Sunday, 17 May 2020

ساحل گنگا پہ چمکتے ستارے

تحریر: ڈاکٹر رحمت اللہ سلفی، کٹیہار
(یہ در اصل سلفی صاحب کا تحریر کردہ ایک بیش قیمت مقالہ ہے، جو "مولانا ابو بکر ہارونی-حیات و خدمات" کے عنوان سے، 17/ جون 2018 کو، ستکار ہوٹل کٹیہار میں منعقد ہونے والے سیمینار میں پڑھا گیا تھا۔ اس مقالے میں گنگا کے ساحل پر واقع کٹیہار ضلع کی مختلف بستیوں؛ گواگاچھی، گارد ٹولہ، بید ناتھ پور، تیلوکی ڈانڑا، حاجی جھبو ٹولہ، صوبے دار ٹولہ، یوسف ٹولہ اور ببلابنہ کی علمی شخصیات کا مختصر تعارف کرایا گیا ہے۔ ویسے، یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ یہ علاقہ کٹیہار کی علمی سرگرمیوں کا مرکز و محور رہا ہے۔ کٹیہار کے زیادہ تر علما کا خمیر اسی مٹی سے اتھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقالے میں مولانا ابو بکر ہارونی، مولانا عطاء الرحمن مدنی، مفتی ادریس صاحب، مولانا سعید الرحمن شمسی، مولانا عبد المنان صاحب (جو بعد میں سکریلی میں سکونت پذیر ہو گئے تھے)، مولانا تمیز الدین صاحب (جو بعد میں باورا میں سکونت پذیر ہو گئے تھے)، مولانا محمد سعید ندوی، مولانا علاء الدین ندوی، مولانا انعام الحق مدنی، ڈاکٹر رحمت اللہ سلفی اور مولانا مشتاق احمد کریمی صاحب سمیت دو درجن سے زائد علما کا مختصر ذکر موجود ہے۔ اس مقالے کی اہمیت کے پیش نظر، اسے، سلفی صاحب کے شکریے کے ساتھ ہدیہء ناظرین کیا جا رہا ہے۔ مشتاق احمد ندوی)
جنوبی کٹیہار (امدہ باد و منیہاری) کا وہ علاقہ جو گنگا ندی سے متصل ہے، ہر سال سیلاب سے تباہ و برباد ہوتا ہے۔ کتنی قدیم بستیاں تاریخ کا حصہ ہو گئیں، جیسے گواگاچھی، گارد ٹولہ، بسنت پور، بیدناتھ پور اور کتنی لب گنگا ہچکولے کھا رہی ہیں، جیسے یوسف ٹولہ، حاجی جھبو ٹولہ، تیلوکی ڈانڑا، صوبے دار ٹولہ اور ببلا بنہ وغیرہ۔ لیکن ایسے بدحال و خستہ حال اور سیلاب سے متاثر بستیوں نے علم و فن کے ایسے لعل و گہر پیدا کیے، جنھوں نے اپنے فکر و فن، ادب و ثقافت، تعلیم و تربیت، دعوت و تبلیغ، درس و تدریس اور افتا و قضا کے ذریعے ہندوستانی سماج میں اپنی چھاپ چھوڑی اور اس کوردہ علاقے میں بود وباش ہونے کے باوجود علمی دنیا میں سلطنت قائم کی، بالخصوص سیمانچل کے اضلاع (کٹیہار، پورنیہ، ارریہ، سپول اور کشن گنج) میں علم و حکمت اور تعلیم و تعلم کا ایسا ماحول قائم کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی اور کہنے پر مجبور ہو گئی کہ کٹیہار ضلع کا مردم خیز خطہ ساحل گنگا ہی ہے، جہاں علمی دنیا کے آفتاب و ماہتاب نکلے اور علمی کاوشوں اور دعوتی کارناموں اور تصنیفی و رفاہی خدمات کے ذریعے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچایا۔ ذیل ہم میں ان مایہء ناز علمی شخصیات کے خدمات کا سرسری جائزہ لیں گے، جو دنیا سے رخصت ہو گئی ہیں۔ اسی طرح ان عظیم شخصیات اور ہستیوں کا بھی، جو مختلف وسائل و ذرائع کے ذریعے علمی جوت جگائی ہوئی ہیں اور علمی و دعوتی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
گوا گاچھی:-
اس گاؤں میں پیدا ہونے والے علماء کرام میں سب سے نمایاں نام حضرت مولانا ابو بکر ہارونی صاحب رحمہ اللہ کا ہے، جن کے بارے میں آج بتاریخ 17/ جون 2018 ایک علمی اور تاریخی سیمینار منعقد ہو رہا ہے۔ مولانا کے حیات و خدمات اور مساعی جمیلہ پر مخلتف مقالے اور نگارشات پیش کیے جائیں گے، جن سے معلوم ہوگا کہ آپ ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے، جنھوں نے مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی میں کبار اساتذہ سے استفادہ کر کے علاقے میں علم کی روشنی پھیلائی اور زندگی کو تعلیم و تدریس، دعوت و تبلیغ اور افتا و قضا میں وقف کر دیا اور مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کو مرکزی و مثالی دانش گاہ بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ آپ کا خلوص ہی تھا کہ آپ کے فیض یافتگان چندے آفتاب و چندے ماہ تاب بن کر نکلے اور دینی و عصری علوم میں نمایاں کامیابی حاصل کی، جو ان کے بے لوث خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے آج یہاں جمع ہیں۔
دوسری نمایاں شخصیت شیخ عطاء الرحمن بن داؤد حسین مدنی حفظہ اللہ کی ہے، جو اس گاؤں میں 1938 کو پیدا ہوئے اور گاؤں کے مکتب میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ اصلاحیہ سیماپور، پھر مظہر العلوم بٹنہ مالدہ، پھر جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو یوپی تشریف لے گئے۔ اس بیچ آپ نے مولانا ابو بکر ہارونی، مولانا ابو بکر رحمانی، مولانا محمد مسلم رحمانی، مولانا جمال الدین رحمانی، مولانا مصلح الدین جیراج پوری اور عبد الغفور بسکوہری سے علم حاصل کیا، لیکن آپ کو حصول تعلیم میں بڑی مشکلات در پیش ہوئیں۔ بہر حال زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اور مصائب کو برداشت کرتے ہوئے سمندر میں چھلانگ لگائی اور 1956 میں مکہ دار الحدیث میں داخلہ لیا۔ پھر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی بنیاد پڑی تو اس میں داخل ہوئے اور لیسانس (B.A) کی تعلیم مکمل کی۔ مدینہ سے فراغت کے بعد دس سال نائجیریا میں داعی و مبلغ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ پھر وہاں سے واپس آکر دہلی کو اپنا مستقر بنایا اور شیخ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ کے ساتھ مل کر معہد عثمان بن عفان، معہد التعلیم الاسلامی اور جامعہ اسلامیہ سنابل کی بنیاد ڈالی۔ دہلی میں رہتے ہوئے تین سال مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی رہے اور لمبے عرصے تک مفتی عام بھی رہے۔ آپ نے تقریبا پینتالیس کتابیں لکھیں، جن میں سے چار کتابیں انگریزی میں ہیں۔ 'سمندر میں چھلانگ' آپ کی خود نوشت سوانح ہے۔ اس وقت کشن گنج میں مقیم ہیں اور پیرانہ سالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
تیسری عظیم شخصیت مولانا تمیز الدین رحمہ اللہ کی ہے، جو 1/ جنوری 1929 کو پیدا ہوئے۔ گاؤں کے مکتب میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ اصلاحیہ سیماپور گئے، پھر دار العلوم دیوبند گئے، لیکن 1955-56 میں مولانا کی زندگی میں ایک درد ناک و افسوس ناک واقعہ پیش آ گیا۔ ہوا یہ کہ دیوبند میں اہل حدیث طلبہ اپنے مسلک کو چھپاکر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ دراصل ایسا کرنے پر وہ مجبور تھے۔ دوران سال ایک طالب علم (اختر عالم) نے، جو اہل حدیث تھا، حق گوئی اور بے باکی کا مظاہرہ کیا کہ ہمارا مسلک جب حق ہے، تو ہم چھپ چھپاکر کیوں رہیں؟ شریعت میں مداہنت بالکل درست نہیں ہے! لیکن ان کی حق گوئی ارباب دیوبند کو بالکل اچھی نہ لگی۔ (چنانچہ لگ بھگ ساٹھ طلبہ کو، جن کے بارے میں پتہ چلا کہ اہل حدیث ہیں، مدرسے سے نکال دیا گیا)۔ چنانچہ مولانا تمیز الدین صاحب جو مولانا اختر عالم صاحب کی طرح بے باک نہیں تھے، تفتیش کے بعد ان کو بھی ادارہ سے نکال دیا گیا۔ مولانا وہاں سے گھر آئے اور پھر گھر سے جامعہ اسلامیہ عبد اللہ پور جھارکھنڈ تشریف لے گئے اور وہیں سے فارغ بھی ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا نے تدریسی زندگی میں قدم رکھا اور بہار و بنگال کے مختلف مدارس و جامعات میں تدریسی فریضہ انجام دیتے رہے۔ مدرسہ دار الحدیث گوا گاچھی کٹیہار، مدرسہ سراج الاسلام بھولا ماری کٹیہار، مدرسہ منبع العلوم خان پور مالدہ، معہد التعلیم الاسلامی شری پور مالدہ، مدرسہ مظہر العلوم بٹنہ، مدرسہ ہری پور مالدہ اور مدرسہ مفتاح العلوم بلوا گھاٹ مالدہ کے طلبہ کو فیض پہنچاتے رہے۔ مولانا کی تدریسی زندگی چالیس پچاس سال پر محیط ہے۔ آپ ایک کام یاب مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ سحر بیاں خطیب بھی تھے۔ خطبہء جمعہ کے علاوہ جلسے جلوس میں بحیثیت مقرر شریک ہوتے۔ آپ چوں کہ گوا گاچھی سے باورا، کوڑھا منتقل ہو گئے تھے، اس لیے وفات 6/ ستمبر 2013 کو باورا ہی میں ہوئی۔
چوتھی عظیم شخصیت مولانا اختر عالم بن مولانا شمس الدین کی ہے، جو گوا گاچھی بسنت پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب اور پرائمری اسکول میں لی۔ پھر احمدیہ سلفیہ دربھنگہ گئے اور ایک سال رہے۔ اس کے بعد آم تولہ مرشد آباد گئے۔ وہاں سے عبد اللہ پور گئے اور پانچ سال رہ کر فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد 1955 میں دار العلوم دیوبند گئے۔ لیکن آپ کی حق گوئی و بے باکی کی وجہ سے لگ بھگ ساٹھ طلبہ کے اخراج کا وہ اندوہ ناک واقعہ پیش آگیا، جس کا ذکر پیچھے آ چکا ہے۔ آپ کو کچھ طلبہ نے سمجھانے کی بھی کوشش کی تھی کہ یہ انداز صحیح نہیں ہے، اس سے ہماری تعلیم متاثر ہو سکتی ہے، لیکن انھوں نے برملا اس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ حق حق ہے۔ اس کا اظہار کر کے رہیں گے۔ چنانچہ آپ کے ساتھ مولانا تمیز الدین باورا، مولانا محمد سعید ندوی، سابق پرنسپل مدرسہ اصلاحیہ سیماپور اور استاد گرامی قدر قاری عبد الرحمن فیضی کاربونا ٹال، مالدہ بھی نکال دیے گئے تھے۔
اس کے بعد مولانا اختر عالم صاحب ریاض العلوم دہلی چلے گئے اور ایک سال رہ کر سند فراغت حاصل کی۔ آپ کے اہم اساتذہ میں مولانا مصلح الدین اعظمی اور مولانا عبد السلام بستوی وغیرہ شامل ہیں۔
فراغت کے بعد مولانا نے چھرا ماری میں تدریسی عمل شروع کیا۔ اس کے بعد مدرسہ دار الھدی منوہر، منشاہی آ گئے۔ یہاں 1977 سے 1994 تک رہے اور یہیں سے ریٹائر بھی ہوئے۔ چوں کہ آپ بھی اور علما کی طرح سیلاب کی تباہ کاری سے متاثر ہوکر چرخی منتقل ہو گئے تھے، اس لیے چرخی ہی میں 2017 کو وفات پائی۔
پانچویں بڑی شخصیت مولانا عبد المنان بن حاجی مسلم ملا بن حاجی اسحاق بن حاجی یار محمد کی ہے۔ 1928 کے آس پاس بسنت پور گوا گاچھی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاصل کی۔ پھر کشن پور اسکول آمدہ باد میں کچھ دن رہے۔ اس کے بعد اسلامیہ ہائی اسکول کٹیہار میں میٹرک تک کی تعلیم حاصل کی۔ پھر والد کے حکم سے مدرسہ اصلاحیہ سیماپور اور وہاں سے مدرسہ مظہر العلوم بٹنہ، مالدہ گئے، جہاں مولانا مسلم رحمانی طالبان علوم نبویہ کو فیض پہنچا رہے تھے۔ وہاں اکتساب علم کے بعد مدرسہ اسلامیہ سلفیہ عبد اللہ پور، جھارکھنڈ گئے اور فراغت تک کی تعلیم مکمل کی۔ بعد ازاں کلکتہ سے فاضل پاس کیا۔ آپ نے مولانا مسلم رحمانی کے علاوہ مولانا مصلح الدین اعظمی، مولانا احمد اللہ اور مولانا شمس الحق سلفی سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ واضح رہے کہ مولانا مصلح الدین اعظمی اور مولانا شمس الحق سلفی کا ان سات نمایاں عبقری شخصیات میں شمار ہوتا تھا، جن کو دار العلوم احمدیہ سلفیہ کی طرف سے 'سبعہ سیارہ' کا لقب ملا تھا۔
مولانا عبد المنان صاحب نے فراغت کے بعد تدریسی میدان میں قدم رکھا اور سب سے پہلے مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ بانس گاڑا، تشریف لے گئے اور یہاں دس سال تک تدریسی فریضہ انجام دیتے رہے۔ پھر مدرسہ تنظیم المسلمین تین پانیہ منتقل ہو گئے اور یہاں نو سال تک طلبہ کو فیض پہنچاتے رہے اور بحیثیت صدر مدرس خوب سے خوب تر کرنے کی کوشش کی۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب مدرسہ اصلاحیہ سیماپور، مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ، مدرسہ فیض الغربا دھوم گڑھ اور مدرسہ تنظیم الاسلام تین پانیہ میں علمی ماحول خوب جما ہوا تھا اور طلبہ کی جم غفیر ہوا کرتی تھی۔ یہاں سے مولانا پھر چتوریہ مدرسہ واپس آ گئے، جو بعد میں مدرسہ بورڈ سے ملحق بھی ہو گیا، لیکن پہلے جیسی تعلیمی گہما گہمی نہ رہی۔ پھر بھی مولانا صبر و تحمل کے ساتھ ڈٹے رہے اور 2010 میں ریٹائر ہوئے۔ آپ کے نمایاں شاگردوں میں مولانا عبد القیوم باورا، مولانا حضرت علی باورا، مولانا محمد زبیر چرخی اور مولانا احمد اللہ چرخی وغیرہ شامل ہیں۔
مولانا عبد المنان صاحب کو فن تفسیر اور ادب سے خاص لگاؤ تھا۔ عربی ادب کا اچھا ذوق رکھتے تھے۔ انگریزی، سائنس، حساب اور جغرافیہ کی بھی جان کاری رکھتے تھے اور یہی چیز ان کو اوروں سے ممتاز کرتی تھی۔ آپ جلسے جلوس میں شرکت کرتے اور خطاب بھی کرتے تھے، لیکن ان کا صدارتی خطاب نہایت فاضلانہ ہوا کرتا تھا۔ چوں کہ آپ کا خاندان بہت پہلے یعنی 1945 میں سکریلی، سیماپور آ گیا تھا، اس لیے آپ لمبے وقت تک سکریلی گاؤں کے امام و خطیب رہے۔ اس کے علاوہ مدرسہ اصلاحیہ سیماپور عید گاہ کے امام بھی رہے، جو لوگوں میں آپ کی مقبولیت کی دلیل ہے۔
مولانا کے تین بیٹے ہیں اور تینوں گریجویٹ ہیں۔ آپ نے تعلیم و تعلم سے بھر پور زندگی گزارنے کے بعد 9/ مارچ 2013 کو وفات پائی۔
اس گاؤں کی ایک نمایاں شخصیت مولانا عبد القدوس صاحب تھے، جو گاؤں کے امام و خطیب تھے اور دار الحدیث گوا گاچھی میں درس دیتے تھے۔ ان سے مولانا محمد اسرائیل سلفی، مولانا محمد زبیر، مولانا احمد اللہ نور اللہ مرکزی اور حبیب الرحمن دلی پور نے تعلیم حاصل کی۔ تاریخ وفات نہیں معلوم ہو سکی۔
ان کے علاوہ اور بھی عظیم دینی شخصیات ہیں، جو اس وقت تعلیم و تعلم اور دعوت و تبلیغ میں مصروف ہیں۔ ذیل میں اختصار کے ساتھ ان کا بایو ڈاٹا پیش کیا جاتا ہے:
1۔ مولانا منصور عالم بن داؤد حسین مدنی۔ ولادت 31/ دسمبر 1962۔ گاؤں کے مکتب میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ رحمانیہ بنارس گئے۔ وہاں سے 1976 میں مولوی کی ڈگری لی۔ پھر اس کے بعد جامعہ سلفیہ بنارس منتقل ہو گئے اور 1977 سے 1983 تک رہ کر عالمیت و فضیلت کی ڈگری لی۔ پھر 1884 میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ گئے اور 1988 میں لیسانس کی ڈگری لی۔ مدینہ سے واپس آکر باورا میں جہاں آپ منتقل ہو گئے تھے، معہد التعلیم الاسلامی کے نام سے ایک ادارے کی 1988 میں بنیاد ڈالی۔ ان کے اہم اساتذہ میں مولانا عزیز احمد ندوی، مولانا صفی الرحمن مبارک پوری اور مولانا عبد الوحید رحمانی وغیرہ شامل ہیں۔
2۔ مولانا عبید الرحمن بن تمیز الدین ندوی۔ ولادت 21/ نومبر 1963۔ ابتدائیہ گاؤں کے مکتب میں، متوسطہ مدرسہ منبع العلوم خان پور مالدہ اور عالمیت و فضیلت دار العلوم ندوة العلما لکھنؤ میں۔ فراغت 1990۔
فراغت کے بعد تدریس شروع کی۔ تین سال دار الحدیث دامائی پور مالدہ، اس کے بعد چھ سال جامعہ سبل السلام گاجول مالدہ، پھر 1999 سے مدرسہ نور الھدی منجھیلی پورنیہ میں معاون مدرس کی حیثیت سے کام کیا اور 2016 سے صدر مدرسی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ باورا (حال مقیم) میں امامت و خطابت کی ذمے داری بھی نبھا رہے ہیں۔ اہم اساتذہ میں مولانا سعید الرحمن اعظمی، مولانا سید سلمان ندوی، مولانا محمد عارف سنبھلی، مولانا برہان الدین سنبھلی اور مولانا نور عظیم ندوی وغیرہ شامل ہیں۔
3۔ مولانا مشتاق احمد کریمی۔ ولادت 1964۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں، پھر مدرسہ دار الھدی بید ناتھ پور، پھر ببلا بنہ، اس کے بعد مدرسہ نور الھدی منجھیلی میں حاصل کی اور اس کے بعد جامعہ سلفیہ بنارس سے عالمیت اور فضیلت کی۔ فراغت 1985۔ اساتذہ میں مولانا محمد رئیس ندوی، مولانا مقتدی حسن ازہری، مولانا صفی الرحمن مبارک پوری، مولانا عابد رحمانی اور مولانا عبد الوحید رحمانی شامل ہیں۔
فراغت کے بعد تدریسی ذمے داری جامعہ اصلاح المسلمین بھادو مالدہ اور پھر جامعہ اسلامیہ سنابل دہلی میں نبھائی۔ پھر 1992 میں توعية الجالیات سعودیہ عربیہ میں ملازمت اختیار کر لی۔ 1996 میں جامعہ حفصہ بنت عمر کی بنیاد ڈالی اور اسے الھلال ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیر اشراف رکھا، جس کے خود بانی ہیں۔ مولانا نے کئی کتابوں کا ترجمہ کیا ہے۔ حافظ بن احمد حکمی کی کتاب 'أعلام السنة المنشورة' کا ترجمہ 'صحیح اسلامی عقیدہ' کے نام سے کیا۔ اسی طرح صالح المنجد کی کئی کتابوں کا ترجمہ کیا۔ آپ ایک اچھے صحافی و قلم کار بھی ہیں، جو مختلف جرائد و مجلات میں مضامین پیش کرتے رہتے ہیں۔ آپ گوا گاچھی سے بدھو چوک کٹیہار منتقل ہو چکے ہیں اور یہیں مقیم ہیں۔
4۔ مولانا عبد اللہ اثری بن کوید علی۔ ولادت 1965۔ تعلیم گاؤں کے مکتب میں، پھر ادنی الف سے ثانیہ تک مدرسہ منبع العلوم خان پور،مالدہ میں، پھر ثالثہ سے دورہ حدیث تک مدرسہ اصلاح المسلمین بھادو مالدہ میں، پھر اعلی تعلیم جامعہ دار السلام عمر آباد میں (عالمیت) اور 1985 میں فضیلت جامعہ اثریہ دار الحدیث مئو سے۔
فراغت کے بعد تدریس کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1986 میں جامعہ اسلامیہ قاضی پورہ بھدوہی بنارس ایک سال رہے۔ 1987 سے 1996 تک مدرسہ مفتاح العلوم بلوا گھاٹ مالدہ میں رہے، پھر سترہ سال مدرسہ دار العلوم مجیدیہ رنگائی پور مالدہ میں بحیثیت صدر مدرس رہے۔ فی الحال چار سال سے دار العلوم ٹال بنگروا مالدہ میں صحیح بخاری کا درس دے رہے ہیں۔ آپ اپنے قدیم گاؤں ہی میں مقیم ہیں۔
اساتذہ کرام: مولانا ابو البیان حماد عمری، شیخ الحدیث ظہیر الدین رحمانی مبارک پوری، مولانا محمد احمد بستوی، مولانا عبد العزیز عمری، مولانا عبد الستار رحمانی اور مولانا محمد حسین سلفی وغیرھم۔
ان کے علاوہ اس گاؤں کے اہم علما میں مولانا محمد ابراہیم صاحب اور ان کے فرزند مولانا عبد الخالق صاحب مدنی شامل ہیں۔ مولانا عبد الخالق صاحب ابھی مدرسہ مفتاح العلوم بھیڑ مارا میں پڑھا رہے ہیں۔ جامعہ سلفیہ بنارس کے فارغ التحصیل ہیں۔ فراغت کے بعد کچھ دن مدرسہ مظہر العلوم بٹنہ میں پڑھائے پھر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ گئے اور لیسانس کی ڈگری لی۔ واپسی کے بعد تدریس سے مسلسل جڑے ہوئے ہیں اور گاؤں میں امامت بھی کرتے ہیں۔
گارد ٹولہ:-
اس گاؤں کی سب سے نمایاں شخصیت اور علمی و ادبی ہستی مولانا محمد سعید ندوی بن زکاة اللہ کی ہے، جن کی ولادت 1941 میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول میں لینے کے بعد مدرسہ کا رخ کیا۔ سب سے پہلے مدرسہ اصلاحیہ سیماپور (1948 میں) گئے اور وہاں شیخ عطاء الرحمن مدنی کے ہم درس ہو ئے۔ پھر جامعہ اسلامیہ سلفیہ عبد اللہ پور گئے۔ پھر وہاں سے دار العلوم دیوبند گئے اور ازھار العرب و کنز الدقائق جیسی کتابیں پڑھیں۔ لیکن وہاں تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔ کیوں وہاں اہل حدیث طلبہ کے اخراج کا جو حادثہ پیش آیا تھا، اس کی چپیٹ میں آپ بھی آ گئے۔ اس کے بعد آپ جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو تشریف لے گئے اور چوتھی جماعت میں داخلہ لیا۔ یہاں بھی شیخ عطاء الرحمن مدنی آپ کے ہم سبق رہے۔ پھر وہاں سے مولانا مصلح الدین جیراج پوری اعظمی کے ساتھ عبد اللہ پور جھارکھنڈ آ گئےاور یہیں سے فارغ ہو ئے۔ فراغت کے بعد تعلیمی سلسلہ موقوف نہیں کیا۔ دار العلوم ندوة العلما لکھنئو میں تخصص میں داخلہ لیا اور تین سال رہ کر رسمی تعلیم مکمل کی۔
اس مدت میں آپ نے جن اساتذہ سے اکتساب فیض کیا، ان میں نمایاں نام مولانا ابو بکر ہارونی، مولانا مصلح الدین اعظمی، مولانا احمد اللہ رحمانی، مفتی حبیب الرحمن فیضی، مولانا محمد رابع حسنی ندوی، مولانا عبد الحفیظ بلیاوی اور مولانا عبد الماجد ندوی وغیرہ ہیں۔
تعلیم مکمل کرنے کے فورا بعد تدریس سے جڑ گئے اور مدرسہ دار الھدی بید ناتھ پور سے اس کی شروعات کی۔ ایک سال کے بعد مدرسہ مظہر العلوم بٹنہ گئے اور وہاں نہایت آب و تاب کے ساتھ دس سال رہے۔ وہاں آپ سے مولانا عبد المتین سلفی رحمہ اللہ نے شرف تلمذ حاصل کیا۔ وہاں سے مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ آئے، جہاں آپ پورے خاندان کے ساتھ نقل مکانی کرکے گوا گاچھی سے آ گئے تھے۔ لیکن یہاں 1975 تک ہی رہے۔ پھر یہاں سے نقل مکانی کرکے کھورا گاچھ ارریہ چلے گئے۔ 1976 میں مدرسہ دار الھدی کھورا گاچھ کی بنیاد رکھی۔ اسی درمیان 1978 میں مدرسہ اصلاحیہ سیماپور میں بحیثیت صدر مدرس بحال ہو گئے۔ 2003 تک یہیں کام کرتے رہے۔ اصلاحیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد تین سال جامعہ عائشہ للبنات کشن گنج کے پرنسپل رہے۔ پھر 2016 تک جامعةالامام بخاری کشن گنج میں تدریسی ذمے داری سنبھالتے رہے۔ ابھی آپ گھر میں مقیم ہیں۔
مولانا ضلعی جمعیت اہل حدیث کٹیہار کے ناظم پھر امیر رہے۔ یہ 1991 کی بات ہے۔ آپ ہی کی امارت میں توحید و سنت کانفرنس 2001 میں ہوئی، جو ایک تاریخی اور کامیاب کانفرنس ثابت ہوئی تھی۔
آپ ایک کامیاب، با وقار و با رعب مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے مترجم بھی ہیں۔ کئی عربی کتابوں کا ترجمہ کیا ہے۔ اللہ آپ کو صحت و عافیت کے ساتھ رکھے۔
اس گاؤں کی نمایاں شخصیات میں مولانا محمد افضل حسین، مولانا محمد اسحاق بن عبد الحکیم، مولانا محمد ایوب صاحب، مولانا محمد عابد حسین، مولانا فضل ربی اور مولانا لعل محمد وغیرہ بھی شامل ہیں۔ مولانا محمد ایوب اور مولانا محمد اسحاق وفات پا چکے ہیں۔ ان کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہ ہو سکی۔ بس اتنا پتہ چل سکا کہ مولانا ایوب صاحب فارسی کے بہترین استاد تھے۔ وہ دار الحدیث گوا گاچھی میں، پھر مدرسہ ریاض العلوم جھبو ٹولہ میں تدریسی فریضہ انجام دے چکے ہیں۔ مولانا محمد اسحاق گارد ٹولہ سے نقل مکانی کرکے گونج منشاہی میں منتقل ہو گئے تھے۔ ان دونوں کی تعلیم کہاں ہوئی، کتنی ہوئی، ان سب کی تفصیل نہ مل سکی۔ اسی طرح مولانا عابد حسین گارد ٹولہ سے کٹھوتیہ جگدیش پور منتقل ہو گئے۔ وہیں سرکاری ملازم ہیں اور لعل محمد صاحب گاؤں ہی میں سرکاری ملازم ہیں۔
جہاں تک مولانا افضل حسین بن محمد اسماعیل کی بات ہے، تو آپ 1/ دسمبر 1948 کو پیدا ہوئے۔ گاؤں کے مکتب میں تعلیم حاصل کرنے کے مدرسہ مظہر العلوم بٹنہ سے فارغ ہوئے۔ وہیں عالم، فاضل اور 1962 میں ایم ایم کیا۔ وہاں جن اساتذہ سے اکتساب کیا، ان میں مولانا محمد مسلم رحمانی، مولانا عابد حسن رحمانی اور مولانا عبد التواب کسیلی نمایاں ہیں۔ وہاں سے شمس الھدی دلال پور جھارکھنڈ گئے اور مولانا عبد الحنان صاحب سے کسب فیض کیا۔ فراغت کے بعد مدرسہ ممتازیہ مٹنہ میں دس سال تدریسی فریضہ انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد مدرسہ نجم الھدی گارد ٹولہ میں 1972 میں بحیثیت پرنسپل بحال ہو گئے اور 2010 میں ریٹائر ہوئے۔ آپ گاؤں کے امام و خطیب ہیں۔
بید ناتھ پور:-
ساحل گنگا پر گوا گاچھی و گارد ٹولہ کے بعد سب سے زیادہ سیلاب سے تباہ و برباد ہونے والی بستیوں میں سے ہے۔ لیکن یہاں بھی علما و فضلا کی بڑی تعداد نظر آتی ہے۔ مولانا محمد اسرائیل سلفی صاحب، مولانا انعام الحق مدنی صاحب، مولانا فیض الدین صاحب، مولانا محمد ارشاد عالم صاحب، مولانا محمد سہراب علی صاحب، مولانا محمد ابراہیم فیضی صاحب، مولانا علاء الدین صاحب، مولانا عبد الحکیم صاحب، مولانا محمد سراج الدین صاحب، مولانا کلیم الدین صاحب، مولانا و ڈاکٹر عبد القدوس صاحب ندوی، مولانا سیف الدین روحانی صاحب، مولانا محمد اسحاق صاحب، مولانا محمد اکمل حسین سلفی اور مولانا عطاء الرحمن، یہ سارے لوگ اسی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ذیل میں ان میں سے چند کا قدرے تفصیل سے ذکر کیا جاتا ہے:
1۔ مولانا عبد الحکیم بن مقصود علی بن ضیاء الدین۔
آپ 1942 کو بید ناتھ پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے ایک مکتب میں مولانا محمد الیاس چمپارنوی سے حاصل کی۔ وہاں آپ کے ہم سبق ڈاکٹر محمد لقمان سلفی مؤسس جامعہ ابن تیمیہ تھے۔ یہی مکتب 1951 میں مدرسہ دار الھدی بنا۔ یہاں مسلسل خامسہ تک کی تعلیم حاصل کی۔ پھر مدرسہ مصباح العلوم سکھاسن میں دو سال رہے اور جید عالم دین مولانا محمد اسحاق سلفی رحمہ اللہ سے استفادہ کیا۔ پھر 1962 میں دورہ حدیث کے لیے مدرسہ اسلامیہ سلفیہ عبد اللہ پور جھارکھنڈ گئے اور وہاں مولانا مصلح الدین اعظمی اور مولانا شمس الحق سلفی سے دستار فضیلت لی۔ پھر 1963 کو جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو تشریف لے گئے اور 1964 میں فارغ ہوئے۔ یہاں مولانا ابو عبیدہ بنارسی، مولانا صفی الرحمن مبارک پوری اور مولانا حبیب الرحمن فیضی سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ فراغت کے بعد مدرسہ مصباح العلوم سکھاسن میں تدریس کا کام شروع کیا۔ اس وقت وہاں مولانا محمد اسحاق سلفی صدر مدرس تھے۔ پھر 1966 میں مدرسہ دار الھدی چھرا ماری آئے اور 1971 تک رہے۔ پھر بیچ میں دربھنگہ و دلی سے طب کی تعلیم حاصل کی اور پریکٹس شروع کر دی۔ لیکن دل مطمئن نہیں تھا، اس لیے تدریس سے جڑ گئے۔ 1975 سے 1979 تک دیناج پور بنگال میں چار سال مدرس رہے۔ پھر مدرسہ وارث العلوم مایا ماری امدہ باد میں 1980 میں سرکاری ملازم ہوئے۔ 1997 میں صدر مدرس ہوئے۔ مدرسہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد گھر میں ہی رہتے ہیں۔ علاقے میں آپ نے تعلیم و تعلم کا ماحول قائم کرنے کی بڑی کوشش کی۔ مدرسہ نظام العلوم بلوا کی تاسیس و تعمیر میں آپ کا بھر پور تعاون رہا۔ آپ کے تمام لڑکے تعلیم یافتہ ہیں۔
2۔ مولانا محمد ارشاد بن ہشیم الدین بن عین الدین۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسہ بید ناتھ پور میں حاصل کی۔ پھر مدرسہ شمس الھدی دلال پور جھارکھنڈ گئے اور وہیں سے 1961 میں فارغ ہوئے۔ یہاں آپ نے مولانا عبد الحنان صاحب دلال پوری اور مولانا احمد اللہ رحمانی سے علوم شرعیہ کی تکمیل کی۔ فراغت کے بعد آپ مدرسہ دار الھدی امدہ باد میں مدرس ہو گئے اور وہیں سے ریٹائر ہوکر گھر میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مولانا نیک صفت، خوش مزاج و ملنسار آدمی ہیں اور سنجیدہ زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں۔ تڑک بھڑک پسند نہیں کرتے۔ جلسوں کی صدارت فرماتے ہیں اور سماج کی اصلاح میں کوشاں رہتے ہیں۔
3۔ مولانا محمد سہراب علی صاحب کی تاریخ ولادت معلوم نہ ہو سکی۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسہ دار الھدی میں حاصل کی۔ پھر مدرسہ مصباح العلوم سکھاسن گئے اور جید علما سے استفادہ کیا۔ پھر مدرسہ اسلامیہ سلفیہ عبد اللہ پور جھارکھنڈ میں تیسری جماعت میں داخلہ لیا اور 1968 میں فارغ ہوئے۔ یہاں مولانا مصلح الدین اعظمی اور مولانا شمس الحق سلفی سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ وہاں سے جامعہ مظہر العلوم بٹنہ گئے اور عالم، فاضل و ایم ایم کی ڈگریاں لیں۔ یہاں جن اساتذہ سے اکتساب فیض کیا ان میں مولانا ابو الفضل ندوی، مولانا مسلم رحمانی، مولانا عبد القیوم صاحب اور مولانا عبد الوہاب رحمانی نمایاں ہیں۔ 1973 میں فراغت کے بعد وہیں تدریس شروع کر دی اور 2008 میں ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی انتقال کر گئے۔ آپ ایک با صلاحیت استاد اور اردو کے بہترین خطیب تھے۔ وید کی معلومات بھی تھی، جس کا مظاہرہ جلسہ جلوس میں کیا کرتے تھے۔
4۔ مولانا محمد سراج الدین بن حاجی ولایت علی بن حاجی ضیاء الدین۔
تاریخ پیدائش 1/ دسمبر 1944۔ ابتدائی تعلیم مکتب میں، پھر مظہر ببلا بنہ میں ایک سال، اس کے بعد مدرسہ کٹھوتیہ بیدناتھ پور میں ایک سال رہے، اس کے بعد مدرسہ دار الھدی بید ناتھ پور میں خامسہ تک کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں مدرسہ اسلامیہ سلفیہ عبد اللہ پور جھارکھنڈ میں تین سال رہ کر 1962 میں فارغ ہوئے۔ وہاں آپ کے ہم درس مولانا عبد الرؤف شمیم (بنگال) تھے۔ اس کے بعد گھڑیشہ بیربھوم سے عالم پاس کیا۔ 1963 میں مدرسہ بٹنہ میں فاضل میں داخلہ لیا اور 1964 میں فاضل کی ڈگری لی۔ اس کے بعد تدریسی میدان میں قدم رکھا اور پہلا پڑاؤ مدرسہ مصباح العلوم سکھاسن کو بنایا۔ وہاں ایک سال رہے۔ پھر مدرسہ دار الھدی بید ناتھ پور میں صدر مدرس کی حیثیت سے دو سال رہے۔ 1965 سے 1966 تک۔ پھر مولانا محمد حسین صالح سلفی اور مولانا عبد السلام ندوی کی ایما پر داہن گاڑھا بشن پور گئے اور 1967 سے 1969 تک تین سال تک طلبہ کو مستفید کرتے رہے۔ پھر وہاں سے پیر گنج ہائی اسکول بوکوریا مالدہ گئے اور ایک سال رہ کر بودھیا ہائی مدرسہ چلے گئے، جہاں 1971 سے 2006 تک مسلسل 34 برس رہے اور وہیں سے ریٹائر بھی ہوئے۔ آپ تعلیمی سفر میں جن اساتذہ کرام سے فیض یاب ہوئے، ان میں نمایاں نام حضرت مولانا مصلح الدین اعظمی، مولانا مسلم رحمانی، مولانا جمال الدین رحمانی، مولانا محمد سعید ندوی، مولانا منظور عالم، مولانا بنی اسرائیل اور مولانا عبد السلام دیوبندی وغیرہ ہیں۔ ابھی مولانا اپنے گھر بید ناتھ پور میں خوش حال زندگی گزار رہے ہیں۔
5۔ مولانا محمد اسرائیل سلفی بن وزیر علی۔ آپ کی پیدائش 4/ جولائی 1958 کو بید ناتھ پور میں ہوئی۔ گاؤں کے مکتب اور پھر مدرسہ بید ناتھ پور میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد گوا گاچھی گئے اور مولانا عبد القدوس، مولانا محمد ایوب، مولانا تمیز الدین اور مولانا عبد المنان صاحب سکریلی سے پانچویں جماعت تک کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ بنارس تشریف لے گئے اور 1978 میں سند فراغت حاصل کی۔ وہاں جن قابل ترین اور مایہ ناز اساتذہ کرام سے کسب فیض کیا، ان میں مولانا شمس الحق سلفی (شیخ الحدیث)، مولانا آزاد رحمانی، مولانا عبد الوحید رحمانی، شیخ انیس الرحمن اعظمی، مولانا صفی الرحمن مبارک پوری، ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری اور مولانا محمد رئیس ندوی نمایاں ہیں۔ فراغت کے بعد دو سال معہد التعلیم الدینی شری پور مالدہ میں درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔ اس کے بعد مدرسہ مفتاح العلوم بھیڑ مارا منتقل ہو گئے، جہاں آپ اس وقت صدر مدرس کے عہدے پر فائز ہیں۔ آپ قومی تنظیم کٹیہار کے نائب سکریٹری اور قاضی دس سال رہے۔ اس کے بعد ضلعی جمعیت اہل حدیث کٹیہار کے پہلے ناظم پھر امیر رہے، جو 2001 سے 2011 کے عرصے پر محیط ہے۔ آپ ایک بے باک خطیب و مقرر اور اختلافات و تنازعات کو رفع دفع کرنے میں مہارت تامہ رکھتے ہیں۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی آفس میں خاصا اپروچ رکھتے ہیں، جس کا فائدہ ملحق مدارس کے ذمے داران اور اساتذہ کو ہوتا ہے۔ فی الحال قیام منیہاری بازار میں ہے۔ اس سال آپ اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کا فریضہ ادا کرنے گئے ہوئے ہیں۔ اللہ آپ کو صحیح سالم واپس لائے۔
6۔ مولانا انعام الحق مدنی بن حاجی عبد السبحان۔ آپ 1969 کو بید ناتھ پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ دار الھدی بید ناتھ پور میں حاصل کرنے کے بعد بنارس گئے اور مدرسہ چراغ علوم میں ایک سال رہے۔ پھر املو گئے۔ اس کے بعد 1985 میں جامعہ محمدیہ مالیگاؤں گئے اور وہیں سے عالمیت و فضیلت کی ڈگریاں لیں۔ اس طرح 1991 میں فارغ ہوئے۔ اللہ کے فضل و کرم سے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے منظوری آئی، تو وہاں چار سال رہ کر بی اے کی سند حاصل کی اور 1995 میں ہندوستان واپس آ کر تدریسی مشاغل میں منہمک ہو گئے۔ سب سے پہلے کلیہ ابو بکر صدیق گومانی صاحب گنج میں جوائننگ کی اور 1996 سے 2001 تک طلبہ و طالبات کو مستفید کرتے رہے۔ وہاں سے پھر جامعہ عائشہ صدیقہ کشن گنج گئے اور ایک سال رہے۔ اس کے بعد تعلیم و تدریس سے کنارہ کش ہوکر قوم و ملت کی اصلاح میں جٹ گئے۔ اس کے لیے آل بہار شیر شاہ بادی ایسو سی ایشن کے پلیٹ فارم کو اختیار کیا۔ چنانچہ 2006 سے 2011 تک اس کے جنرل سکریٹری رہے۔ اسی طرح 2001 سے 2002 تک ضلعی جمعیت اہل حدیث کے امیر، 2002 سے 2011 تک ناظم رہے اور 2011 سے اب تک امیر ہیں۔ 2017 میں صوبائی ناظم بھی منتخب کر لیے گئے ہیں۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ و شوری کے بھی رکن ہیں۔ آپ نے 'نور ایجوکیشنل ٹرسٹ' کے تحت 'حرا انٹرنیشنل اسکول' کی بنیاد 2013 میں رکھی اور الحمد للہ تعلیمی کارواں جاری و ساری ہے۔
7۔ مولانا فیض الدین صاحب۔
آپ مدرسہ دار الھدی بید ناتھ پور کے سکریٹری تھے۔ شیخ ابو القاسم سیف بنارسی کے شاگرد تھے اور ایک روایت کے مطابق مدرسہ ریاض العلوم دہلی کے فارغ تھے۔ اتنے جید عالم دین تھے کہ آپ کے ہوتے ہوئے کوئی جلسے کی صدارت نہیں کرتا تھا؛ کیوں کہ سب کی آپ علمی گرفت کرتے تھے۔ 1999 میں وفات ہوئی۔
تیلوکی ڈانڑا:-
اس گاؤں کی نمایاں شخصیت مولانا عبد القدوس بن دیدار بخش کا جنم 1928 کو ہوا۔ ابتدائی تعلیم ہردیو ٹولہ اسکول میں ہوئی۔ پھر کلاس پانچ تک امدہ باد اسکول میں۔ اس طرح 1943 تک کا زمانہ گزر گیا۔ اس کے بعد دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدرسہ فیض الغربا اسلام پور، دیناج پور (متحدہ ہندوستان) گئے اور 1947 تک رہے۔ تقسیم ہند کے بعد 1948 میں جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو تشریف لے گئے اور تین سال رہے۔ پھر مدرسہ عالیہ بانی پاڑہ بگوڑا، بنگلہ دیش گئے اور عالمیت کی سند لی۔ وہاں سے دار العلوم لطیفی کٹیہار آئے اور 1954 میں فضیلت مکمل کی۔ 1955 میں پنجاب یونی ورسٹی سے فاضل ادب کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1957 میں ایم ایم اسکول بھالوکا بازار، مالدہ میں سرکاری ٹیچر ہوئے اور لمبے عرصے تک خدمت کرنے کے بعد 1998 میں ریٹائر ہوئے اور اسی سال تباہ کن سیلاب کی وجہ سے تیلوکی ڈانڑا سے اہل گاؤں جلال گڑھ پورے خاندان کے ساتھ منتقل ہو گئے۔ 2017 میں وفات پائی۔ آپ ہمیشہ قدیم گاؤں تیلوکی ڈانڑا اور جدید گاؤں اہل گاؤں میں امامت و خطابت کی ذمے داری نبھاتے رہے۔ اس کے علاوہ پار دیارا پنچایت عیدین کے نائب امام رہے۔ آپ محنت کش انسان تھے۔ پوری زندگی قوم کے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت میں گزار دی۔ نہایت شستہ و شائستہ زبان استعمال کرتے تھے۔ میرے پھوپھا ہونے کے ناطے اس کا ہمیشہ تجربہ بھی ہے۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا سعد وقاص رحمانی اور مولانا عبد اللہ شائق نمایاں ہیں۔
حاجی جھبو ٹولہ:-
ساحل گنگا کی نمایاں و نامور بستیوں میں سے ایک نام حاجی جھبو ٹولہ کا بھی ہے، جہاں بڑے بڑے علما و فضلا اور نامور ہستیاں پیدا ہوئیں اور علم و ادب کی دنیا میں اپنی پہچان بنائیں۔ ذیل میں ان علما کے خدمات کے بارے میں میسر معلومات درج کی جا رہی ہیں:
1۔ مولانا عصمت اللہ بن منشی خورشید علی۔
بگوڑا (جو اب بنگلہ دیش میں پڑتا ہے) سے حاجی جھبو ٹولہ آئے اور یہیں شادی بیاہ کرکے بس گئے۔ آپ ایک زبردست و جید عالم دین تھے اور بہت جری و بہادر بھی تھے۔ گاؤں میں امامت و خطابت کرتے تھے۔ ان کو دیکھ کر گاؤں کی خواتین بہت خوف کھاتی تھیں۔ 1946 میں وفات ہوئی۔
2۔ مولانا احمد اللہ۔
مولانا عصمت اللہ کے بعد گاؤں کے امام بنے۔ آپ مولانا ابو القاسم سیف بنارسی کے شاگرد تھے اور سلفیت کے بہت بڑے مناد و داعی اور باطل تحریکات کے سخت خلاف تھے، بالخصوص تبلیغیوں کے زبردست مخالف تھے۔ آپ عیدین کے امام بھی تھے اور رؤیت ہلال کے لیے ریڈیو کی خبر پر یقین نہ کرنے میں منفرد تھے۔
3۔ مولانا ثابت علی رحمہ اللہ۔ آپ مولانا عبد الآخر بنارسی کے شاگرد تھے اور بڑے نیک و شریف انسان تھے۔ برابر کتابوں کا مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ جب کوئی مسئلہ پیش آتا، تو علما آپ کے پاس کتابوں کے مراجعہ کے لیے تشریف لاتے اور مسائل حل کرتے۔
4۔ محمد موسی بن عصمت اللہ۔
آپ کی ولادت 1926 میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مولانا احمد اللہ سے گاؤں کے مدرسے میں لی۔ پھر سکھاسن اسلام پور میں مولانا محمد اسحاق سلفی سے شرعی علوم پڑھے۔ پھر موجودہ بنگلہ دیش جاکر مولانا سعد وقاص رحمانی سے کسب فیض کیا۔ اس کے بعد شمس الھدی دلال پور گئے۔ آپ ہی سے راقم نے سانڈ کی حلت و حرمت پر مولانا ابو بکر ہارونی اور مولانا محمد اسحاق سلفی کے درمیان پیش آنے والے مناطرے کی روداد سنی ہے۔ آپ اس وقت پیرانہ سالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اللہ صحت و عافیت سے رکھے۔
5۔ مولانا علاء الدین بن منشی بلال حسین بن عبد الرحمن بن کلیم بشواش۔
آپ 5/ مئی 1957 میں پیدا ہوئے۔ گاؤں کے مکتب میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پھر لکھن پور مدرسہ گئے۔ اس کے بعد کافیہ کی خصوصی تعلیم کے لیے مولانا عین الحق فیضی کے پاس بلائ ماری مالدہ گئے، جو اس فن کے امام مانے جاتے تھے۔ اس کے بعد جامعہ اصلاح المسلمین بھادو مالدہ گئے اور وہاں مولانا عبد الستار رحمانی، مولانا محمد حسین سلفی، مولانا حبیب الرحمن، مولانا عبد الرحمن فیضی اور مولانا محمد حسن ریاضی سے رابعہ سے ثامنہ تک کی تعلیم حاصل کی اور 1977 میں فارغ ہوئے۔ پھر اعلی تعلیم کے لیے دار العلوم ندوة العلما لکھنؤ گئے اور مولانا علی میاں ندوی اور مولانا محمد رابع حسنی ندوی وغیرہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ آپ مولانا سعید الرحمن اعظمی کے خاص شاگرد رہے۔ 1399 میں تخصص کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد ندوہ ہی میں ایک سال بطور تدریب ٹیچر کام کیے۔ پھر مدرسہ فلاح المسلمین رائے بریلی میں 1993 تک رہے۔ اس کے بعد جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں میں 1993 سے لے کر 2006 تک رہے اور حدیث، تفسیر، عربی ادب اور نحو و صرف پڑھاتے رہے۔ مختصر وقفے کے بعد 2008 میں دوبارہ جامعہ محمدیہ منصورہ آ گئے اور 2015 تک شرعی علوم کی تعلیم دیتے رہے۔ آپ نے خود کو عربی ادب کے ماہر استاد کے طور پر متعارف کرایا۔ تدریس کے علاوہ مختلف مضافات میں دعوت و تبلیغ کے کاموں سے دلچسپی لی اور اس میں مصروف رہے۔ فی الوقت حاجی جھبو ٹولہ سے مہیار پور منتقل ہو گئے ہیں اور یہیں ایام گزار رہے ہیں۔ ذیا بیطس سے متاثر ہیں۔ اللہ صحت کے ساتھ رکھے۔
آپ سے فیض حاصل کرنے والے طلبہ و تلامذہ کی تعداد بہت ہے، لیکن چند کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رحمت اللہ سلفی، ڈاکٹر امان اللہ مدنی، شیخ ثناء اللہ مدنی، ڈاکٹر محمد وسیم مدنی، شیخ محمد ابراہیم مدنی، شیخ متعلم مدنی اور مسعود ظفر وغیرہ۔ آپ کے ہم درس ساتھیوں میں مولانا بدر الدجی ندوی، مولانا ظل الرحمن مدنی اور مولانا محمد ابراہیم سلفی کا نام آتا ہے۔
6۔ مولانا منظور عالم سلفی بن ظل الرحمن۔
ولادت معلوم نہ ہو سکی۔ گاؤں کے مکتب میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پھر جامعہ سلفیہ بنارس گئے اور وہیں سے فارغ بھی ہوئے۔ فراغت کے بعد مختلف مدارس، جیسے مدرسہ ہری پور مالدہ، مدرسہ شیر شاہی مالدہ، پھر جامعہ اسلامیہ سنابل میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ جھبو ٹولہ سے صادلپور منتقل ہو گئے تھے اور وہیں آپ کا انتقال بھی ہوا۔ آپ سادہ مزاج اور ذوق کے مالک تھے۔ روکھا سوکھا پر قناعت کر لیتے تھے۔
7۔ مولانا عبد الحکیم بن عبد الستار سلفی۔
آپ 1963 کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی پھر مدرسہ منبع العلوم خان پور مالدہ گئے۔ اس کے بعد جامعہ اصلاح المسلمین بھادو آئے اور خامسہ تک تعلیم حاصل کی۔ پھر مدرسہ رحیمیہ کتلاماری گئے اور وہیں سے فارغ ہوئے۔ وہاں سے پھر جامعہ سلفیہ آئے اور فضیلت کی ڈگری 1988 میں لی۔ شیخ صفی الرحمن مبارک پوری، مولانا عابد رحمانی اور مولانا رئیس ندوی سے حدیث کی کتابیں پڑھیں۔ فراغت کے بعد تدریس سے جڑے اور مدرسہ مفتاح العلوم بلوا گھاٹ، پھر مدرسہ لکھن پور، پھر شیخ عبد اللطیف ندوی کے ادارے میں، جو لکیہ میں ہے، مدرس رہے اور بیماری کی وجہ سے 2008 میں انتقال کر گئے۔ آپ حق گو و بے باک عالم تھے اور حدیث کے اچھے جان کار بھی تھے۔
8۔ ڈاکٹر رحمت اللہ بن محمد موسی بن عصمت اللہ سلفی۔
10/ اکتوبر 1969 کو ولادت ہوئی۔ گاؤں کے مکتب میں ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر گاؤں سے باہر متوسطہ کی تعلیم کے لیے مدرسہ اصلاح المسلمین بھادو مالدہ 1978 میں گئے اور مولانا عبد الستار رحمانی، مولانا محمد حسین سلفی، مولانا محمد حسن ریاضی، مولانا عبد الرحمن فیضی، مولانا حبیب الرحمن اور مولانا عطاء الرحمن سے ثالثہ تک تعلیم حاصل کی، پھر 1982 میں مدرسہ فلاح المسلمین رائے بریلی مولانا علاء الدین ندوی کے ساتھ گئے اور وہاں دو سال رہے، پھر مدرسہ چراغ علوم بنارس میں ایک سال رہے اور مولانا عبید الرحمن خیر آبادیاں حنفی سے مؤطا امام محمد پڑھی۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ بنارس 1985 میں گئے اور تین سال رہ کر 1987 میں عالمیت کی سند لی۔ واضح رہے کہ اس وقت جامعہ کے نصاب سے فضیلت کو ہٹا دیا گیا تھا۔ چنانچہ صحیح بخاری جلد دوم شیخ صفی الرحمن مبارک پوری سے، صحیح بخاری جلد اول مولانا محمد رئیس ندوی سے، صحیح مسلم جلد دوم مولانا عابد رحمانی سے اور صحیح مسلم جلد اول مولانا عزیز الرحمن سلفی سے، نسائی مولانا عبد السلام مدنی سے، ابو داؤد مولانا جمیل احمد مدنی سے اور سنن ترمذی مولانا عبد الوہاب حجازی سے پڑھی۔ اس کے بعد تخصص فی الحدیث کا دو سالہ نیا کورس چالو ہوا، تو اس میں داخل ہوئے اور اس میں مولانا محمد رئیس ندوی سے احکام الحدیث، ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری سے 'دفاع عن السنة'، ڈاکٹر عبد الرحمن فریوائی سے 'مكانة السنة'، مولانا احمد مجتبی سلفی سے 'السنة عبر القرون'، مولانا علی حسین سلفی سے مصطلح الحدیث اور مولانا اصغر علی مدنی سے 'مادة التخريج' پڑھ کر 1989 میں تخصص کی ڈگری لی، جو ماجستر کے برابر قرار دی گئی۔ اس کے بعد 1990 میں جامعہ ابو ہریرہ لال گوپال گنج، الہ آباد گئے اور ایک سال رہ کر جامعہ ریاض العلوم دہلی گئے۔ وہاں ایک ڈیڑھ سال رہے۔ پھر 1992 میں جامعہ امام ابن تیمیہ بہار چلے آئے اور لگاتار اٹھارہ سال رہ کر 2010 تک طلبہ کی ٹھوس رہنمائی کرتے رہے۔ اس دوران یہاں مختلف علوم شرعیہ کا درس دیا۔ بالخصوص حدیث کا مادہ بڑے ذوق و شوق سے پڑھاتے رہے۔ صحیح مسلم کئی سالوں تک آپ کے زیر تدریس رہی۔ آپ یہاں سے نکلنے والے عربی مجلہ الفرقان کے مساعد مدیر التحریر رہے اور اس میں برابر مضامین لکھتے ریے۔ اس کے علاوہ مجلہ طوبی (اردو)، مجلہ صوت الامہ (عربی)، مجلہ البحث والتحقیق (عربی) اور ترجمان (اردو) میں بھی مقالات لکھتے رہے۔
آپ سے جن لوگوں نے استفادہ کیا، الحمد للہ آج وہ درس و تدریس، صحافت و ترجمہ اور دعوت و تبلیغ کے میدان میں معتبر نام مانے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شیث محمد ادریس تیمی، کلیم انور تیمی مدنی، ڈاکٹر یوسف طلحہ مدنی، ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی، شیخ صفات عالم تیمی مدنی، شیخ کرم اللہ مدنی، شیخ ابراہیم سجاد تیمی، ڈاکٹر ضیاء القمر تیمی مدنی، ڈاکٹر اورنگ زیب تیمی، ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی، حفظ الرحمن تیمی، ثناء اللہ صادق تیمی، ڈاکٹر رفیق عبد المنان تیمی، شیخ اسد الرحمن تیمی، شیخ عالم گیر تابش تیمی، ہشام الدین تیمی اور آصف تنویر تیمی مدنی چند اہم نام ہیں۔
جامعہ ابن تیمیہ میں رہتے ہوئے جامعہ سلفیہ بنارس سے 2006 میں دکتوراہ کی ڈگری لی، جس میں بحث کا عنوان تھا، 'دراسة وتحقيق التعليق الصبيح على مشكاة المصابيح، جزء كتاب الايمان....'
درس و تدریس کے علاوہ آپ نے مختلف سیمیناروں میں مقالے پیش کیے، کانفرنسوں میں خطاب کیا اور مناظروں میں شرکت کی۔ تصنیف و تالیف اور ترجمہ و تحقیق کا کام کیا۔ جیسے 'فصول فی ادیان الھند' للدکتور ضیاء الرحمن الاعظمى کا ترجمہ کیا۔ اسی طرح تفسیر سورة النور لکھی۔ جماعت اسلامی کی تردید میں ایک کتاب لکھی۔ دعوت-اسلوب و وسائل کے عنوان پر ایک کتاب لکھی۔ تذکرة النبلاء کے نام سے اساتذہ کی سوانح لکھی۔ رش البرد شرح الادب المفرد کی تالیف میں تعاون کیا۔ لیکن بد قسمتی یہ کہ آخر الذکر کے علاوہ کوئی کتاب زیور طبع سے آراستہ نہ ہو سکی۔ اللہ اس کی سبیل پیدا کرے۔
جامعہ سے کٹیہار آنے کے بعد فرقان ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کی بنیاد رکھی اور تعلیم و تعلم کے لیے ایک ادارہ كلية أم سلمة الإسلامية، جھبو ٹولہ میں قائم کیا۔ اسی طرح آپ فروری 2012 میں ضلعی جمعیت اہل حدیث کٹیہار کے ناظم بنے اور پانچ سالہ میعاد مکمل کرنے کے بعد دوسری میقات کے لیے 2017 میں ناظم منتخب کئے گئے۔ آپ اس وقت حاجی پور میں مقیم ہیں۔
9۔ عبد الباری ندوی بن عبد المالک۔
تاریخ پیدائش 26/ جنوری 1969۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں، پھر جامعہ اصلاح المسلمین بھادو میں متوسطہ، پھر معہد التعلیم الدینی شری پور میں ثانویہ، پھر دار العلوم ندوة العلماء سے 1990 میں عالمیت کی، اس کے بعد مظاہر العلوم سہارن پور سے 1991 میں فضیلت۔ اساتذہ میں مولانا عبد الستار رحمانی، مولانا علاء الدین ندوی اور شیخ محمد یونس جون پوری شامل ہیں۔
فراغت کے بعد مالیگاؤں محمدیہ میں 1992 سے 1996 تک، پھر معہد کشن گنج میں ایک سال، پھر معہد التعلیم الدینی شری پور مالدہ میں 1998 سے 2008 تک، پھر جامعہ عمر فاروق الاسلامیة کواماری میں 2009 سے 2017 تک تدریسی فریضہ انجام دیا اور اس سال 2018 میں ہائر سکنڈری میں نوکری ملی ہے۔
صوبے دار ٹولہ:-
مولانا محمد یونس بن زکاة اللہ بن عبد الرحمن بن محمد وزیر۔
تاریخ پیدائش 1942۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب، پھر دار الھدی بابوان سوپول، پھر دار الحدیث گوا گاچھی میں اولی تا ثالثہ تین سال، پھر مدرسہ مظہر العلوم پٹیروا میں 1962 میں رابعہ، پھر مدرسہ مظہر العلوم بٹنہ مالدہ میں 1963-64 میں خامسہ سادسہ، پھر 1965 میں مدرسہ مظہر العلوم پٹیروا میں سابعہ، اس کے اخیر میں مدرسہ اسلامیہ سلفیہ عبد اللہ پور جھارکھنڈ سے 1966 میں فراغت۔
اساتذہ: مولانا محمد ایوب، مولانا تمیز الدین، مولانا عبد المنان، مولانا عبد الرحمن، مولانا ابو ہلال، مولانا عبد القیوم، مولانا جمال الدین رحمانی، مولانا مصلح الدین جیراج پوری۔
فراغت کے بعد تدریس بہار و بنگال کے مختلف مدارس میں۔ مثلا مدرسہ فیضیہ حقانیہ شیر شاہی مالدہ، مدرسہ کھاڑی گوپال پور دیناج پور، مدرسہ فاطمة الزھراء مرزا باڑی اور مدرسہ نجم الھدی کھجوریہ گھاٹ مالدہ۔
ابھی آپ صوبے دار ٹولہ سے نقل مکانی کرکے برسونی پورنیہ آ گئے ہیں اور وہیں مقیم ہیں۔ آپ کے تین بیٹے ہیں اور تینوں فارغ التحصیل ہیں۔
یوسف ٹولہ:-
ساحل گنگا کی عہد ساز اور تاریخی و علمی شخصیات میں نہایت عظیم و فائق اور مستند ہستی مولانا محمد ادریس صاحب کی ہے، جو یوسف ٹولہ میں 1885 میں پیدا ہوئے اور یہیں آپ کی وفات ہوئی۔ آپ بنارس کے جید عالم، محدث و محقق مولانا ابو القاسم سیف بنارسی کے شاگرد تھے اور علاقے میں مفتی صاحب کے نام سے مشہور تھے۔ اس وقت آپ کی طوطی بولتی تھی۔ زبردست عالم تھے۔ فقہ پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ ظن غالب یہ ہے کہ آپ نے باقاعدہ کسی مدرسے میں بھی پڑھایا ہوگا، لیکن بالضبط معلومات نہ مل سکی۔ گھر میں رہ کر بھی طلبہ کو پڑھاتے تھے۔ وہ خود اکیلے مدرسہ تھے، جن سے مختلف علوم و فنون حاصل کیے جاتے۔ ایک سال میں مختلف کتابیں پڑھاتے۔ آپ کے شاگردوں میں مولانا احمد اللہ (جھبو ٹولہ) رہے ہیں، جو خود زبردست عالم تھے۔ آپ کے لخت جگر مولانا سعید الرحمن شمسی بھی آپ کے ساگرد تھے، جو تیز طرار عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ اہم سیاسی رہنما بھی تھے۔ مولانا محمد ادریس کی وفات 1975 میں ہوئی۔ آپ کے بیٹے مولانا سعید الرحمن شمسی نے مختلف مدارس میں علم دین حاصل کیا۔ ابتدائی تعلیم ابا محترم سے لینے کے بعد بارہ عید گاہ پورنیہ گئے، پھر وہاں سے مدرسہ مظہر العلوم پٹیروا ٹاپو گئے، پھر ایک سال کے لیے احمدیہ سلفیہ دربھنگہ گئے، پھر مدرسہ شمس الھدی پٹنہ گئے اور مولوی، عالم اور فاضل کی ڈگری لی۔
فراغت کے بعد مہانندہ ہائی اسکول مالدہ میں ایک سال پڑھایا، لیکن اس کے بعد سیاسی زندگی میں زیادہ مصروف رہے۔ ویسے آپ نے 1936 میں کانگریس پارٹی کی رکنیت لے لی تھی۔ 1942 میں چھاتر سنگٹھن کے صوبائی سکریٹری رہے۔ لمبے عرصے تک کانگریس میں رہنے کے بعد 1965 میں کانگریس چھوڑ کر سوشلسٹ پارٹی جوائن کر لی۔ کٹیہار کے مشہور لیڈر یوراج سنگھ سے بڑی قربت رہی۔ آپ کا انتقال 1998 میں ہوا۔ واضح رہے کہ یوسف ٹولہ میں مولانا کا خاندان آباد ہے، لیکن خود بہت پہلے بلوا امدہ باد منتقل ہو گئے تھے اور یہیں آپ کے بیٹے ہوتے بود و باش کر رہے ہیں۔
ببلابنہ :-
اس گاؤں کی نمایاں شخصیات میں مولانا انیس الرحمن، مولانا عبد الرشید، مولانا محمد سلیمان اور مولانا عبد المؤمن شامل ہیں۔
مولانا انیس الرحمن صاحب بنارس کے فارغ تھے۔ گاؤں میں امامت و خطابت کرتے تھے اور بہت جری آدمی تھے۔ 1996 میں وفات ہوئی۔
مولانا عبد الرشید صاحب نے ابتدائی تعلیم علاقے ہی میں حاصل کی، پھر مدرسہ اسلامیہ عبد اللہ پور سے فارغ ہوئے۔ اس کے بعد مدرسہ عالیہ کلکتہ سے عالم، فاضل اور ایم ایم کیا۔ فراغت کے بعد مدرسہ سراج الاسلام بھولا ماری میں مدرس ہوئے۔ پھر 1971 میں آدرش ہائی مدرسہ بھادو گئے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔ 2002 میں وفات ہوئی۔
مولانا عبد المؤمن صاحب نے ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی، پھر احمدیہ سلفیہ دربھنگہ سے فارغ ہوئے، پھر دار العلوم دیوبند گئے۔ فراغت کے بعد مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ میں تدریس شروع کی، پھر مدرسہ اصلاحیہ سیماپور گئے اور وہیں وفات ہوئی۔

0 comments: