Sunday, 17 May 2020

مولانا محمد حسین سلفی رحمه الله .... ایک شہرہء آفاق مقرر اور آئیڈیل مدرس

تحریر: مشتاق احمد ندوی
....
"بنگلہ مقرر پہلے بھی بہت تھے اور آج بھی بہت ہیں، لیکن میں نے صالح صاحب جیسا دوسرا مقرر نہیں دیکھا۔" یہ جملہ میں نے اپنے والد محترم سے کتنی بار سنا ہے، بیان نہیں کر سکتا۔
مولانا محمد حسین سلفی، جنھیں ہمارے علاقے کے لوگ صالح صاحب کے نام سے زیادہ جانتے ہیں، ایک عظیم مقرر، بلند پایہ مدرس، مفتی و قاضی اور بنگلہ زبان کے ایک مصلح شاعر تھے۔ آپ کی تدریسی خدمات پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہیں اور اصلاح معاشرہ کے مقصد عظیم کے تحت کہی گئی آپ کی نظمیں آج بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔
ڈاکٹر رحمت اللہ سلفی، جو ان کے فیض یافتگان میں شامل ہیں، میری گزارش پر تحریر کردہ اپنے تاثراتی نوٹ میں ان کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں: "میرے استاد گرامی قدر، استاذ الاساتذہ فضیلة الشیخ محمد حسین سلفی عرف صالح صاحب ایک کام یاب مدرس و ماہر تعلیم، مایہء ناز و شیریں بیان خطیب، شاعر اسلام اور قاضی شریعت تھے، جنھوں نے طالبان علوم نبویہ کی صحیح و ٹھوس رہ نمائی کرنے میں پورے اخلاص و للہیت سے کام کیا اور سماج و معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ کرنے اور توحید و سنت کے جذبے کو مضبوط کرنے کے لیے خطابت و شاعری اور قضا و افتا کے فن کو استعمال کیا۔"
مولانا کو کہیں محمد صالح اور کہیں محمد حسین سلفی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ نام میں اس اختلاف کی وضاحت کرتے ہوتے ہوئے خود فرماتے ہیں: "میرا اصل نام محمد صالح ہے۔ ایک روز جامعہ مظہر العلوم بٹنہ کے زمانہء تعلیم میں میرے ایک مشفق استاد مولانا عبد الحکیم رحمہ اللہ کی زبان سے بلا ارادہ محمد صالح کی بجائے محمد حسین نکل آیا۔ میں نے اس وقت تردید یا تصحیح کی بجائے خاموشی اختیار کی۔ بس اسی روز سے مدرسہ اور مدرسہ کے ارد گرد یہی نام شہرت پا گیا۔ عام طور پر اساتذہ اور طلبہ مجھے محمد حسین کے نام سے پکارنے لگے، ورنہ درحقیقت میرا اصلی نام محمد صالح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادھر صوبہ بہار کے پورنیہ، سپول، ارریہ، کشن گنج اور کٹیہار وغیرہ ضلعوں میں صالح کے نام سے اور ادھر مالدہ، مرشد آباد، بیربھوم، ندیا، چوبیس پرگنہ، اتر و دکھن دیناج پور اور کوچ بہار وغیرہ ضلعوں میں محمد حسین کے نام سے پکارا جاتا ہے۔" (شیخ رحمہ اللہ کی حیات پر صلاح الدین مہتاب الدین بخاری کا تحریر کردہ فضیلت کا مقالہ جو جامعة الامام بخاری میں 1998 میں لکھا گیا تھا۔ ص: 5)
سلفی صاحب کا مختصر نسب نامہ کچھ یوں ہے، محمد صالح بن عبد الرحمن بن دوسر ملا بن عبد الکریم بن بخش بن ہٹو منڈل۔ بنگلہ کلینڈر کے مطابق 1336 کو سیمانچل کے مردم خیز علاقہ ٹاپو کے بابوان گاؤں میں پیدا ہوئے، جو پہلے متحدہ پورنیہ ضلع کا حصہ تھا اور اب ارریہ ضلع کے اتری چھور میں پڑتا ہے۔
بابوان بستی بڑے علما کی بستی رہی ہے۔ یہاں گزرے ہوئے علما میں مولانا خلیل الرحمن سلفی، مولانا عبد الرحمن سلفی (صالح صاحب کے والد ماجد) اور مولانا احسان اللہ سلفی رحمھم اللہ ہوا کرتے تھے، جب کہ ان دنوں مولانا ثناء اللہ سلفی (صالح صاحب کے چھوٹے بھائی)، مولانا عنایت اللہ سلفی، مولانا ابو الکلام سلفی اور ڈاکٹر امان اللہ مدنی مدرس مسجد نبوی حفظھم اللہ جیسے ذی علم علما موجود ہیں۔ یہاں علم دین کی اشاعت میں مدرسہ دار الھدی بابوان کا نمایاں کردار رہا ہے، جو سیمانچل کے پرانے اور قابل ذکر اداروں میں سے ایک ہے۔
صالح صاحب ایک دینی اور علمی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ والد صاحب ایک قد آور عالم دین تھے، جو نمایاں علمی مقام و مرتبہ کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت، تقوی و پرہیزگاری اور زہد و ورع میں خاص شہرت رکھتے تھے۔ معاشی اعتبار سے قدرے خوش حال اور جود و سخا کے مالک تھے۔ صالح صاحب کے چھوٹے بھائی مولانا ثناء اللہ سلفی ابھی باحیات ہیں اور معہد حفصہ للبنات، بابوان، ارریہ میں بخاری کا درس دے رہے ہیں۔
سلفی صاحب کو بچپن ہی سے پڑھنے کا شوق دامن گیر تھا، لیکن والد صاحب کثیر العیال تھے اور کھیتی باڑی کی مشغولیات اپنی جگہ پر تھیں۔ کاشت کاری کے مشاغل اور مال مویشی چرانے میں وقت گزرتا گیا۔ اس بیچ غیر مربوط انداز میں پڑھنے لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ والد ماجد سے قرآن مجید، فارسی کی پہلی کتاب اور آمد نامہ وغیرہ پڑھی۔ اسی بیچ شادی بھی ہو گئی، لیکن پڑھنے لکھنے کا شوق جوں کا توں برقرار رہا۔ والد صاحب اپنی جلالت علمی کے باوجود انھیں مکمل طور پر لکھنے پڑھنے کے لیے فارغ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ گھر سے بھاگ کر جامعہ مظہر العلوم بٹنہ، مالدہ تشریف لے گئے اور نحو میر، پنج گنج و گلستاں وغیرہ پڑھنے لگے۔ لیکن ابھی چار پانچ مہینے ہی گزرے تھے کہ ان کے بڑے بھائی مولوی احمد حسین ڈھونڈتے ہوئے مدرسہ پہنچ گئے اور زبردستی کھینچ کر گھر لے آئے۔ تعلیمی سلسلہ بند ہونے سے مولانا سخت بے چین تھے۔ چار ماہ بعد پھر بھاگنے کی کوشش کی، لیکن دبوچ لیے گئے۔ البتہ ایک ڈیڑھ ماہ بعد پھر کوشش کی اور اس بار کام یاب رہے۔ پھر سے بٹنہ مدرسے میں پڑھنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک ڈیڑھ ماہ بعد مدرسے میں رمضان کی چھٹی ہو گئی۔ سارے طلبہ اور اساتذہ نے اپنے اپنے گھر کی راہ لی، لیکن سلفی صاحب نے بٹنہ سے دو کیلو میٹر کی دوری پر واقع چرکھی بھیٹھا گاؤں کا رخ کیا اور وہاں کے ایک لائق و فائق عالم دین مولانا عبد الحکیم صاحب کے سامنے زانوئے تہہ کر دیا، جنھیں علاقے کے لوگ بڑے مولانا کے نام سے جانتے تھے۔ چوں کہ مولانا عبد الحکیم صاحب ایک شان دار مدرس تھے اور پڑھانے کا بڑا نرالا انداز رکھتے تھے، اس لیے رمضان بعد بھی اس سلسلے کو مفید تر جان کر جاری رکھا گیا۔ ان سے هداية النحو، شرح مائة عامل، پنج گنج، صرف میر اور دستور المبتدی جیسی کتابیں پرھتے رہے۔ مولانا عبد الحکیم صاحب انھیں بڑا عزیز جانتے تھے اور وہ بھی ان کی خدمت میں کوئی کور کسر اٹھا نہیں رکھتے تھے۔ سلفی صاحب کی شخصیت کو نکھارنے میں جن اساتذہ نے نمایاں کردار ادا کیا، ان میں مولانا عبد الحکیم صاحب کا نام سب سے اوپر ہے۔ ایک مخلص استاد اور ہونہار شاگرد کے اس کارواں نے ابھی چند ماہ کا فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ پھر سلفی صاحب کے بڑے بھائی مولوی احمد حسین آ دھمکے اور کہنے لگے کہ والدین کو ناراض کر کے اس طرح تعلیم حاصل کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔ تم گھر واپس چلو، میں ابا کو سمجھا بجھا کر منا لوں گا اور تمھیں بہر صورت پڑھنے کا موقع دلا دوں گا۔ سلفی صاحب کو نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے ساتھ چلنا پڑا، لیکن وہی ڈھاک کے تین پات۔ مجبورا پھر بھاگ کھڑے ہوئے اور اس بار اپنے مشفق استاد مولانا عبد الحکیم صاحب سے مشورے کے بعد میاماری مدرسہ چلے گئے، تاکہ گھر والوں کی دست رس سے دور رہ سکیں۔ یہاں مولانا ابو الحسین مرشد آبادی کی شکل میں ایک اور مشفق استاد اور مربی مل گئے، جن کی بے پایاں شفقتیں ان کے شامل حال رہیں۔ یہاں دو سال رہنا ہوا۔
دو سال بعد رمضان کی چھٹی میں گھر آئے، لیکن دل و دماغ پر والد کا ڈر اس قدر چھایا ہوا تھا کہ ادھر ادھر چھپ چھپاتے اہل خانہ سے ملے بنا ہی واپس ہو گئے۔ اس بار جامعہ اصلاح المسلمین بھادو میں داخلہ لیا۔ ایک سال پڑھنے کے دار العلوم دیوبند میں پڑھنے کا شوق دامن گیر ہوا اور رمضان بعد سیدھے دیوبند چلے گئے۔ البتہ وہاں پہنچنے کے بعد بوجوہ داخلہ نہیں لیا اور واپس آکر جامعہ مظہر العلوم بٹنہ میں چوتھی جماعت میں داخلہ لے کر اپنے استاد گرامی قدر مولانا عبد الحکیم صاحب کی نگرانی میں تعلیم حاصل کرنے لگے۔ اب بھاگ دوڑ والی زندگی ختم ہونے کو تھی۔ خاص طور سے ایک سال بعد جب گھر گئے اور والد محترم صلح صفائی ہو گئی، تو یہ سلسلہ بالکل بند ہو گیا۔
لیکن اسی بیچ ایک جاں کاہ حادثہ پیش آ گیا۔ اہلیہ محترمہ، جو نہایت وفا شعار، دین دار اور نیک خاتون تھیں اور پچھلے کئی سالوں سے تنہائی کی زندگی گزار رہی تھیں، دنیا سے چل بسیں۔ ان کے اس طرح ساتھ چھوڑ دینے سے مولانا کو بھاری صدمہ پہنچا اور بجھے بجھے سے رہنے لگے۔ البتہ اللہ نے اس دکھ کے مرحلے کو پار کرنے کی صورت بھی نکال دی۔ صالح کے استاد محترم غازی خراسان مولانا عبد الوہاب صاحب رحمہ اللہ کی پہل پر بشن پور گاؤں کے ایک متمول اور دین دار گھرانے کی ایک پڑھی لکھی لڑکی سے شادی ہوگئی۔ یہ شادی رنج و غم کی دنیا سے نکلنے میں ممد و معاون ہونے کے ساتھ مولانا کی معاشی مشکلات کا حل بھی ساتھ لائی۔ اب تک سلفی صاحب گھر سے بھاگ کر پڑھتے رہے۔ گھر کی طرف سے کوئی تعاون نہیں ملتا تھا۔ تعلیمی اخراجات کے انتظام کے لیے کبھی چھٹی کے دنوں میں محنت مزدوری کر لیتے، کبھی غیر درسی اوقات میں گاؤں کے بچوں کو پڑھا دیتے اور کبھی کسی کی کسی اور کسی شکل میں مدد کر دیتے اور اس طرح جو کچھ مل جاتا، اس سے جیسے تیسے خرچ نکال لیتے۔ لیکن اب تعلیمی اخرجات کا کوئی مسئلہ نہیں رہا اور پورے سکون کے ساتھ آگے کی تعلیم جاری رکھنے کا موقع ہاتھ آ گیا۔ ساتھ ہی اسی توسط سے مستقل بود و باش بھی بہار سے بنگال منتقل ہو گئی۔
مولانا کی آگے کی تعلیم جامعہ مظہر العلوم بٹنہ ہی میں جاری رہی۔1951 کو یہاں سے فارغ التحصیل ہوئے۔ بعد ازاں دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ گئے اور آٹھویں جماعت میں ایک سال پڑھ کر رسمی تعلیم کے مرحلے کو عبور کر لیا۔
اس درمیان جن اساتذہ سے کسب فیض کیا، ان میں مفتی عبد الحکیم مالدہی، مولانا ابو الحسن مرشد آبادی، مولانا عبد التواب پران پوری، مولانا عبد الکریم مالدہی، صوفی دوست محمد ندوی، غازی خراسان مولانا عبد الوہاب صاحب، شیخ الحدیث عبد الستار رحمانی، شیخ الحدیث عبید اللہ عاقل رحمانی، مولانا ظہور احمد رحمانی، مولانا جمال الدین رحمانی اور شیخ الحدیث عبد الجبار کھنڈیلوی رحمانی جیسے اساطین علم و فن شامل تھے۔
رسمی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد عملی زندگی میں اتر پڑے، جو قابل صد رشک رہی۔ جب زندگی کا ایک ایک پل تدریس، خطابت اور افتا و قضا جیسی مصروفیتوں سے آباد رہے، تو اس پر بھلا کس بد نصیب کو رشک نہ آئے!!
تدریسی زندگی کی بات کریں، تو پانچ دہائیوں پر مشتمل اس طویل عرصے میں بہار و بنگال کے نصف درجن سے زائد مدارس سے وابستہ رہے اور ہزاروں طالبان علوم نبویہ کو سیراب کیا۔ سب سے پہلے مادر علمی جامعہ مظہر العلوم بٹنہ میں ایک سال رہے۔ بعد ازاں اہل وطن کے شدید اصرار پر مدرسہ دار الھدی بابوان ارریہ میں نو سال خدمت کی۔ کچھ دن بھولا ہاٹ (بنگلہ دیش) میں بھی رہے۔ 1968 سے 1970 تک تین سال بھولا ماری مدرسے میں بطور صدر مدرس کام کیا۔1971 میں جامعہ اصلاح المسلمین بھادو میں قدم رکھا اور چوبیس پچیس سال رہے۔ اس کے بعد مدرسہ فلاح المسلمین بشن پور گئے۔ 1995 میں ایک سال دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں بطور صدر مدرس رہے۔ اس کے بعد دو سال جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم شنکر پور، سپول میں رہے اور 1998 میں ایک سال جامعة الامام کشن گنج میں بھی رہے۔
اس طویل مدت میں بخاری و مسلم سمیت درس نظامی کی بیش تر اونچی کتابیں پڑھاتے رہے۔ پڑھانے کا انداز بڑا لاجواب تھا۔ ڈاکٹر رحمت اللہ سلفی لکھتے ہیں: "مولانا محمد حسین سلفی صاحب یوں تو تمام فنون پر کمانڈ رکھتے تھے، لیکن شہرت ماہر حدیث کے طور پر ملی۔ اس لیے بھادو میں جب تک رہے، مشکوة سے صحیح بخاری تک درس دیا۔ اس کے بعد دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ، پھر جامعہ الامام بخاری کشن گنج گئے اور وہاں بھی صحیح بخاری کا درس دیا۔ یہ آپ کی حدیث و منہج اہل حدیث سے محبت و الفت اور شیفتگی کی دلیل ہے۔"
اس درمیان ہزاروں تشنگان علوم اسلامیہ نے اس بہتے چشمے سے سیرابی حاصل کی، جن کے ذکر کے لیے ایک دفتر چاہیے۔ اس زمرے میں مولانا عطاء الرحمن مدنی، ایم عبید اللہ ایم پی بنگلہ دیش، مولانا علاء الدین ندوی، مولانا عبد العلیم سلفی، مولانا محمد بدر الدجی ندوی اور ڈاکٹر رحمت اللہ سلفی جیسے حضرات شامل ہیں۔
مولانا جتنے اچھے مدرس تھے، اتنے ہی شان دار مقرر۔ دونوں جگہ وہ اپنی الگ پہچان اور امتیازی شان رکھتے تھے۔ ایک کام یاب مقرر کے اندر جتنی باتیں ہونی چاہئیں، ان کے اندر وہ ساری باتیں موجود تھیں۔ قرآن و حدیث کا مضبوط علم، شاعرانہ مزاج، پرکشش آواز، مربوط انداز بیان، با مقصد گفتگو، کبھی طنز و مزاح کی ایسی آمیزش کہ مجلس لالہ زار ہو جائے، کبھی گھن گرج کا ایسا سلسلہ کہ سامعین تھرا جائیں اور کبھی درد و کرب کا ایسا اظہار کہ محفل رقت آمیز ہو جائے۔ یہ محض دعوے نہیں ہیں، بلکہ ان باتوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے والے لوگ آج بھی بنگال، بہار اور جھارکھنڈ سے آسام تک لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ ان کی خطابت کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر رحمت اللہ سلفی لکھتے ہیں: "خطابت کی دنیا میں آپ سند مانے جاتے تھے۔ قرآن و حدیث اور جدید سائنس آپ کے خطاب کا محور ہوتا تھا۔ کسی بھی موضوع پر ان تینوں کو بطور مرجع پیش کرتے۔ اصلاح معاشرہ کے عنوان پر زبردست خطاب کرتے اور آپ کے خطاب سے محظوظ ہونے کے لیے ہر شخص دیوانہ وار کشاں کشاں چلا آتا۔ آپ کا خطاب جلسے کی کام یابی کا ضامن ہوتا۔ پھر بھی نذرانہ کا ڈیمانڈ نہیں کرتے۔"
صالح صاحب کی تقریر کا ذکر ہو اور ان کی بنگلہ نظموں اور اشعار کا ذکر نہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے؟ مولانا کی ایک خاص خوبی یہ تھی کہ وہ دوران تقریر نظموں اور بر محل اشعار کے پیوند سے ایک خاص سماں باندھ دیتے تھے، جس کی منظر کشی کسی صورت ممکن نہیں۔ اصلاح معاشرہ کے الگ الگ پہلؤوں پر کہے گئے ان کے یہ اشعار اور اس پر ان کا ایک خاص انداز پیش کش، 'جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے' جیسی کیفیت پیدا کرتا تھا۔ ڈاکٹر رحمت اللہ سلفی لکھتے ہیں:
" آپ کے شاعرانہ بنگلہ کلام اتنے مشہور ہوئے کہ ہر مقرر کی زبان پر جاری و ساری ہو گئے اور کتنوں نے آپ کے اسلوب خطاب اور شاعرانہ کلام کی نقل اتار کر شہرت حاصل کر لی۔"
آپ کی اصلاحی نظموں کا ایک مجموعہ 'نوتن جوگیر نوتن نیتی' میرے پاس بھی موجود تھا۔ بچپن میں اس کے اشعار خوب مزے لے لے کر پڑھتا تھا۔ بیش تر نظمیں یاد ہو گئیں تھیں۔ آج بھی کبھی کبھی کچھ اشعار بے ساختہ یاد آ جاتے ہیں اور خاص لطف دے جاتے ییں۔
تقریری اور تدریسی مصروفیات کے باوجود قلم و قرطاس سے بھی واسطہ رکھا اور کئی کتابیں تصنیف فرمائیں۔ بنگلہ زبان میں عقیدہء اہل حدیث پر ایک کتاب لکھی۔ اشعار کے مجموعہ کا ذکر ابھی ابھی گزر چکا ہے۔ بنگلہ ہی میں خطبات کا مجموعہ تیار کیا اور اسلام میں عورتوں کے مقام و مرتبہ پر ایک کتاب تصنیف کی۔ اردو میں سلفی دعوت کا تعلیمی نصاب اور عربی میں فقہ الحدیث نامی کتابوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔
آپ کے حسنات میں جامعہ اصلاح المسلمین بھادو کے اندر دار القضاء کا قیام بھی شامل ہے، جس کے تحت بڑی کام یابی کے ساتھ افتا و قضا کا نظام چلایا اور ہزاروں پیچیدہ مسائل، جن میں بطور خاص نکاح و طلاق کے معاملات شامل تھے، حل کیے۔
مولانا کا مطالعہ بڑا وسیع تھا۔ ڈاکٹر رحمت اللہ سلفی لکھتے ہیں: "آپ کا مطالعہ اتنا وسیع اور عمیق تھا کہ کبھی کبھی براہ راست کلاس میں درس دینے لگتے۔ طلبہ 'عرض' کرتے اور آپ مسند پر بیٹھے بغیر چلتے پھرتے عبارت خوانی کی اصلاح، نحوی، صرفی، بلاغی اور حدیثی اغلاط کی نشان دہی کرتے، پھر تنبیہ بلیغ کے بعد شرح و بسط کے ساتھ درس دیتے۔ جس سال ہمیں نحو و صرف کے امام اور ماہر حدیث، شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی کے شاگرد خاص مولانا عبد الستار رحمانی "ہدایة النحو" پڑھا رہے تھے، اسی سال سلفی صاحب 'ہماری دنیا' پڑھاتے تھے۔"
آپ سلفی العقیدہ اور منہج سلف کے مخلص پیروکار تھے اور دو دہائی تک ضلعی جمعیت اہل حدیث مالدہ کی امارت اور نظامت بھی سنبھالی، لیکن اس کے باوجود تحریکیت کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے، بلکہ اس سے متاثر تھے اور تا دم حیات کسی نہ کسی روپ میں اس سے وابستگی برقرار رہی۔
انتظامی امور میں بھی خاصی مہارت رکھتے تھے۔ ڈاکٹر رحمت اللہ سلفی لکھتے ہیں: "جب بھی جامعہ اصلاح المسلمین بھادو میں تعلیم و تربیت، دعوت و تبلیغ اور سیمینار و کانفرنس کے موضوع پر اساتذہ کرام کی میٹنگ ہوتی، تو اس میں خاص طور پر آپ کی رائے کو اہمیت دی جاتی۔" آگے لکھتے ہیں: "کسی علمی و دعوتی پروگرام کی تخطیط مولانا عبد الستار رحمانی کے ساتھ آپ ہی کرتے تھے۔ اسی لیے شیخ عطاء الرحمن مدنی، شیخ عبد الحمید رحمانی، شیخ صفی الرحمن مبارک پوری، ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری، شیخ عبد الوحید رحمانی اور خطیب الاسلام مولانا عبد الرؤوف رحمانی کو ہمیں پہلی مرتبہ دیکھنے کا موقع وہیں ملا۔"
عام عادات و اخلاق کے بارے میں صلاح الدین مہتاب الدین بخاری نے اپنے مقالے خاتمے میں لکھا ہے کہ آپ نرم مزاج، خوش گفتار، اخلاق حسنہ کے پیکر اور جود و سخا اور داد و دہش کے خوگر ہیں۔ گویا آپ نہایت اونچے اور بلند پایہ عادات و خصائل کے مالک ہیں۔ بات بات پر لطیفہ، ضرب المثل اور شعر پڑھتے ہیں۔
مولانا کی شخصیت بڑی گوناگوں خوبیوں کی حامل تھی۔ ہمارے فاضل دوست اور جواں سال قلم کار ظفر شیر شاہ آبادی میری درخواست پر تحریر کردہ اپنے ایک تاثراتی نوٹ میں مولانا کی زندگی کے کچھ پہلؤوں کو اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"سماجی طور پر شیخ بہت ہی فعال رہتے تھے اور عوام کی ہر ضرورت کو سمجھنے والے لیڈر قسم کے انسان تھے۔ وہ صحیح معنوں میں ایک امام تھے، جو اپنی رعایا کے مسائل کو سمجھتے تھے اور ان کو حل کرنے کی ان تھک کوششیں کرتے تھے۔
گاؤں میں جب چوری کی واردات میں اضافہ ہونے لگا، تو شیخ نے اہل قریہ کو اس معاملے میں سوچنے کی دعوت دی اور غور و فکر کے بعد یہ طے کیا کہ ہر قبیلے سے چند افراد کی مختلف ٹکڑیاں بنائی جائیں اور انھیں رات میں نگرانی پر مامور کیا جائے اور ضرورت کے مطابق انھیں کچھ اوزار بھی دیے جائیں۔ ایک عرصے تک یہ نظام چلا۔
اسی طرح گاؤں کے لوگوں کو روز مرہ کی ضروریات کے لیے کافی دور جانا پڑتا تھا۔ تب شیخ نے گاؤں میں ہی ایک بازار لگایا اور الحمد للہ یہ ایک کامیاب بازار ثابت ہوا، جہاں روز مرہ کی ضروریات کے علاوہ چوپایوں کی بھی خرید و فروخت ہونے لگی۔ لیکن شیخ کی زندگی ہی میں چند شر پسند عناصر نے اس بازار کو ختم کرنے کی کوشش کی اور آخرش ان کی آخری عمر میں وہ بازار اٹھ بھی گیا۔
آپ نے جب دیکھا کہ علاقے کی بڑی آبادی میں قرب و جوار میں کہیں کوئی مدرسہ نہیں ہے، تو ایک مدرسے کے قیام پر زور دیا اور پھر لولیاباڑی موضع میں ایک مدرسے قائم ہوا، جسے بعد میں مغربی بنگال حکومت سے منظور کرالیا گیا اور اب لولیا باڑی سینیئر مدرسہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جب اس مدرسے کو سرکاری بنا دیا گیا، تو پھر قریب میں ہی مدرسہ فلاح المسلمین کے نام سے ایک غیر حکومتی مدرسے کا قیام عمل میں آیا، جس کے مؤسسین میں شیخ بھی شامل تھے۔
عوام کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے شیخ ہمیشہ پہلی صف میں بھی سب سے نمایاں نظر آتے تھے۔ علاقے میں ہسپتال کی ضرورت کو سبھی محسوس کر رہے تھے، جس کے لیے شیخ نے کافی کوششیں کیں۔ یہاں تک کہ ہسپتال کے لیے کافی وسیع زمین کا بندوبست بھی کیا، لیکن یہاں کے کچھ موقع پرست لوگوں نے اس کو ہتھیانے کی کوشش کی اور ناکامی کی صورت میں ہسپتال کھلنے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دی۔
اسی طرح شیخ نے علاقے کی ندی پر ایک پل کی تعمیر کے لیے بھی تحریک چلائی اور کافی جد جہد کی، لیکن خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ حالاں کہ بعد میں وہ پل بن کر تیار ہوگیا۔
شیخ علاقے کے قاضی تھے۔ جو ہر قسم کے فیصلوں میں مدعو ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ فتوی و فرائض کا کام بھی انجام دیتے تھے۔ کافی ملنسار بھی تھے اور چنچل مزاج بھی۔ وہ ایک دور اندیش شخص تھے۔ جس کا اندازہ ان کے شعری مجموعے "نوتون جوگیر نوتون نیتی" پڑھنے سے ہوتا ہے۔ اس میں وہ اس زمانے کی برائیوں کی تصویر پیش کرچکے ہیں۔"
مولانا کی ایک بڑی خوش قسمتی یہ بھی رہی کہ ان کے تمام بیٹوں نے اعلی تعلیم حاصل کی۔ بڑے بیٹے محمد نور الھدی ایم ایس سی ہیں۔ دوسرے بیٹے محمد بدر الدجی ندوی محتاج تعارف نہیں۔ تیسرے بیٹے محمد شمس الضحی ایم اے، چوتھے بیٹے ڈاکٹر محمد ابراہیم ایم بی بی ایس اور پانچویں بیٹے ڈاکٹر سعید الرحمن سنابلی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ چھ بیٹیاں بھی عطا ہوئیں، جو سب کی سب بقدر ضرورت دینی و دنیوی علوم سے آراستہ ہیں۔
آسمان علم و فن کا یہ روشن ستارہ ایک بھر پور زندگی گزارنے کے بعد 15/ جولائی 2005 کو ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
اے اللہ! اسلام کی سر بلندی کی خاطر کی گئی اپنے اس بندے کی تمام کوششوں کو قبول فرما اور کہیں کوئی کوتاہی رہ گئی ہو، تو درگزر سے کام لے....!!

0 comments: