Sunday, 17 May 2020

مفتی محمد ادریس رحمہ اللہ

تحریر: مشتاق احمد ندوی
"اگر بالفرض روئے زمین سے نحو اور صرف کی ساری کتابیں ختم ہو جائیں، تو میں ان دونوں فنون کو اسی طرح مرتب کرکے دے سکتا ہوں، جیسے آج ہیں۔۔۔۔!!" جب میں نے پرانے علما سے مفتی محمد ادریس صاحب رحمہ اللہ کے بارے میں کچھ جاننا چاہا، تو ان میں سے اکثر لوگوں نے ان کے علم و فضل کے ذکر خیر کے ساتھ ساتھ ان کے اس جملے کو ضرور دوہرایا۔ تو آئیے آج اسی عبقری شخصیت سے متعلق کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
محمد ادریس بن منیر الدین بن غازی عدالت ملا بن شاہ رحیم بخش۔ یہ مختصر سلسلہ نسب ہے۔ 5/ اکتوبر 1885 کو پیدا ہوئے۔ تین مہینے کے تھے کہ ان کے والد انھیں لے کر دولوب پور، مرشد آباد سے یوسف ٹولہ، آمدہ باد، کٹیہار (سابقہ پورنیہ) آ گئے۔ مفتی صاحب کے دادا غازی عدالت ملا تحریک شہیدین کے رکن تھے۔ اسی خاندان کے اور ایک فرد عبدالکریم بھی تحریک شہیدین کے معزز رکن تھے، جو تحریک کے لیے بہار اور بنگال سے رنگروٹ فراہم کرتے تھے۔ انھوں نے معرکہ بالاکوٹ میں حضرت سید احمد شہید اور حضرت شاہ اسماعیل شہید کے ساتھ جام شہادت نوش کیا تھا۔ ان سب باتوں کا ذکر مفتی صاحب کے بڑے صاحب زادے، مجاہد آزادی اور کوچہ سیاست کے رمز شناس عالم دین مولانا سعید الرحمن شمسی نے مولانا ابو الحسن علی ندوی کے نام ارسال کردہ اپنے ایک خط میں کیا تھا۔
واضح رہے کہ معرکہ بالاکوٹ میں شہادت کا مرتبہ حاصل کرنے والے مجاہدین کی تعداد تین سو کے آس پاس تھی۔ جن میں سے 144 لوگوں کے نام مولانا ابو الحسن علی ندوی نے سیرت سید احمد شہید (2/ 489-493) میں درج کیے ہیں۔ یہ فہرست مولانا غلام رسول مہر کی کتاب تحریک سید احمد شہید (2/567-569) میں بھی ہے۔ لیکن اس میں 137 لوگوں ہی کے نام ہیں۔ ان دونوں فہرستوں عبد الکریم کا نام شامل نہیں ہے۔ لیکن ظاہر ہے، دونوں فہرستوں میں آدھے سے بھی کم شہدا کے نام آ سکے ہیں اور زیادہ تر لوگوں کے نام چھوٹے ہوئے ہیں۔ ایک اور دل چسپ بات یہ ہے کہ ان دو فہرستوں میں بنگال سے تعلق رکھنے والے صرف چھ شہدا کے نام شامل ہیں، جو کچھ اس طرح ہیں:
1۔ شرف الدین بنگالی 2۔ علیم الدین بنگالی 3۔ فیض اللہ بنگالی 4۔ لطف اللہ بنگالی 5۔ منشی محمدی انصاری بردوانی 6۔ سید مظفر حسین بنگالی
جب کہ تحریک شہیدین کی تاریخ سے تھوڑی بہت واقفیت رکھنے والے شخص کو بھی اندازہ ہوگا کہ یہ تعداد اور زیادہ ہونی چاہیے۔
یہ ایک المیہ ہے کہ سید صاحب کے زمانے میں تحریک کی تمام کار روائیوں کی روداد لکھنے کا کام ایک محکمہ تحریر کرتا تھا، جس کے رئیس منشی محمدی انصاری تھے۔ منشی جی بنگال کے بردوان ضلع سے تعلق رکھتے تھے۔ سید صاحب انھیں انصاری بھائی کہہ کر پکارتے تھے۔ انھیں نگارش میں ایسا کمال حاصل تھا کہ کسی موقعے پر اندھیرے میں بھی کچھ لکھنا پڑتا، تو بے تکلف لکھتے تھے۔ نہ کوئی حرف خطا ہوتا، نہ الفاظ آپس میں ملتے اور نہ سطریں ٹیڑھی ہوتیں۔ اس محکمے سے وابستہ افراد میں منشی فضل الرحمن بردوانی بھی شامل تھے، جو منشی محمدی انصاری کے ماموں تھے۔ (دیکھیے: تحریک سید احمد شہید جلد سوم ص 67) لیکن یہ سارے دستاویز بالا کوٹ میں نذر آتش ہو گئے۔ (دیکھیے: تحریک سید احمد شہید جلد اول ص 36) پھر اس کے بعد اس تحریک سے قریبی تعلق رکھنے والے جن حضرات نے آنکھوں دیکھی رقم کی، ان میں سے کسی کا تعلق بنگال سے نہیں تھا۔ اس طرح ایک طرف فرزندان بنگالہ کی قربانیوں کا بہت بڑا حصہ آنکھوں سے اوجھل ہوگیا تو دوسری طرف بنگلہ جیسی زندہ زبان بھی اپنے سپوتوں کے کارناموں کو اپنے سینے میں سمیٹنے سے محروم رہ گئی۔
خیر، اب آگے بڑھتے ہیں۔ مفتی صاحب کے بچپن اور تعلیمی ایام کے حالات معلوم نہ ہو سکے۔ ہاں! اتنا پتہ ہے کہ انھوں نے بنارس میں تعلیم حاصل کی تھی اور وہاں حصول علم کی خاطر اچھا خاصا وقت بتایا تھا۔ قرائن یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے تعلیم مدرسہ سعیدیہ میں حاصل کی ہوگی۔ مدرسہ سعیدیہ کی بنیاد مولانا محمد سعید بنارسی نے 1299ھ میں (1881 کے آس پاس) رکھی تھی۔ بنارس کی دھرتی میں آج کتاب و سنت کی تعلیمات کی جو بیار بہہ رہی ہے، اس میں مولانا محمد سعید بنارسی اور ان کے فرزندان کی محنتوں کا سب سے بڑا دخل ہے۔ مولانا کا انتقال 1904 میں ہوا۔ اس کے بعد ان کے فرزند ارجمند، مشہور محدث، مناظر اور مصنف مولانا ابو القاسم سیف بنارسی نے سولہ سال کی عمر میں مسند تدریس سنبھالی اور انتالیس بار بخاری و مسلم کا درس دیا۔ دونوں باپ بیٹے میاں نذیر حسین محدث دہلوی اور حافظ عبداللہ غازی پوری جیسے عظیم علما کے فیض یافتہ تھے۔ مفتی صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مولانا ابو القاسم سیف بنارسی کے شاگرد تھے۔ یہاں ایک بات کھٹکتی ہے کہ وہ علامہ بنارسی سے عمر میں پانچ سال بڑے تھے، لیکن یہ معلوم ہو جانے کے بعد کہ علامہ سیف بنارسی نے سولہ سال کی عمر میں تدریس کا آغاز کر دیا تھا اور شروع سے ہی اونچی کتابیں پڑھانے لگے تھے، یہ اندیشہ جاتا رہتا ہے۔ خاص طور سے اس لیے بھی کہ اس زمانے میں ہمارے یہاں پڑھنے لکھنے کا سلسلہ عام طور سے عمر کی پہلی دہائی گزرنے کے بعد ہی شروع ہو پاتا تھا۔
فراغت کے بعد پوری زندگی درس و تدریس، وعظ و ارشاد اور افتا میں گزاری۔ کن کن اداروں میں تدریسی فرائض انجام دیے، معلوم نہ ہو سکا، لیکن بعد میں گھر ہی میں پڑھاتے تھے۔ وہ اپنے آپ میں ایک مدرسہ تھے۔ ہر فن کی کتابیں خود ہی پڑھاتے تھے۔ ان کے بڑے صاحب زادے مولانا سعید الرحمن شمسی اور مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کے فاونڈر پرنسپل مولانا ابو بکر ہارونی وغیرہ نے ان سے گھر ہی میں خوشہ چینی کی تھی۔ بڑے اچھے مناظر بھی تھے۔ دور دور تک ان کے مناظروں کا شہرہ تھا۔ بہت سے مناظروں میں حکم بھی بنائے جاتے تھے۔ بنگلہ اور اردو دونوں زبانوں میں تقریر کرتے تھے اور بہت خوب کرتے تھے۔ کچھ اچھے علما کو کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ ان کی تقریریں اس لائق ہوتی ہیں کہ انھیں قلم بند کر لیا جائے۔ علما کے درمیان ان کے علمی مقام و مرتبہ کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہار و بنگال کے بہت سے مدارس میں تعلیمی سال کے اخیر میں ختم بخاری کے درس کے لیے مدعو ہوتے تھے۔ فقہ میں دست رس حاصل تھی۔ افتا کی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ مفتی صاحب کے نام سے ہی جانے جاتے تھے۔ فن نحو و صرف میں لا ثانی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں فنون کی بیش تر کتابیں انھیں مع حواشی از بر تھیں۔
علم ہی نہیں، بلکہ عملی اعتبار سے بھی بہت مضبوط تھے۔ تقوی و پرہیزگاری کا وافر حصہ ملا تھا، جس کی وجہ سے عوام کی نظر میں عزت و احترام کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ نرم مزاج اور خوش اخلاق تھے۔ باتوں میں بلا کی کشش تھی۔ برمحل اردو اور فارسی کے اشعار بھی خوب استعمال کرتے تھے۔
مفتی صاحب 1957 کو مع اہل خانہ یوسف ٹولہ آمدہ باد سے صادل پور (خورد) کوڑھا منتقل ہو گئے تھے، لیکن دس گیارہ سال رہنے کے بعد دوبارہ یوسف ٹولہ چلے گئے۔ یہیں 1975 کو، ایک لمبی اور شان دار زندگی گزارنے کے وفات پائی۔
مفتی صاحب کو اللہ نے سات بیٹے بیٹیوں سے نوازا تھا۔ بڑے بیٹے مولانا سعید الرحمن شمسی ان کی علمی وراثت کو سنبھالنے کے ساتھ سیاسی میدان میں سرگرم رہے۔ اللہ نے چاہا تو ان کا مستقل خاکہ پیش کیا جائے گا۔ چھوٹے بیٹے ماسٹر عبید الرحمن صاحب اسکول ٹیچر تھے۔ باقی تین لڑکوں کے نام عبد التواب، عبد الرحمن اور منصور عالم ہیں۔ فاطمہ اور حمیدہ دو بیٹیاں تھیں۔
اللہ ان کے حسنات کو قبول کرے،سیئات کو در گزر کرے اور فردوس بریں میں جگہ عنایت کرے۔۔۔۔۔!!

0 comments: