Sunday, 17 May 2020

مولانا شمس الدین صاحب حفظہ اللہ

تحریر: مشتاق احمد ندوی، کٹیہار
Image may contain: 1 person
پچاس سال سے زیادہ کا تدریسی تجربہ، پختہ علم، سینے میں محفوظ ہزاروں پرانی یادیں، جھریوں والا ہنستا ہوا گول چہرہ، سانولا رنگ، پستہ قد، ہاتھ میں لاٹھی اور تیز چال۔ یہ ہیں مولانا شمس الدین صاحب، جن کے بارے میں کچھ باتیں آج ہم آپ سے ساجھا کرنے جا رہے ہیں۔
شمس الدین بن حاجی محمد خبیر الدین بن طفور اللہ بن ڈوبو مڑول. یہ آپ کا مختصر سلسلہء نسب ہے۔ ہاشم پور، براری کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ایک زمانے میں ہاشم بڑی خوش حال بستی ہوا کرتی تھی۔ علاقے کے عام ماحول کے برخلاف وہاں کی آب و ہوا میں پڑھنے لکھنے کی خوش بو محسوس کی جا سکتی تھی۔ وہاں کئی اچھے علما اور عصری تعلیم یافتہ لوگ ہوا کرتے تھے۔ لیکن اسے کیا کہیے کہ یہ بستی گنگا کے دست برد کی شکار ہو گئی اور اس کے بسنے والے پورے سیمانچل میں بکھر کر رہ گئے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے آبا و اجداد گنگا کی قہر سامانیوں کے نتیجے ہی میں مرشد آباد چھوڑ کر یہاں آئے، لیکن یہاں بھی زیادہ تر ندیوں کے کناروں ہی میں فروکش ہوئے، جس کی سزا ہم آج تک بھگت رہے ہیں!
تعلیم کا آغاز ہاشم پور اسکول سے ہوا۔ درجہ چار تک پہنچے تھے کہ گاؤں میں ایک مدرسہ کھلا۔ سلام ٹولہ کے حافظ عبد الجبار صاحب اس میں پڑھاتے تھے اور مولانا کے یہاں ہی رہتے تھے۔ ان سے قرات سیکھی۔ ابھی چھ مینے ہی گزرے تھے کہ بیساکھا گھاٹ میں ایک مدرسہ کھلا۔ چنانچہ وہاں پہنچ گئے۔ تین سال میں دس پارہ حفظ کیے۔ اس کے بعد بیلائے ماری مدرسہ میں چھ مہینے رہے، جہاں ان دنوں اس دور کے مشہور مقرر مولانا مسلم سونا پوری صاحب پڑھایا کرتے تھے۔ پھر پوڑا باد جھبو ٹولہ میں چھ مہینہ رہے۔ اس کے بعد سکھاسن اسلام پور گئے، جہاں نابغہء روزگار شخصیت مولانا اسحاق صاحب سلفی رحمہ اللہ سے تین سال خوشہ چینی کی۔ پھر 1950۔51 میں جب مولانا اسحاق سلفی صاحب مدرسہ اصلاحیہ سیماپور آئے، تو ان کے ساتھ سیما پور آ گئے اور یہیں وسطانیہ اور فوقانیہ کیا۔ یہاں مولانا عبد اللطیف صاحب ان کے ساتھی تھے، جو بعد میں اصلاحیہ کے مدرس بنے۔ اس زمانے میں اصلاحیہ کے طلبہ فوقانیہ کے بعد عام طور سے احمدیہ سلفیہ کا رخ کرتے تھے، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ سیمول تولہ مدرسہ چلے گئے۔ ویسے تو سیمول تولہ میں ایک سال رہے، لیکن اسی بیچ دو تین مہینہ راج شاہی مدرسے میں بھی رہ کر آگئے۔
اسی دوران مدرسہ سیماپور میں جلسہ تھا، جس میں عبداللہ پور مدرسے کے صدر مدرس مولانا مصلح الدین صاحب اعظم گڑھی کا خطاب تھا۔ ان کا خطاب اس قدر ولولہ انگیز اور متاثر کن رہا کہ مولانا شمس الدین صاحب نے عبد اللہ پور جانے کا فیصلہ کر لیا۔ یوں مولانا عبداللہ پور پہنچ گئے اور وہاں چار سال رہے۔ ان دنوں مولانا مصلح الدین صاحب اعظم گڑھی اور مولانا احمد اللہ صاحب کی تدریس کی ہر طرف دھوم تھی۔ مولانا مصلح الدین صاحب بہت اچھے مدرس، بہت اچھے خطیب اور بہت اچھے منتظم تھے۔ جب کہ مولانا احمد اللہ صاحب فن حدیث میں ید طولی رکھتے تھے۔ شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی مبارک پوری کے بڑے محبوب شاگرد تھے۔ ان کے علمی مقام کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب جامعہ سلفیہ بنارس کے قیام کے بعد شیخ الحدیث کے باوقار عہدے کو بھرنے کی باری آئی اور ذمے داران نے یہ کام شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی کے کندھوں پر ڈال دیا، تو انھوں نے بڑے غور و خوض کے بعد مولانا احمد اللہ صاحب ہی کا نام پیش کیا اور انھیں بنگال سے لے جاکر اس منصب جلیل پر فائز کیا گیا۔ خیر، مولانا شمس الدین صاحب نے مولانا مصلح الدین صاحب سے بخاری اور مولانا احمد اللہ صاحب سے مسلم پڑھی اور وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے۔ عبداللہ پور کے قیام کے دوران مولانا کا میلان خطابت کی جانب بڑھا۔ مدرسہ کے پاس واقع آم کے باغ میں جاکر مولانا آزاد کی تقریروں کی خوب مشق کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کا میدان خطابت سے بھی رشتہ رہا ہے۔
فراغت کے بعد ایک سال گھر میں ہی رہے اور اس کے تدریسی سلسلہ شروع ہوا، جو لگ بھگ پچاس سال کے طویل عرصے کو محیط ہے۔ اس دوران ہزاروں تشنگان علوم اسلامیہ کو سیراب کیا اور اپنی علمی پختگی کے ساتھ ساتھ باغ و بہار طبیعت کی مہک بکھیرتے رہے۔ اس سنہرے سلسلے کا آغاز موہنا چاند پور مدرسے سے ہوا۔ جہاں لگ بھگ آٹھ سال رہے۔ پھر مدرسہ اصلاحیہ سیماپور آگئے۔ اور تیس بتیس سال کا عرصہ گزار کر یہیں سے ریٹائرمنٹ حاصل کی۔ اس درمیان جو کتابیں زیر تدریس آئیں، ان میں سنن ترمذی، مشکوة المصابیح، بلوغ المرام، نخبةالفکر، ہدایہ، سراجی اور المعلقات السبع وغیرہ شامل ہیں۔ ان کتابوں پر سرسری نظر ڈالنے سے مولانا کے علمی مقام کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد چند سال مدرسہ دارلسلام رحمانیہ بیگم پور میں رہے اور اس کے بعد جامعہ تعلیم القرآن رام گھاٹ پورنیہ سے وابستہ ہوگئے۔ ویسے یہ وابستگی آج بھی برقرار ہے، لیکن پیرانہ سالی کی وجہ سے ذمے داران جامعہ نے تدریسی سرگرمیوں سے آزاد رکھا ہے۔
ابھی مولانا کا گھر رام گھاٹ پورنیہ میں ہے۔ مولانا ابو بکر ہارونی کی حیات و خدمات پر سیمینار کے سلسلے میں میرا اور برادرم نسیم اختر ندوی کا مولانا کے یہاں جانا ہوا۔ مولانا سے ہماری یہ ملاقات اتنی دل کش رہی کہ آدھے گھنٹے کے اندر رمضان کے مہینے میں کشن گنج سے واپسی کی ساری تکان چمپت ہو گئی اور طبیعت نئے جوش و جذبے سے بھر گئی۔
مولانا کو اللہ نے چار بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا ہے۔ بڑے بیٹے مولانا شمیم اختر فیضی صاحب پرائمری اسکول کے استاد اور بنگلہ زبان کے مقرر ہیں۔
میرے والد محترم مولانا نور الاسلام صاحب مولانا کے بڑے محبوب شاگرد رہے ہیں اور ان کا ہمارے یہاں آنا جانا بھی رہا ہے۔ جب پہلی بار ان سے فون پر بات ہوئی اور میں نے انھیں بتایا کہ میں آپ کے شاگرد مولانا نورالاسلام صاحب کا لڑکا ہوں، تو بڑی خوشی کا اظہار کیا اور دعائیں دیں۔
اے اللہ! ایک یادگار قافلے کے اس بچھڑے ہوئے راہی کے سایے کو تا دیر قائم رکھ اور اسے صحت و عافیت کی زندگی عطا فرما، ساتھی ہی ہمیں اس قافلے کے ادھورے چھوڑے ہوئے کاموں کو پورا کرکے اسے سچی خراج عقیدت پیش کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین!

0 comments: