Sunday, 17 May 2020

مولانا محی الدین صاحب فیضی رحمہ اللہ - ایک سادگی پسند متبحر عالم دین

تحریر: مشتاق احمد ندوی
مدرسہ ا صلاحیہ سیماپور جس نے سیمانچل میں دینی تعلیم کے فروغ غیر معمولی بلکہ لاثانی کردار ادا کیا ہے، اس کا نام آتے ہی، جن بے لوث، جفاکش اوردرویش صفت اساطین علم و فن کی یادوں کی مہک ذہن و دماغ کے گلیاروں کو مشک بار کرنے لگتی ہے، ان میں سے ایک نمایاں نام مولانا محی الدین صاحب فیضی رحمہ اللہ کا ہے۔ مولانا رحمہ اللہ جس وقت اصلاحیہ آئے تھے، اس وقت یہاں مولانا ابوبکر ہارونی رحمہ اللہ کے علاوہ، جو اصلاحیہ کے فاونڈر پرنسپل اور اس کی تعلیمی و انتظامی سرگرمیوں کی دھری تھے، مولانا محمد اسحاق سلفی، مولانا علی اصغر قاسمی اور مولانا محب الحق صاحبان رحمھم اللہ جیسے نابغہء روزگار شخصیات موجود تھیں، لیکن انھوں نے ان کے بیچ بھی، اپنی خدا داد صلاحیت، محنت و لگن، سادہ و بے لوث طبیعت اور ہمیشہ نہ بجھنے والی علمی تشنگی والے مزاج کی وجہ سے، بہت جلد اپنی الگ پہچان بنا لی اور سب کے منظور نظر بن گئے۔
محمد محی الدین بن منشی یعقوب علی بن حاجی رافت اللہ بن عدالت منڈل۔ یہ آپ کا سلسلہء نسب ہے۔ سلام ٹولہ، براری، کٹیہار میں پیدا ہوئے۔ تاریخ پیدائش 9/ جولائی 1940 ہے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں ہوئی۔ پھر نانیہال، بھتھنی دیارا کے ایک ادارے میں کچھ دن رہے۔ اس کے بعد اونچی تعلیم کے لیے باہر جانے کی بات آئی، تو مدرسہ اصلاح المسلمین بھادو، مالدہ تشریف لے گئے۔ یہاں دو سال رہ کر بلوغ المرام اور کافیہ تک کی تعلیم حاصل کی۔ یہاں ان کے اہم اساتذہ میں مولانا عبدالستار رحمانی رحمہ اللہ بھی شامل تھے، جو جامعہ رحمانیہ دہلی مرحوم کے فارغ اور جید بزرگ عالم دین تھے۔ اس کے بعد مدرسہ مظہرالعلوم بٹنہ، مالدہ گئے اور دو سال رہ کر عالمیت کی سند لی۔ یہاں خاص طور سے مولانا مسلم رحمانی اور مولانا اکمل حسین اعظم گڑھی رحمھما اللہ سے خوب استفادہ کیا۔ مولانا مسلم رحمانی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ جامعہ رحمانیہ دہلی کے فارغ اور مستند عالم دین تھے، جب کہ مولانا اکمل صاحب، مولانا مصلح الدین صاحب اعظم گڑھی کے صاحب زادے تھے۔ نہایت جامع الکمالات شخصیت کے مالک تھے، لیکن عین جوانی میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔
اس کے بعد قدیم ترین سلفی ادارہ، جامعہ اسلامیہ فیض عام مئوناتھ بھنجن جانا ہوا۔ وہاں بھی دو سال رہے۔ غالبا 1960 میں وہاں سے سند فراغت حاصل کی۔ وہ مفتی حبیب الرحمن صاحب کا زمانہ تھا۔ ان سے بھی خوب خوشہ چینی کی اور اپنے دامن کو لعل و گہر سے بھر کر شادکام و بامراد واپس ہوئے۔
مولانا رحمہ اللہ کے اس پورے تعلیمی سفر میں ایک صاحب ہمیشہ ایک مخلص دوست، رفیق سفر اور ہم درس کی حیثیت ساتھ رہے۔ یہ ہیں، مولانا امیرالدین صاحب گیدڑ ماری، حفظہ اللہ، سابق صدر مدرس مدرسہ عزیزیہ موہنا چاندپور، کٹیہار۔ مولانا ایک بزرگ عالم دین ہیں اور ابھی با حیات ہیں۔ اللہ صحت و عافیت سے رکھے اور عمر دراز فرمائے۔
اس کے بعد تدریسی سلسلے کا آغاز ہوا، جو ایک زریں اور یادگار سلسلہ ہے۔ اس سنہرے سلسلے کی ابتدا جامعہ اسلامیہ ہری پور، مالدہ سے ہوئی۔ البتہ یہاں ایک ہی سال رہے۔ اس کے بعد 1962 کی ابتدا میں مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ بانس گاڑا، کٹیہار آ گئے۔ یہ اس ادارے کے عروج کا زمانہ تھا۔ زبردست تعلیمی گہما گہمی رہتی تھی۔ دورہء حدیث تک کی پڑھائی ہوتی تھی۔ طلبہ کا جم گھٹ رہتا تھا۔ مولانا حضرت علی صاحب چتوریہ، مولانا عبدالمنان صاحب سکریلی، مولانا عین الدین صاحب مرگھیا اور مولانا الطاف حسین صاحب بیڈنڈا جیسے مایہء ناز علما تدریسی فرائض انجام دیتے تھے۔ آج بھی سیمانچل بھر میں اس ادارے کے فارغین بڑی تعداد میں مل جاتے ہیں۔ مولانا محی الدین صاحب یہاں 1968 کے اخیر تک رہے۔ اونچی کتابیں پڑھاتے تھے۔ چتوریہ گھر سے دور بھی تھا اور آمد و رفت کے لحاظ سے کافی دشواریاں بھی تھیں، لیکن جب تک رہے، پوری توانائی کے ساتھ کام کرتے رہے۔
20/ دسمبر 1968 کو مولانا نے اصلاحیہ میں قدم رکھا اور 10/ جولائی 2002 کو یہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔ لگ 34 سال آپ نے یہاں گزارے۔ اصلاحیہ کے شروع کے لگ بھگ دس سال آپ کی تدریسی زندگی کے سب سے شان دار دور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس بیچ بہار اور جھاڑکھنڈ کے لا تعداد طلبہ نے آپ سے کسب فیض کیا، جن میں پروفیسر، آر ڈی ڈی اور ڈی پی او سے لے کر بڑی تعداد میں پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سکنڈری اسکولوں کے ٹیچر اور سرکاری و غیر سرکاری مدارس کے اساتذہ شامل ہیں۔
مولانا سے جن لوگوں نے کسب فیض کیا، ان کے مطابق مولانا کی عظمت کا راز دو باتوں میں پنہاں ہے۔ علمی پختگی اور تواضع و خاک ساری۔ عبارت فہمی کا خاص ملکہ حاصل تھا۔ عربی زبان بڑی اچھی تھی۔ عربی ادب کے علاوہ حدیث، تفسیر اور فقہ بھی پڑھاتے تھے اور خوب پڑھاتے تھے۔ بارہا ایسا ہوتا کہ خالی گھنٹی میں جاکر بیٹھ جاتے اور جو بھی کتاب سامنے ہوتی، اسے اس خوش اسلوبی سے پڑھاتے کہ طلبہ عش عش کرنے لگتے۔
لیکن اس کے ساتھ ہی تواضع اس قدر کہ کسی نے کوئی مسئلہ پوچھ لیا، تو جھٹ سے جواب دینے کی بجائے وقت لیتے اور خود مطمئن ہونے کے بعد جواب دیتے۔ خود نمائی انھیں چھوکر بھی نہیں گزری تھی۔ بہت سادہ رہتے تھے۔ کئی بار آدمی دھوکہ کھا جاتا کہ اس سادگی کے اندر بھی اتنا علم ہو سکتا ہے۔ اپنا کام خود کرتے ۔ کسی طالب علم سے خدمت لینے سے سخت گریز تھا۔ گر چہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔
ان معنوں میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ آپ نمونہء سلف تھے۔ علم وعمل کا یہ تاب ناک آفتاب لمبے وقت تک اپنی ضیا پاش کرنوں سے علمی دنیا کو روشن رکھنے کے بعد 22/ اکتوبر 2011 کو غروب ہو گیا۔ تدفین آبائی وطن ہی میں عمل میں آئی۔ جنازے کی نماز مولانا عبدالحق صاحب ندوی صدر مدرس مدرسہ اصلاحیہ سیماپور نے پڑھائی۔
مولانا کے صاحبزادے جناب مولانا محمد شمیم صاحب جامعہ اسلامیہ فیض عام سے فارغ التصیل ہیں اور مدرسہ عزیزیہ موہنا چاندپور میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں اور جامع مسجد سیج ٹولہ ہاشم پور کے امام و خطیب ہیں۔
اے اللہ! نام و نمود سے بچ کر خالص تیری رضا کے لیے کام کرنے والا تیرا یہ بندہ اب تیری پناہ میں ہے۔ اس کے ساتھ رحم و کرم کا برتاؤ کرنا اور جنت الفردوس میں جگہ عطا کرنا۔

0 comments: