Sunday, 17 May 2020

علاء الدین ندوی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: مسعود شیر شاہ بادی
Image may contain: 1 person, beard
نام: علاء الدین بن منشی بلال حسین بن عبد الرحمن بن کلیم بشواش۔
آپ 1/ جون 1957 میں ساحل گنگا پر واقع گاؤں حاجی جھبوٹولہ میں پیدا ہوئے، جو ضلع کٹیہار کے تھانہ امداباد کے زیر انتظام ہے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے مکتب میں حاصل کی۔ پھر لکھن پور مدرسہ گئے۔ اس کے بعد کافیہ کی خصوصی تعلیم کے لیے مولانا عین الحق فیضی کے پاس بلائ ماری مالدہ، مغربی بنگال گئے، جو اس فن کے امام مانے جاتے تھے۔ اس کے بعد جامعہ اصلاح المسلمین بھادو مالدہ گئے اور وہاں مولانا عبد الستار رحمانی، مولانا محمد حسین سلفی، مولانا حبیب الرحمن، مولانا عبد الرحمن فیضی اور مولانا محمد حسن ریاضی سے رابعہ سے ثامنہ تک کی تعلیم حاصل کی اور 1977 میں فارغ ہوئے۔ پھر اعلی تعلیم کے لیے دار العلوم ندوة العلما لکھنؤ گئے اور مولانا علی میاں ندوی اور مولانا محمد رابع حسنی ندوی وغیرہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ آپ مولانا سعید الرحمن اعظمی کے خاص شاگرد رہے۔ 1979 میں تخصص کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد ندوہ ہی میں ایک سال بطور تدریب ٹیچر کام کیے۔ پھر مدرسہ فلاح المسلمین رائے بریلی میں 1993 تک رہے۔ اس کے بعد جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں میں 1993 سے لے کر 2006 تک رہے اور حدیث، تفسیر، عربی ادب اور نحو و صرف پڑھاتے رہے۔ دو سال کے لیے جامعہ محمدیہ عربیہ، رائیدرگ، آندھراپردیش سے وابستہ ہوئے۔ اور 2008 میں دوبارہ جامعہ محمدیہ منصورہ آ گئے اور 2015 تک شرعی علوم کی تعلیم دیتے رہے۔ آپ نے خود کو عربی ادب کے ماہر استاد کے طور پر متعارف کرایا۔ تدریس کے علاوہ مختلف مضافات میں دعوت و تبلیغ کے کاموں سے دلچسپی لی اور اس میں مصروف رہے۔
تقریر کے ساتھ ساتھ تحریر میں خاصی مہارت تھی۔ جامعہ محمدیہ منصورہ کا ترجمان مجلہ "صوت الحق" میں مسلسل مختلف موضوعات پر مضامین لکھتے رہے۔ اسی طرح مالیگاؤں سے ہی نشر ہونے والے پندرہ روزہ جریدہ "اسلاف" میں بھی مضامین لکھتے رہے۔ آپ کے مضامین کی جمع و ترتیب کے لیے مولانا کے شاگرد مولانا عبدالوہاب مدنی سورتی مصروف ہیں۔ اللہ ان کے کام کو قبول کرے۔
بارعب شخصیت، بسا اوقات جن کے رعب سے طلباء سہمے رہتے تھے۔ اس کے باوجود بہت ہی خوش مزاج، اور مربیانہ صلاحیتوں حامل تھے۔ حق گو اور بے باکی ان کا خاص وصف تھا۔ عموما مجلس میں جب بولتے تو خاموشی چھا جاتی۔ جہاں غلطیوں پر سرزنش اور سزا دیتے وہیں طلباء کے اچھے کاموں پر ان کی بہترین حوصلہ افزائی بھی کرتے۔ وہ حقیقی طور پر ہی روحانی والد تھے۔
ان کے شوق میں مطالعہ سر فہرست تھا۔ کھیل میں والی بال سے بہت دل چسپی تھی۔ اور مچھلی کا شکار کھیلنا بہت پسند کرتے تھے۔
آپ کا آبائی وطن حاجی جھبوٹولہ تھا، لیکن ہر سال سیلاب کی تباہی کے پیش نظر ان کے والد محترم حاجی جھبوٹولہ سے 90 کی دہائی میں مہیار پور منتقل ہو گئے تھے۔ چوں کہ مالیگاؤں میں ایک طویل عرصہ رہے، اور آخری عمر تک ان کی اولاد منصورہ مالیگاؤں میں تعلیم سے منسلک رہی اس لیے وہ مالیگاؤں ہی میں عارضی طور پر رہ رہے تھے۔
آپ سے فیض حاصل کرنے والے طلبہ و تلامذہ کی تعداد بہت ہے، لیکن چند کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رحمت اللہ سلفی، ڈاکٹر امان اللہ مدنی، شیخ ثناء اللہ مدنی، ڈاکٹر محمد وسیم مدنی، شیخ محمد ابراہیم مدنی، شیخ متعلم مدنی اور مسعود شیرشاہ بادی وغیرہ۔ آپ کے ہم درس ساتھیوں میں مولانا بدر الدجی ندوی، مولانا ظل الرحمن مدنی اور مولانا محمد ابراہیم سلفی کا نام آتا ہے۔
علم و عرفان کا یہ سمندر 6 مئی 2020 بروز بدھ طویل علالت کے بعد اس دار فانی سے رمضان المبارک کے مہینے میں مالیگاؤں میں ہی اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ اور شہر کے سمکسکیر قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی۔ نماز جنازہ ان کے دوست مولانا عبد الوحید ندوی نے پڑھائی۔ اللہ استاذ محترم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، اور ان کی بشری لغزشوں کو معاف فرمائے۔
مولانا کے 6 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں۔ اور الحمد للہ تمام ہی علم دین سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔

0 comments: