Sunday, 17 May 2020

مولانا محمد منصور عالم دیوبندی

تحریر: مشتاق احمد ندوی
.....
مولانا محمد منصور عالم صاحب کا نام آنے پر ذہن و دماغ کی سطح پر جو شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے، اس میں بھولاپن ہے، تواضع ہے، مروت ہے، زہد و تقوی ہے، انسان دوستی ہے اور لمبے وقت تک اسلامی علوم کی تدریسی سرگرمیاں ہیں۔
مولانا چوں کہ دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تھے، اس لیے عام طور پر دیوبندی صاحب کے نام سے جانے جاتے تھے۔ کوڑھا بلاک کی دھوم گڑھ بستی میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی اسناد کے مطابق تاریخ پیدائش 6 اگست 1941 ہے۔ محمد منصور عالم بن ایوب علی بن حاجی عبد السبحان بن کنگالی موڑول؛ یہ مختصر سلسلۂ نسب ہے۔ دادا عبد السبحان صاحب منیہاری سے آکر اونچلا، براری میں بسے تھے اور پھر وہاں سے دھوم گڑھ آ گئے تھے۔
والد ماجد مولانا ایوب علی صاحب بڑے ہی متقی اور پرہیزگار عالم دین تھے۔ انھیں بچپن میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا تھا، اس لیے کھیت میں ہل جوتنے گئے اور وہیں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور یک بارگی تعلیم پوری کرنے کے بعد ہی گھر لوٹے۔ بزرگوں سے سنا ہے کہ جب علاقے میں بارش نہ ہوتی اور استسقا کی نماز پڑھانے کی ضرورت ہوتی، تو وہی امام ہوتے۔ خود روتے، لوگوں کو بھی رلاتے اور عام طور پر بارش سے فیض یاب ہوتے۔ تقوے کا یہ عالم تھا کہ گاؤں سے گزرتے، تو کسی اجنبی عورت پر نظر نہ پڑ جائے، اس لیے عام طور چھتری کا استعمال کرتے تھے۔ ان کے شاگردوں میں مولانا محمد محسن صاحب سبک دوش صدر مدرس مدرسہ تنظیم الاسلام تین پانیہ، مولانا منصور عالم صاحب سبک دوش صدر مدرس مدرسہ تنظیم الاسلام تین پانیہ اور خود ان کے صاحب زادے دیوبندی صاحب وغیرہ شامل ہیں۔
جیسا کہ ابھی مذکور ہوا، دیوبندی صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ بانس گاڑا پہنچے اور آٹھویں جماعت تک کی تعلیم حاصل کی۔ یہاں مولانا عبد الودود صاحب قاسمی (مولانا نذر الابرار مدنی کے والد بزرگوار)، مولانا محمد عمران صاحب سبک دوش صدر مدرس مدرسہ ریاض العلوم صدر ٹولہ مرگھیا اور مولانا الطاف حسین صاحب سلفی سبک دوش مدرس مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ وغیرہ ان کے ہم درس تھے۔ چتوریہ سے فارغ ہونے کے بعد بھی تعلیمی تشنگی کم نہ ہوئی، تو دار العلوم دیوبند چلے گئے اور کچھ سال رہ کر باضابطہ سند فراغت لے کر واپس ہوئے۔ سنہ فراغت 1965 ہے۔ دیوبند کی پڑھائی کے دنوں میں آپ کے علاقائی ساتھیوں میں مولانا عبد الودود صاحب قاسمی اور مولانا عبد السبحان صاحب قاسمی سابق صدر مدرس مدرسہ معاون الاسلام سیموریہ کے نام شامل ہیں۔
اب تدریسی سلسلہ شروع کرنے کی بات آئی، تو اس کی بسم اللہ بھی مادر علمی مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ سے ہوئی۔ میں یہاں یہ بتاتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتا ہوں کہ چتوریہ مدرسہ ان مدارس میں سے ہے، جنھوں نے علاقے میں جو بھی تعلیم و تعلم کی خوشبو ہے، اسے عام کرنے میں قابل ذکر کردار ادا کیا ہے۔ 1953 میں قائم ہونے والے اس مدرسے کی بنیاد رکھنے میں مشہور مقرر مولانا مسلم سونا پوری صاحب کا نمایاں کردار رہا ہے۔ انھوں نے گاؤں والوں بالخصوص جسارت علی منڈل، حاجی انتاج الدین، حاجی عبد العزیز، حاجی عبدالغفور اور حاجی جعفر علی وغیرہ کے تعاون سے یہ پودا لگایا اور خون جگر سے سینچا۔ اس ادارے کی ایک خوش قسمتی یہ رہی کہ اسے اس زمانے کے نامور مدرسین کی تدریسی خدمات فراہم رہیں۔ مولانا حضرت علی صاحب، مولانا عین الدین قاسمی، مولانا عبد المنان سکریلوی، مولانا محی الدین ہاشم پوری، مولانا علی اصغر قاسمی، مولانا محمد سعید ندوی، مولانا عبد الودود قاسمی، مولانا الطاف حسین سلفی (بیڈنڈا)، مولانا ابوذر غفاری (گیروا)، مولانا ابو سعید مظہری (سیموریہ) اور خود ہمارے ممدوح مولانا منصور عالم دیوبندی یہاں کے عروج کے زمانے کے کچھ اہم اساتذہ رہے ہیں، جو اس کے لیے سرمایۂ صد افتخار ہیں۔
دیوبندی صاحب کا اگلا تدریسی پڑاؤ مدرسہ فیض العلوم راحت پور اتر دیناج پور رہا۔ پھر مدرسہ دارالسلام ڈنگرا گھاٹ پورنیہ سے وابستہ ہوئے۔ کچھ سال مدرسہ اسلامیہ چرخی میں صدر مدرس کی حیثیت سے کام کیا اور اس کے بعد مدرسہ فیض الغربا دھوم گڑھ سے وابستہ ہوگئے۔ دھوم گڑھ مدرسہ 1963 میں قائم ہوا تھا اور اسے دیوبندی صاحب کے علاوہ مولانا محمد مسلم آزاد، مولانا نثار احمد سلفی، مولانا عبد المنان نشتر اور مولانا عبد الرحمن انور جیسے بہترین مدرسین کی خدمات فراہم رہیں۔ آ زاد صاحب جب تک باحیات رہے، مدرسے کی روح رواں کی حیثیت سے کام کرتے رہے اور مولانا نثار صاحب لمبے وقت تک صدر مدرس رہے۔ دیوبندی صاحب کا رشتہ ان تمام لوگوں کے ساتھ بہت ہی خوش گوار رہا۔ کبھی معاصرانہ چشمک یا من مٹاؤ کی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ دھوم گڑھ مدرسے سے وابستگی 18 اکتوبر 1975 کو عمل میں آئی اور ایک لمبا عرصہ گزارنے کے یہیں سے 7 اگست 2003 کو سبک دوش ہوئے۔ ریٹائر منٹ کے بعد بھی تدریس کا شوق دامن گیر رہا، تو دو سال مدرسہ اصلاح المسلمین چاندنی گھاٹ میں فیض رسانی میں لگے رہے۔
اس طرح، چالیس پینتالیس سال تک تفسیر، حدیث اور فقہ جیسے اسلامی علوم کی کتابیں پڑھاتے رہے۔ اخیر عمر کے دو تین سال کے علاوہ، جو علالت میں گزرے، پوری زندگی یہی شغل رہا اور اس درمیان ہزاروں تشنگان علم و فن کو خوب خوب مستفید کیا۔
مولانا آزاد صاحب کے انتقال کے بعد جامع مسجد دھوم گڑھ کی امامت و خطابت کی ذمے داری بھی سونپی گئی اور سالوں تک اسے بخوبی نبھایا۔
دیوبندی صاحب ایک سادہ لوح، منکسر المزاج، با اخلاق، باعمل اور پاک نفس عالم دین تھے۔ پانچ وقت کی نمازیں ہمیشہ جماعت کے ساتھ پڑھتے۔ تہجد کا خاص اہتمام تھا۔ نماز فجر کے بعد تلاوت میں لگ جاتے اور چاشت کی نماز پڑھ کر ہی باہر نکلتے۔ بہت ہی ملنسار طبیعت پائی تھی۔ ہر کسی سے ہنس کر ملتے۔ پڑھائی کے زمانے کے احباب یا دیگر شناساؤں سے ملاقات ہوتی، تو بچھ بچھ جاتے۔ مجھے ان کے چھوٹے داماد ہونے کا شرف حاصل ہے۔ میری شادی کے بعد وہ چار پانچ سال ہی باحیات رہے۔ لیکن، اس درمیان میں نے ان کے اندر جو بے نفسی و انکسار دیکھا، وہ اب خال خال ہی نظر آتا ہے۔ ایک طرف ہم حدیث کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، سرور کائنات ہونے کے باوجود، اس قدر متواضع اور منکسر المزاج تھے کہ مدینے کی کوئی لونڈی آپ کا ہاتھ پکڑ کر جہاں چاہتی، لے جاتی اور آپ چپ چاپ اس کے ساتھ چلتے رہتے۔ نہ کوئی شکایت کرتے، نہ ہاتھ چھڑانے کی کوشش فرماتے۔ لیکن دوسری طرف جب رات دن اس طرح کی حدیثیں پڑھنے والے لوگ ہی 'ہٹو بچو' والے کلچر کو فروغ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں، تو دیوبندی صاحب جیسے لوگوں کی اہمیت ہماری نظروں میں اور بڑھ جاتی ہے...!!
مولانا کے آخری زندگی کے کچھ مہینے بڑے تکلیف دہ گزرے۔ در اصل بچپن میں جاڑے کے موسم میں آگ تپتے ہوئے دائیں پاؤں کے گھٹنوں کا اندر والا حصہ جل گیا تھا، جو علاج کے بعد ٹھیک تو ہو گیا تھا، لیکن اخیر عمر زخم پھر سے اکھڑ گیا اور کینسر کی شکل اختیار کر گیا. مرنے سے پہلے یہ وصیت کر گئے تھے کہ میرے جانے کے بعد کوئی آنسو نہ بہائے، جس کا پورے طور پر پالن کیا گیا۔ آخری سانس 9 مارچ 2009 بمطابق 11 ربیع الاول 1430 ہجری کو لی اور آسودۂ خاک ہو گئے۔
مولانا کے پانچ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں سے دو بیٹے انتقال کر چکے ہیں۔ دورسرے بیٹے عبد الباری کھیتی کسانی سے جڑے ہوئے ہیں، چوتھے بیٹے مولانا محمد عیسی ندوی مدرسہ فیض الغربا دھوم گڑھ کے مدرس ہیں، چھوٹے بیٹے محفوظ عالم پرائمری اسکول کے مدرس ہیں اور چھوٹی بیٹی عائشہ احقر کی نصف بہتر ہیں۔ میرے چھوٹے موٹے جو بھی لکھنے پڑھنے کے کام ہیں، ان کے انجام پانے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے؛ وہ گھریلو ذمے داریاں اس خوش اسلوبی سے نبھاتی ہیں کہ میں سارے جھمیلوں سے آزاد ہوکر لکھنے پڑھنے میں لگا رہتا ہوں۔ ظاہر ہے، یہ سب دیوبندی صاحب کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہے۔ ویسے، ان کے سارے بچوں کو سادگی اور خوش اخلاقی کے معاملے میں ان کا عکس کہا جا سکتا ہے.....!!
اللہ مولانا فردوس بریں میں جگہ عنایت کرے اور ہمیں اپنے گزرے ہوئے لوگوں کی اچھائیوں کو مشعل راہ بناکر آگے بڑھنے کی توفیق عطا کرے.....!!!

0 comments: