں نہ آتا۔ ہماری دعا ہے کہ دونوں طبقوں کا خلوص یوں ہی قائم رہے اور ان کا تال میل اور بہتری کی طرف گامزن رہے، تاکہ موجودہ اندوہ ناک حالات میں مسلم عوام ان سے اور زیادہ مستفید ہوسکے۔ آمین
اللہ کی دی ہوئی دولت کو اس کے دین کی سربلندی اور اس کے بندوں کی خدمت کے لیے بے دریغ خرچ کرنے والے قوم کے مخلص سپوتوں میں حاجی اسحاق علی اور حاجی احمد علی دیوان رحمہما اللہ تعالی بھی شامل ہیں۔ دونوں بھائیوں نے مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کی تاسیس سے لے کر تعمیر و ترقی کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، وہ سنہرے حروف میں لکھے جانے کے لائق ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم کے بعد انہی کی مخلص کوششوں اور اساتذہ کی جد و جہد کا نتیجہ تھا کہ ایک زمانے میں کٹیہار، پورنیہ، ارریہ، کشن گنج اور سپول سے لے کر بھاگل پور اور صاحب گنج تک اس کی معیاری تعلیم و تربیت کے چرچے تھے۔ طلبہ کا اتنا جم گھٹ رہتا تھا کہ آس پاس کی نصف درجن سے زائد بستیوں میں بہت کم گھر ایسے ہوتے تھے، جو اصلاحیہ میں زیر تعلیم طلبہ سے خالی رہتے تھے۔ اس ادارے کے تعلق سے ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے فارغین جس کثرت سے سرکاری نوکری حاصل کرنے میں کام یاب رہے، سیمانچل بھر میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
حاجی اسحاق علی اور حاجی احمد علی دیوان بنکا، سیما پور، کٹیہار، بہار کے رہنے والے تھے۔ معاشی کے اعتبار سے بڑے مضبوط تھے۔ زمین دار تھے۔ حاجی احمد علی کو دربھنگہ راجا کی جانب سے مال گزاری وصول کرنے کا حق ملا ہوا تھا۔ دونوں بھائی سماجی اثر و رسوخ کے مالک تھے۔ ہندو مسلم سب لوگ عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔
یہ اس زمانے کی بات ہے، جب سیمانچل میں لاکھوں کی تعداد میں بسنے والے بنگلہ بھاشی مسلمان سخت معاشی خستہ حالی کے شکار تھے۔ ویسے تو ان کی حالت آج بھی کچھ اچھی نہیں ہے، لیکن اس وقت کی بات ہی کچھ اور تھی۔ وہ مرشد آباد اور مالدہ کے مختلف علاقوں سے، تباہ کن سیلابوں کی قہر سامانیوں کے نتیجے میں تباہ ہو کر، سب کچھ کھو کر، یہاں آ بسے تھے۔ لیکن یہاں بھی حالات موافق نہ تھے۔ کیوں کہ زمین دار لوگ زمین چھوڑنے کو تیار نہ تھے۔ ایسے میں ان کے لیے زمین داروں کے کھیتوں میں مزدوری یا ان کی زمین کی بٹایا داری کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا۔
ایسے حالات میں عام لوگوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا تو دور اس کے بارے میں سوچنا بھی آسان نہ تھا۔ لیکن اللہ رحم فرمائے ان مخلص، قوم کا درد رکھنے والے اور نیک دل اہل خیر حضرات پر، جنھوں نے علما کے ساتھ مل کر تعلیمی ادارے قائم کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور از سر قوم کا رشتہ تعلیم سے جوڑنے کی کوشش کی۔ چنانچہ ٹاپو کے بیدار مغز قائد مکھیا عبد الصمد صاحب نے 1930 میں مدرسہ مظہرالعلوم پٹیروا کی بنیاد رکھی تو ہمارے ممدوح دونوں بھائیوں نے 1938 میں مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے اور ادارے کھلتے گئے۔
مدرسہ اصلاحیہ سیماپور جس زمین پر قائم ہے، وہ حاجی اسحاق علی صاحب کی وقف کی ہوئی ہے۔ اصلاحیہ کے پرنسپل مولانا عبدالحق صاحب ندوی کے مطابق اس وقت مدرسہ کے پاس کل بارہ ایکڑ زمین ہے، جو اپنے محل وقوع کے اعتبار سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس میں سے چھ ایکڑ حاجی اسحاق علی کی وقف کردہ اور دو ایکڑ حاجی احمد علی دیوان کی وقف کردہ ہے۔
حاجی اسحاق علی صاحب اصلاحیہ کے سرپرست اعلی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے بھتیجے اور حاجی احمد علی دیوان کے بیٹے افسر علی صاحب اصلاحیہ کی مجلس منتظمہ کے سکریٹری بھی تھے۔ لمبے وقت تک اس عہدے پر جلوہ افروز رہے اور ادارے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ اسی خاندان کے ایک اور چشم و چراغ اور حاجی اسحاق علی کے پوتے عبدالمنان صاحب بھی اس ادارے کے سکریٹری رہ چکے ہیں۔ اس خاندان کے ایک معزز رکن اور حاجی احمد علی دیوان صاحب کے پوتے مولانا بدرالدین صاحب اصلاحیہ کے ٹیچر رہ چکے ہیں۔ مولانا اسی ادارے کے فارغ التحصیل اور میرے والد محترم مولانا نورالاسلام صاحب حفظہ اللہ و رعاہ کے کلاس فیلو ہیں۔
دونوں بھائیوں کے حسنات میں جو چیزیں شامل ہیں، ان میں سے ایک سیماپور بازار کی جامع مسجد بھی ہے۔ مسجد کے لیے زمین بھی انھوں نے ہی وقف کی تھی اور اس کی تعمیر کے اخراجات بھی خود ہی اٹھائے تھے۔
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جانی مانی شخصیت جناب ایڈووکیٹ التمش دیوان صاحب بھی اسی خاندان کے چشم و چراغ اور حاجی احمد علی دیوان کے پوتے ہیں۔ GLENHILL PUBLIC SCHOOL کے نام سے کٹیہار شہر میں ایک مثالی تعلیمی ادارہ چلاتے ہیں۔ کانگریس پارٹی کی ضلع اکائی کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ سماجی کاموں سے خاصی دل چسپی بھی رکھتے ہیں۔
دعا ہے کہ اس خانوادے کے جو لوگ دنیا سے جا چکے ہیں، اللہ انھیں جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے اور جو لوگ بقید حیات ہیں انھیں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قوم و ملت کے کام آنے کی توفیق عطا کرے۔

0 comments: