Sunday, 17 May 2020

صاع کیا ہے؟

تحریر:  ابو تقی الدین ضیاء الحق سیف الدین
......
اسلام دین فطرت ہے اور اس کے مقرر کردہ پیمانے بھی سادہ اور فطری ہیں. 
1 -"صاع" غلہ ناپنے کا ایک پیمانہ ہے (وہ لوہے کا بھی ہوسکتا اور لکڑی کا بھی).
"صاع" ماپ (ناپ) کا پیمانہ ہے، وزن کا نہیں، جب اسے اوزان میں لایا جاتا ہے تو اجناس کی مختلف اقسام کی بنا پر اس میں کمی بیشی ہوجاتی ہے، مثلاً سوکھی کھجور کا وزن کم ہوگا، گیہوں کا دانہ اچھا ہو تو اس کا وزن زیادہ ہوگا، وہیں آٹے کا وزن کم ہوگا، ہلم جرا.
اسی طرح کا پیمانہ ہمارے یہاں بھی پایا جاتا تھا، بچپن میں ہمارے گھروں میں چاول کے لئے "کاٹھا" (ایک کیلو وزن تقریباً) اور دھان اور گیہوں کے لئے "آڑھی"( ایک بڑی ٹوکڑی پانچ کیلو تقریباً) کا استعمال کیا جاتا تھا ،اب یہ چیزیں ناپید ہوگئیں ہیں. 
2 - ایک "صاع" میں چار "مد" ہوتے ہیں(مد کی تفصیل نمبر 3 میں آرہی ہے).
یعنی ایک "صاع" تقریباً چار لپیں(وہ مقدار جو دونوں ملی ہوئی ہتھیلیوں میں آجائے).
"لپ" کو ہماری زبان میں "کھابول" کہتے ہیں.
یعنی چار "کھابول" میں ایک "صاع". 
3 - "مد" : ایک قدیم پیمانہ ہے.
"مَدَّ يَمُدُّ مدًّا" کا معنی "پھیلانا" ہے، لغت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ : "أن أصل المد بأن يمد الرجل يديه فيملأ كفيه طعاما" - "یعنی مد کی اصل یہ ہے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور ہتھیلیوں میں غلہ بھرے".
بعض کتب لغت میں لکھا ہے:"المد بالضم مكيال وهو.... أو ملء كف الإنسان المعتدل إذا ملأهما ومد يده بهما، وبه سمي مدا". 
"یعنی" مُد" (پیش کے ساتھ) پیمائش کا پیمانہ... درمیانے (جو کوتاہ قد ہو اور نہ ہی بہت لمبا، جن کی ہتھیلیاں نہ چھوٹی ہوں اور نہ بڑی) انسان کی ہتھیلیاں ہیں جب وہ ان دونوں کو بھر لے اور ہتھیلیاں پھیلا دے، اسی وجہ سے اسے "مد" کہا جاتا ہے". 
امام نووی نے لکھا ہے : "وقال جماعة من العلماء: الصاع أربع حفنات بكفى رجل معتدل الكفين" - "یعنی علما کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ ایک صاع میں درمیانی ہتھیلیوں والے آدمی کی چار لپیں ہوتی ہیں".
داودی نے کہا ہے :
"معياره الذي لايختلف: أربع حفنات بكفى الرجل الذي ليس بعظيم الكفين ولاصغيرهما، إذ ليس كل مكان يوجد فيه صاع النبي - صلى الله عليه وسلم -" 
" یعنی اس کا معیار جو مختلف نہیں ہوتا ایسے آدمی کے دونوں ہاتھوں کی چار لپیں ہیں جس کی ہتھیلیاں نہ بڑی ہوں اور نہ چھوٹی، اس لئے ہر جگہ میں رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - کا صاع نہیں پایا جاتا". 
4- معلوم ہوا ایک "صاع" میں درمیانی ہتھیلیوں والے آدمی کی چار لپیں ہوتی ہیں.
سعودی عرب کے مشہور عالم دین اور مفتی اعظم شیخ ابن باز - رحمہ اللہ - اور ہیۃ کبار العلما کے اراکین نے بھی یہی فرمایا ہے کہ صدقہ الفطر ادا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ معتدل (جو آدمی نہ بہت چھوٹا ہو اور نہ ہی بہت لمبا) ہاتھوں والا آدمی دونوں ہاتھوں کی لپیں چار دفعہ بھر کر دے.
آپ بھی ایک بار ترازو سے نہ تول کر اپنی دونوں ہتھیلیوں سے بھر کر ضرور دیں، اور تجربہ کرکے دیکھیں.
5- کتب فقہ اور بعض کتب لغت میں لکھا ہے کہ : صاع دو ہیں :
أ-صاع مدنی:
مدینہ کا صاع معتبر ہے، اور اس کا صحیح اندازہ پانچ رطل اور ایک رطل کا تیسرا حصہ(ایک تہائی) ہے اور رطل کا مشہور اندازہ ادھ سیر ہے، اس حساب سے "صاع" دو سیر دس چھٹانک تین تولہ چار ماشے ہوتا ہے.
(جدید وزن کے مطابق ایک صاع اڑھائی سے تین گلو کرام کے بیچ ہے). 
ب- صاع عراقی :
اہل عراق کے حساب سے ایک "صاع" آٹھ رطل کے برابر یا دو سیر چودہ چھٹانک چار تولہ کے برابر ہوتا ہے، علامہ فیروز آبادی نے لکھا ہے کہ : "المُد بالضم مكيال هو رطلان أو رطل وثلث أو ملء كف الإنسان المعتدل إذا ملأهما ومد يده بهما، وبه سمي مُدا، وقد جربت ذلك فوجدته صحيحا ".
"یعنی "مُد" (پیش کے ساتھ) پیمائش کا پیمانہ اور وہ بقدر دو رطل(اہل عراق اور ابوحنیفہ کے نزدیک) یا ایک رطل اور ثلث رطل (اہل حجاز کے ہاں)ہوتا ہے یا درمیانے انسان کی دونوں ہتھیلیاں ہیں جب وہ ان دونوں کو بھر لے اور ہتھیلیاں پھیلا دے، اسی وجہ سے اسے "مد" کہا جاتا ہے، میں نے اس کا تجربہ کیا اور اسے صحیح پایا ہے".

0 comments: