Sunday, 17 May 2020

شیخ الحدیث مولانا عبد الستار صاحب سلفی رحمہ اللہ

تحریر: مشتاق احمد ندوی
صوبہ بہار کے شمال مشرق اور صوبہ مغربی بنگال کے شمال مغرب میں ایک وسیع و عریض علاقہ ہے، جو ڈنگرہ گھاٹ کے نام سے معروف ہے۔ ڈنگرہ گھاٹ کے پچھم سے مہانندا ندی بہتی ہے، جب کہ اس کے بیچوں بیچ سے قومی شاہ راہ نمبر 31 گزرتی ہے، جو بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو اس کے باقی حصوں سے جوڑنے کا کام کرتی ہے اور اسی اہمیت کے پیش نظر اسے جی ٹی روڈ کہا جاتا ہے۔ ڈنگرہ گھاٹ کی عید گاہ سیمانچل کی بڑی اور تاریخی عید گاہوں میں سے ایک ہے، جس میں تین اضلاع سے تعلق رکھنے والی 25 چھوٹی بڑی بستیوں اور ٹولوں کے لوگ عید کی نماز ادا کرتے ہیں۔ ڈنگرہ گھاٹ کا علاقہ بڑا مردم خیز بھی رہا ہے۔ یہاں یہاں بڑے بڑے علما اور اہل علم پیدا ہوتے رہے ہیں۔ مولانا سلیمان صاحب رحمانی (بڑے مولانا)، مولانا عبد الستار صاحب سلفی، مولانا الطاف حسین صاحب سلفی، مولانا عبد الحق صاحب قاسمی و سلفی، مولانا عبد الرؤوف صاحب سلفی، مولانا عبد المجید صاحب فیضی اور مولانا عبد الباری صاحب فیضی رحمھم اللہ جیسے نام مثال کے طور لیے جا سکتے ہیں؟ ان میں سے ہر شخص آسمان علم و فن کا آفتاب و ماہ تاب تھا۔ اللہ کا شکر آج قحط الرجال کے دور میں بھی یہاں معتبر اور فعال علما کی اچھی خاصی ٹیم موجود ہے، جو علمی دنیا میں اپنی ایک پہچان رکھتی ہے۔ مولانا رضوان عبد الحکیم صاحب سلفی، مولانا عبد السلام صاحب سلفی، مولانا عبد المالک صاحب سلفی، مولانا مزمل حق صاحب مدنی اور مولانا عبد اللہ صاحب مدنی جیسے ڈنگرہ گھاٹی علما کے علمی مقام و مرتبہ اور تعلیمی و تدریسی اور دعوتی و سماجی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اللہ ان حضرات کو صحت و عافیت کی زندگی عطا فرمائے اور ان کی مساعی کو حسن قبول سے نوازے۔
آج میں گزرے ہوئے ڈنگرہ گھاٹی علما کے قافلے کے ایک اہم ترین رکن مولانا عبد الستار صاحب سلفی رحمہ اللہ کے بارے میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ البتہ ان کے بارے میں کچھ عرض کرنے سے پہلے یہ واضح کر دوں کہ مولانا ایک کثیر الجہت شخصیت کے مالک عالم دین تھے۔ قرآن و حدیث کا پختہ علم رکھتے تھے، ایک کام یاب مدرس تھے، دعوت الی اللہ کے جذبے سے سرشار تھے اور سماجی کاموں سے بھی سروکار رکھتے تھے، لیکن ان کے بارے میں میری معلومات بڑی محدود ہیں، اس لیے بہت ممکن ہے کہ میں مولانا کی شخصیت کی جو تصویر کھنیچنا چاہتا ہوں، اس میں مجھے کام یابی نہ مل سکے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو آپ مجھے معذور جانیں گے اور محنت و لگن سے کام کرنے کی دعا سے نوازیں گے۔
عبد الستار بن عبد الرؤوف بن امانت اللہ بن عبد الخبیر۔ یہ آپ کا مختصر سلسلہء نسب ہے۔ غالبا 1935 کو ڈنگرہ گھاٹ پورنیہ میں پیدا ہوئے۔ مولانا کے والد عبد الرؤوف صاحب مشکوة تک پڑھے ہوئے تھے اور خوش حال و فیاض آدمی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ کبھی ان کے دروازے سے کوئی سائل خالی ہاتھ واپس نہیں گیا۔ اس سخاوت و فیاضی کی جھلک مولانا کی شخصیت میں بھی نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔ مولانا تین بھائیوں اور دو بہنوں میں چوتھے نمبر پر تھے۔ دونوں بڑے بھائی حاجی ظل الرحمن اور حاجی عبد اللطیف صاحبان تھے۔
ابتدائی تعلیم مدرسہ دار السلام ڈنگرہ گھاٹ میں حاصل کی۔ مدرسہ دار السلام ڈنگرہ گھاٹ سیمانچل کا ایک قدیم ترین ادارہ ہے۔ مولانا عبد القیوم نامی اللہ کے ایک مخلص بندے کے ذریعے جو، جو بیر بھوم سے آکر یہاں پڑھایا کرتے تھے، 1918 میں اس کی بنیاد پڑی تھی۔ بعد میں اس میں بہت سے نام ور علما نے تدریسی فرائض انجام دیے اور یہاں سے خوشہ چینی کرکے بہت سے لوگ علم و فن کا روشن ستارہ بن کر چمکے۔ مجھے لگتا ہے کہ ڈنگرہ گھاٹ میں جو تعلیم و تربیت کا ماحول فروغ پایا، اس میں اس ادارے کا بہت بڑا رول ہے۔
اس کے بعد اتر دیناجپور ضلعے کے کسی مدرسے کا قصد کیا، جس کی تعیین نہیں ہو سکی ہے۔ البتہ ممکن ہے کہ یہ کھاڑی گوپال پور ہو۔ پھر مدرسہ دارالھدی بابوان، ارریہ گئے۔ 1940 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ، مدرسہ مظہر العلوم پٹیروا کے بعد ٹاپو کی دھرتی کا دوسرا سب سے پرانا ادارہ ہے۔ اس ادارے سے مولانا عبد الرحمن صاحب (والد بزرگوار مولانا محمد حسین 'صالح' سلفی) جیسے مخلص و اللہ والے اور مولانا احسان اللہ سلفی صاحب جیسے غیور و متحمس علما کی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔
علاقائی مدارس سے فیض اٹھانے کے بعد مظاہر العلوم سہارن پور اور جامعہ ریاض العلوم دہلی گئے اور اخیر میں احمدیہ سلفیہ دربھنگہ سے فراغت حاصل کی۔ یہ تو نہیں پتہ چل سکا کہ ان میں سے کس ادارے میں کتنے دن رہے، لیکن اتنا معلوم ہے کہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ سے فراغت 1962 میں حاصل کی۔ یہاں ان کے ساتھ جو لوگ فارغ ہوئے، ان میں ان کے لنگوٹیا یار مولانا الطاف حسین صاحب سلفی، مولانا منصور عالم صاحب سلفی، سابق وزیر اقلیتی فلاح و بہبود حکومت بہار، مولانا الطاف حسین صاحب سلفی، سابق استاد مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ بانس گاڑا، کٹیہار اور مولانا ہشام الدین صاحب سلفی، ہریش پور، کوڑھا کٹیہار وغیرہ شامل تھے۔ مولانا منصور عالم صاحب سلفی اور مولانا ہشام الدین صاحب سلفی سے بات کرنے سے معلوم ہوا کہ ہمارے ممدوح مولانا عبد الستار صاحب سلفی طالب علمی کے زمانے سے ہی بڑے ذہین و فطین، دینی شعائر کے پابند اور خوش اخلاق و ملنسار واقع ہوئے تھے۔
اس مدت میں آپ نے جن علما سے استفادہ کیا، ان میں مولانا سلیمان صاحب رحمانی، مولانا عبد السلام صاحب بستوی، شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کاندھلوی اور شیخ الحدیث مولانا عبیدالرحمن عاقل رحمانی جیسے اساطین علم و فن شامل ہیں۔
اس کے بعد تدریسی سلسلے کا آغاز ہوا، جو قابل صد رشک اور باعث صد افتخار رہا۔ اس مبارک سلسلے کی شروعات بھی اسی جامعہ دار السلام ڈنگرہ گھاٹ سے ہوئی، جہاں سے آپ کے تعلیمی سلسلے کا آغاز ہوا تھا۔ یہاں دو تین سال رہنے کے بعد مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کٹیہار تشریف لے گئے۔ اصلاحیہ میں بھی دو تین سال ہی رہنا ہوا۔ یہ اصلاحیہ کے اصل عروج کا زمانہ تھا۔ مولانا ابو بکر صاحب ہارونی کے علاوہ مولانا محمد اسحاق صاحب سلفی اور مولانا علی اصغر صاحب رحمانی و قاسمی جیسی نابغہء روزگار شخصیات یہاں موجود تھیں اور عالمیت تک کی تعلیم بڑی دھوم دھام سے ہو رہی تھی۔ اس کے بعد مدرسہ مظہر العلوم بٹنہ کا قصد کیا اور لگ بھگ دس سال اونچے درجوں کی کتابیں پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد 1981 میں ایک سال معہد التعلیم الدینی شری پور مالدہ میں رہے۔ پھر احمدیہ سلفیہ دربھنگہ گئے اور اپنے استاد گرامی قدر مولانا عبید الرحمن عاقل رحمانی کے بعد شیخ الحدیث کے منصب جلیل پر فائز ہوئے اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے، جامعہ کے احاطے کے اندر ہی زندگی کی آخری سانس لی۔
وفات سے کچھ دن پہلے آپ پر لقوہ کا اٹیک ہو گیا تھا۔ پھر اسی دوران ایک نہایت ہی جاں کاہ واقعہ پیش آ یا، جو درد و غم کا قہر برپا کر گیا۔ جمعے کا دن تھا۔ جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ جمعے کی نماز کے لیے مسجد پہنچ چکے، بلکہ جمعے کی نماز شاید کھڑی ہو چکی تھی۔ مولانا کمرے میں اکیلے تھے۔ ہوش و حواس پہلے ہی رخصت ہو چکے تھے۔ سوء قسمت کہ مولانا کے کمرے کے باہر برنیوں کا ایک چھتا تھا، جنھیں عین اسی موقعے پر کسی نے چھیڑ دیا۔ پھر کیا تھا! ساری برنیاں اندر داخل ہو گئیں اور مولانا کو ڈنک مارنے لگیں۔ مولانا کچھ بول تو نہیں سکتے تھے، لیکن برنیوں کے مسلسل ڈنک کی یہ چبھن ایک نہایت ہی خوف ناک آواز کی صورت میں باہر آنے لگی، جس کا درد جامعہ کی ایک ایک اینٹ نے محسوس کیا ہوگا۔ نماز سے فارغ ہوکر طلبہ اور اساتذہ بھاگم بھاگ آئے تو ماجرہ دیکھ کر ٹھٹھر کر رہ گئے۔ بمشکل تمام آپ کو اس آفت ناگہانی سے بچایا گیا۔ علاج معالجہ ہوا۔ بظاہر افاقہ بھی محسوس ہوا۔ شاید کچھ چلنے پھرنے بھی لگے تھے۔ لیکن یکایک دو دو حملوں کی زد میں آکر اندر سے نڈھال ہو گئے تھے۔ چنانچہ چند روز کے بعد ایک دن فجر کی نماز میں آپ کے کمرے کا دروازہ بند ملا۔ بڑی مشکل سے دروازہ کھولا گیا، تو پتہ چلا کہ سانسوں کی ڈور کٹ چکی ہے اور 60 سال کی ایک بھر پور زندگی گزارنے کے بعد آپ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ یہ 19/ جنوری 1995 کی بات ہے۔ لاش کو وہاں سے ڈنگرہ گھاٹ لایا گیا اور یہیں تدفین عمل میں آئی۔ اللہ ان پر اپنی رحمت و مغفرت کی برکھا برسائے اور انھیں فردوس بریں میں جگہ عنایت کرے۔
آپ ایک متبحر عالم دین اور مایہء ناز مدرس تھے۔ فن حدیث کے علاوہ نحو و صرف کی باریکیوں سے بھی خوب واقف تھے۔ عبارت فہمی کا ملکہ زبردست تھا۔ واقعات کی عکاسی بھی غضب کی کرتے تھے۔ طلبہ کی نفسیات سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ کلاس روم کو شاداب و سدا بہار رکھتے تھے۔ طلبہ کو کبھی اکتاہٹ محسوس ہونے نہیں دیتے۔ تدریس کی لڑی میں دل چسپ قصوں اور لطیفوں کو اس طرح پرو دیتے کہ پورا درجہ جھوم اٹھتا۔ آپ کی تدریسی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا ایوب سلفی صاحب لکھتے ہیں:
"دوران تدریس آپ نے اپنے آپ کو ایک بہتر، لائق و فائق اور فرض شناس معلم و مدرس ثابت کر دکھایا۔ طلبہ کی نگاہوں میں مقبول و محبوب رہے اور ان کی علمی ضرورتوں کو پورا کیا۔ طالبان علوم نبویہ کی ایک بڑی تعداد نے آپ سے اخذ و استفادہ کیا، آپ کے چشمہ صافی سے سیرابی حاصل کی اور آپ کے علوم و فنون کو اپنے سینوں میں اتار کر اپنے مستقبل کو روشن و تاب ناک بنایا۔ آپ کے شاگردوں کی تعداد بے شمار ہے۔"
(مجلہ طوبی مئی 2011)
چوں کہ آپ پوری زندگی درس و تدریس سے جڑے رہے، اس لیے آپ کے شاگرد ہزاروں کی تعداد میں بہار، بنگال، جھارکھنڈ اور یو پی وغیرہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور مختلف میدانوں میں کام کر رہے ہیں۔ کسی نے تصنیف و تالیف کا میدان اپنایا تو کسی درس و تدریس کا۔ کسی نے ادارتی امور سنبھا لے تو کوئی خطابت کا مرد میداں بنا۔ کسی نے دعوت و تبلیغ کی راہ چنی، تو کسی نے سماجی خدمت کا بیڑہ اٹھایا۔ اس طرح دیکھا جائے تو آپ سے فیض اٹھانے والے لوگ ہر میدان میں مل جائیں گے۔
آپ بہت ہی خوش اخلاق اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ کسی کو تکلیف دینا اور کسی سے بیر رکھنا نہیں جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے سماج میں بڑی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ مولانا سلیمان رحمانی رحمہ اللہ کے بعد، جنھیں بڑے مولانا کے نام سے جانا جاتا تھا، عیدگاہ ڈنگرہ گھاٹ کے امام بنے اور تا حین حیات یہ فریضہ انجام دیتے رہے۔ ہمارے یہاں صدقة الفطر اور چرم قربانی کا پیسہ بانٹنے کی ذمے داری 'سردار' کی ہوتی ہے۔ یہ کام بھی آپ کے حوالے تھا، جسے آپ بڑی امانت و دیانت داری کے ساتھ نبھاتے رہے۔
مولانا رضوان عبد الحکیم صاحب سلفی مجھے بھیجے گئے اپنے تاثراتی نوٹ میں انھیں یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"عیدین اور جمعہ کے خطبے اردو میں کتاب و سنت کی روشنی میں دیا کرتے تھے۔ اہم اور پیچیدہ مسائل کا حل دلائل و براہین کی روشنی میں بڑے واضح انداز میں کرتے تھے۔ عوام الناس کی سہولت کے پیش نظر کبھی کبھی عام فہم بنگلہ (شیر شاہ آبادی) زبان میں بھی اپنی بات رکھتے تھے۔
شیخ عبد الستار صاحب سلفی رحمہ اللہ بڑے ملنسار و متواضع انسان تھے۔ علما و طلبہء علوم دینیہ سے محبت رکھتے تھے۔۔۔۔۔۔ خاک سار راقم الحروف کو شیخ رحمہ اللہ سے بڑی عقیدت تھی اور شیخ موصوف بھی خاک سار سے بڑی شفقت اور اپنائیت سے ملتے تھے۔ جب کبھی کسی طرح کے دعوتی و تبلیغی پروگرام منعقد کرنے یا اصلاح معاشرہ سے متعلق منصوبہ بندی کے لیے شیخ محترم سے ملتا تو بڑے تپاک سے ملتے، مفید مشورے دیتے اور بہت حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔۔۔۔۔۔۔!
6/ دسمبر 1992 کو (بابری مسجد کی شہادت کے سال) ڈنگرہ گھاٹ میں صوبائی سطح کی عظیم تاریخی اہل حدیث کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس کے روح رواں آپ ہی تھے اور اس میں آپ نے اپنی تنظیمی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ بندہ عاجز نے بھی شروع سے اخیر تک کانفرنس کی کام یابی میں اپنا فریضہ نبھایا تھا۔ و للہ الحمد۔"
مولانا نے دو شادیاں کی تھیں۔ در اصل پہلی بیوی سے ایک بیٹی کے بعد کوئی اولاد نرینہ بچتی نہیں تھی، اس لیے آپسی رضامندی سے دوسری شادی کی، جس سے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔ بڑے بیٹے کا نام مزمل حق اور دوسرے بیٹے کا نام طریق اللہ ہے۔ مزمل ابھی مرحلہ متوسطہ ہی میں تھے کہ مولانا کا انتقال ہو گیا اور یوں ان کی تعلیم ادھوری رہ گئی۔
مولانا عبد الستار صاحب سلفی کا یہ تذکرہ ادھورا رہ جائے گا اگر ایک ایسے شخص کا ذکر نہ کیا جائے، جو ان کا ہم درس، ہم دم، ہم نفس اور ہم پیالہ و ہم نوالہ تھا۔ جہاں گئے، دونوں گئے؛ چاہے زمانہ پڑھنے کا ہو یا پڑھانے کا۔ عجیب اتفاق یہ ہے کہ دونوں اس اس دار فانی سے دارالبقاء کے سفر میں بھی صرف ایک سال آگے پیچھے چل پڑے۔ مولانا الطاف حسین صاحب سلفی کا انتقال ایک سال پہلے ہوا اور مولانا عبد الستار صاحب سلفی کا ایک سال بعد۔ ہمیں امید ہے کہ اللہ ان کی اس دوستی کی لاج رکھتے ہوئے انھیں جنت الفردوس میں بھی معیت نصیب فرمائے گا۔ دونوں رفیقوں میں سے ایک کے بارے میں یہ چند صفحات ضبط تحریر میں آ گئے۔ دعا کیجیے کہ دوسرے کے بارے میں بھی قلم اٹھانے کا موقع جلد مل جائے!

0 comments: